Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سورۂ واقعہ،   سورۂ صف،   سورۂ حاقہ اور سورۂ زمر بھی ملا لے توبہت ہی اچھا اور مستحسن ہو گا۔

نمازِ وتر: 

            اب اگر کوئی شخص نمازِ تہجد کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی روایت کی بناپر وتر ادا کر لے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ سیِّدِعالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے وصیت کی کہ میں   وتر پڑھے بغیر نہ سویا کروں  ۔  ([1])

            اگر نمازِ تہجد کا عادی ہو تو نمازِ تہجد کے آخر تک وتر مؤخر کرنا افضل ہے یا پھر وقت ِ سحر تک بھی مؤخر کر سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ صلاۃ اللیل دو دو رکعت ہے اور جب صبح ہونے میں   وقت تھوڑا رہ گیا ہو تو دو رکعتوں   میں   مزید ایک رکعت ملا کر وتر بنا دے۔  ([2])

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے  مروی روایت میں   ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رات کے ابتدائی،   درمیانی اور آخری حصے  (یعنی تینوں   اوقات )  میں   وتر پڑھے ہیں   یعنی وتر کا آخری وقت سحر تک ہے۔  ([3])    

اگر وتر پڑھ کر سو گیا تھا اور پھر نمازِ تہجد کے لئے کھڑا ہوا تو اب دوبارہ وترنہ پڑھے بلکہ وہی پہلے وتر ہی حدیثِ پاک کی وجہ سے  اس کے لئے کافی ہیں  ۔ جیسا کہ مروی ہے کہ’’ایک رات میں   دو وتر نہیں  ۔ ‘‘   ([4])

وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا سنت ہے: 

            شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وتر کے بعد دو رکعت نماز بیٹھ کر ادا فرمایا کرتے تھے۔ ([5])

            پس چاہئے کہ ان دو رکعتوں   میں   بیٹھ کر سورۂ زلزال اور سورۂ تکاثر پڑھے،   اس بارے میں   دو احادیث ِ مبارکہ مروی ہیں  ۔ چنانچہ ایک روایت میں   ہے کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان دو رکعتوں   میں   یہی دو سورتیں   تلاوت فرمایا کرتے کیونکہ ان سورتوں   میں   خوفِ الٰہی اور وعظ و نصیحت ہےاور دوسری روایت میں    (سورۂ تکاثر کی جگہ)   (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ (۱) )  پڑھنا مروی ہے کیونکہ سورۂ کافرون میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے علاوہ تمام معبودانِ باطلہ سے  براءَ ت اور عبادت کا صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کے لئے ثابت ہونا ہے۔([6]) دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوتے وقت سورۂ کافرون پڑھا کرتے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو سوتے وقت اس کے پڑھنے کی وصیت بھی فرمائی۔  ([7])

            جو صلوۃ اللیل کا عادی نہ ہو اور جس پر نیند غالب آ جاتی ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ سونے سے  قبل وتر پڑھ لے اور جو طلوعِ فجر سے  قبل نمازِ تہجد کا عادی ہو تو بہتر ہے کہ وتر مؤخر کردے۔ وتر کے سلام کے بعد یہ دعا تین مرتبہ مانگنی چاہئے: 

  (سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ،   رَبُّ الْمَلَآئِكَۃِ وَالرُّوْحِ،   جَلَّلْتَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ بِالْعَظَمَۃِ وَالْجَبَرُوْتِ وَتَعَزَّزْتَ بِالْقُدْرَۃِ وَقَہَّرْتَ الْعِبَادَ بِالْمَوْتِ)   ([8])

تر جمعہ :  پاک ہے بادشاہ جو فرشتوں   اور روح کا پَرْوَرْدگار ہے،   اے اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  ! تونے آسمانوں   اور زمین کو اپنی عظمت و جبروت کے ساتھ ڈھانپ لیا اور تو اپنی قدرت سے  غالب ہوا اور بندوں   پر تونے ہی موت مسلط فرمائی۔

            یہ رات کا دوسرا وظیفہ ہے جس کا وقت نمازِ عشاکے بعد لوگوں   کے سونے تک ہے،   جس کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   قسم کے ساتھ کچھ یوں   فرمایا ہے: 

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ (۱۷)  (پ۳۰،  الانشقاق:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور  (مجھے قسم ہے)  رات کی اور جو چیزیں   اس میں   جمع ہوتی ہیں  ۔

            اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا:   

اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ (پ۱۵،  بنی اسرائیل:  ۷۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: رات کی اندھیری تک ۔

رات کی نیند کی اہمیت: 

            اس کے بعد اگر چاہے تو سو جائے لیکن بہتر یہ ہے کہ باوضو ذکر کرتا ہوا سوئے۔ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے متعلق مروی ہے کہ جب نیند غالب آتی تب ہی سوتے اور جان بوجھ کر سونے کو یعنی عادت بنالینے کو ناپسند خیال کرتے اور بعض اس لئے سوتے تا کہ نیند سے  رات کے درمیانی اور آخری حصہ میں  نماز پڑھنے پر قوت و توانائی حاصل کر سکیں   کیونکہ اس



[1]     صحيح البخاری، کتاب الصوم، باب صيام البيض     الخ، الحديث: ۱۹۸۱، ص۱۵۵ مفهوماً

[2]     صحيح البخاری، کتاب الصوم، کتاب الوتر، باب ما جاء فی الوتر، الحديث: ۹۹۰، ص۷۸

[3]     صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين و قصرها، باب صلاة الليل و عدد رکعات    الخ، الحديث: ۱۷۳۷، ص۷۹۴

[4]     سنن ابی داود، کتاب الوتر، باب فی نقض الوتر، الحديث:۱۴۳۹، ص۱۳۳۰

[5]     المعجم الاوسط، الحديث: ۸۱۳۴، ج۶، ص۹۷

[6]     اتحاف السادة المتقين، کتاب ترتيب الاوراد، بيان اوراد الليل، ج۵، ص۴۶۷

[7]     المعجم الکبير، الحديث: ۳۷۰۸، ج۴، ص۸۱ السنن الکبریٰ للنسائی،کتاب عمل اليوم والليلة،باب قراء ة قل يايها الکافرون، الحديث: ۱۰۶۳۶،ج۲،ص۲۰۰ مفهوماً

[8]     جمع الجوامع، قسم الاقوال، حرف الهمزة، الحديث: ۳۸۳۴،ج۲، ص۵۳    المحاسبة، الجزء الثانی عشر، الحديث: ۱۶۴۸،ج۲، ص۱۵۴



Total Pages: 332

Go To