Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

صلاۃ اللیل کی رکعات کی تعداد: 

            اگر ان چار رکعتوں   کے بعد مزید تیرہ رکعتیں   بشمول وتر ادا کرے تو زیادہ پسندیدہ بات ہے کیونکہ اکثر روایات میں   ہے کہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے وقت اتنی مقدار میں   نماز ادا فرمایا کرتے،   ہاں   ایک روایت میں   سترہ رکعتیں   بھی مروی ہیں  ۔ مگر مشہور یہی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگیارہ یا تیرہ رکعت ادا فرمایا کرتے تھے،   ہو سکتا ہے کہ بعضنے فجر کی دو رکعت سنتوں   کو بھی ساتھ میں   شمار کر لیا ہو (اور اس طرح تعداد تیرہ ہو گئی ہو) ۔

صلاۃ اللیل میں   مستحب  قراءَ ت: 

            صلاۃ اللیل میں   درج ذیل تین سو یا اس سے  زائد آیات تلاوت کرنا مستحب ہے۔ اگر اسنے ایسا کیا تو غافلین میں   شمار نہ ہو گا بلکہ اس کا شمار عابدین میں   ہو گا۔ چنانچہ منقول ہے کہ عقل مند و دانا افراد رات کے ابتدائی اوقات اختیار کرتے ہیں   اور قوی و توانا افراد اپنے اوراد و وظائف رات کے آخری حصے میں   ادا کرتے ہیں  ۔   ([1])

٭  اگر کوئی سورۂ فرقان اور سورۂ شعراء تلاوت کرے تو بہتر ہے کیونکہ ان کی آیات 300 ہیں  ۔

٭ اگر ان آیاتِ مبارکہ کی تلاوت نہ ہو سکے تو طوال مفصل   ([2])  میں   سے  ایسی پانچ سورتیں   پڑھ لے جن کی آیات

300 ہوں   یعنی سورۂ واقعہ،   سورۂ نون،   سورۂ حاقہ،   سورۂ مدثر اور سورۂ سَئَلَ سَائِلٌ  (یعنی سورۂ معارج) ۔

٭ اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر سورۂ طارق سے  لے کر سورۂ ناس تک پڑھ لے کیونکہ یہ بھی تقریباً 300 آیات ہیں  ۔

٭ یہ مناسب نہیں   کہ بندۂ مومن نمازِ عشا کے بعد مذکورہ رکعات میں   اتنی مقدار تلاوت کرنے سے  قبل سو جائے اور اگر کوئی نمازِ عشا کے بعد سونے سے  قبل ایک ہزار آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرے تو وہ کامل فضیلت پانے والا ہو گا اور اس کے لئے ایک قِنطار  (ایک وزن ہے جو مختلف ملکوں   میں   مختلف ہوتا ہے)  اجر لکھا جائے گا۔ نیز اسے  قَانِتِین  (اطاعت گزاروں  )  میں   شمار کیا جائے گا۔

٭ حروف کی زیادتی کی وجہ سے  لمبی آیات کی تلاوت کرنا زیادہ بہتر ہے اور اگر کوئی سستی کی وجہ سے  چھوٹی آیات پر اکتفا کر لے تو بھی ہزار کی تعداد پوری ہونے کی وجہ سے  فضیلت حاصل کر لے گا۔ سورۂ ملک سے  لے کر آخر قرآن تک ایک ہزار آیات بن جاتی ہیں  ۔

٭ اگر یہ تلاوت نہ کر سکے تو پھر  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) )  دو سو پچاس  (۲۵۰)  مرتبہ تیرہ رکعتوں   میں   پڑھ لے۔ کیونکہ اس طرح بھی ایک ہزار آیات مکمل ہو جائیں   گی،   اس کی بھی بہت فضیلت مروی ہے۔ چنانچہ،   

            حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ جو سورۂ اخلاص دس مرتبہ پڑھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اس کے لئے جنت میں   ایک محل بنا دیتا ہے۔

رات کے وقت تلاوتِ قرآنِ کریم میں   سنت: 

          اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  روزانہ تلاوت کی جانے والی سورتوں   کے بارے میں   تین احادیث مروی ہیں  :  (۱)  …سب سے  زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ سوتے یہاں   تک کہ سورۂ سجدہ اور سورۂ ملک تلاوت فرما لیا کرتے۔ ([3])   (۲) …اس کے بعد جو روایت زیادہ مشہور ہے وہ یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر رات سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر تلاوت فرمایا کرتے تھے۔  ([4]) اور (۳) … تیسری روایت جو اسی قدر مشہور ہے اس میں   ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر رات مُسَبَّحَات  ([5]) سورتوں   کی تلاوت فرمایا کرتے اور ارشاد فرمایا کرتے کہ ان سورتوں   کی تلاوت کرنا ایک ہزار آیات کی تلاوت سے  بہتر ہے۔ ([6])

            ایک قول کے مطابق علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے ان کو چھ شمار کیا ہے اور ان میں    (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ (۱) )  کا اضافہ کیا ہے۔ چنانچہ،   

            ایک روایت میں   ہے کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ (۱) )  کو پسند فرمایا کرتے تھے جو اس بات پر دلیل ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثر اس کی قِراءت فرمایا کرتے۔ ([7])

            پس بندے کو چاہئے کہ رات کو ان چار سورتوں   کی قِراءت کبھی بھی ترک نہ کرے:  (۱)  سورۂ یس  (۲)  سورۂ لقمان  (۳)  سورۂ دخان اور  (۴)  سورۂ ملک۔ اگر ان کے ساتھ



[1]     المطالب العالية، کتاب النوافل، باب الوتر، الحديث: ۶۴۸، ج۲، ص ۲۶۸ مفهوماً

[2]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَه 546 پر حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی   فرماتے ہیں  : حجرات سے آخر تک قرآن مجید کی سورتوں   کو مفصل کہتے ہیں  ، اس کے یہ تین حصّے ہیں  ، سورۂ حجرات سے بروج تک طوال مفصل اور بروج سے لم یکن تک اوساط مفصل اور لم یکن سے آخر تک قصار مفصل۔

[3]     جامع الترمذی، ابواب فضآئل القران، باب ما جاء فی فضل سورة الملک، الحديث: ۲۸۹۲، ص ۱۹۴۲

[4]     المرجع السابق، باب قراء ة سورة بنی اسرآئيل     الخ، الحديث: ۲۹۲۰، ص ۱۹۴۵

[5]     مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان ”مراٰة المناجیح“جلد 3صفحہ 247 پر مُسَبّحَات کی شرح میں   فرماتے ہیں  کہ جن سورتوں   کے اول میں   سَبَّحَ یا یُسَبِّحُ یا سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ یا سَبِّحْنَ ہے وہ سورتیں   پڑھتے تھے یہ سورتیں   کل سات ہیں   سورۂ اسراء، حدید، حشر، صف، جمعہ، تغابن، اعلیٰ۔

[6]     جامع الترمذی، ابواب فضآئل القران، باب سورة بنی اسرآئيل     الخ، الحديث: ۲۹۲۱، ص ۱۹۴۵

[7]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند علی، الحديث : ۷۴۶، ج۱، ص۲۰۶



Total Pages: 332

Go To