Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اس کے بعد مغرب اور عشا کے درمیان شفقِ ثانی ([1])  غروب ہونے تک جس قدر ممکن ہو نَفْل نماز پڑھتا رہے اور یہی عشا کا وقت ہے۔

مذکورہ وقت کا قرآنِ کریم میں   تذکرہ: 

            یہ رات کے وظائف میں   سے  پہلے وظیفہ کا اختتامی وقت ہے اور اس وقت نماز پڑھنا رات کی ساعتوں   ہی میں   نماز پڑھنا ہے کیونکہ یہ رات کی ان ساعتوں   میں   سے  پہلی ساعت ہے جن کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یوں   فرمایا ہے:

 (1)  وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ (پ۱۶،  طه:  ۱۳۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور رات کی گھڑیوں   میں   اسکی پاکی بولو۔

 (2)  فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ (۱۶)   (پ۳۰،  الانشقاق:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو مجھے قسم ہے شام کے اجالے کی۔

            یہاں   مغرب و عشا کا درمیانی وقت مراد ہے،   یہ صلاۃ الاوّابین  کا وقت ہے اور اسے  صلاۃ الغفلۃ  بھی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  روایت کرتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے فرمانِ عالیشان  (تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (پ۲۱،  السجدة:  ۱۶)  )   ([2]) سے  مراد مغرب اور عشا کی درمیانی نماز ہے۔

نمازِ مغرب و عشا کے درمیان سونا: 

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  جب مغرب اور عشا کے درمیان سو جانے والے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے کیونکہ یہ ایک ایسی ساعت ہے جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مومنین کے قیام کرنے کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا ہے:  (تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (پ۲۱،  السجدة:  ۱۶)  )  یعنی وہ مغرب و عشا کے درمیان نماز پڑھتے رہتے ہیں  ۔

صلاۃُ الْا َوَّابین کی فضیلت: 

            سرکارِ مدینہ،   قرار قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے   (تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ)  کے متعلق دریافت کیا گیاتوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس سے  مراد مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھنا ہے۔ ‘‘   ([3]) اور ایک روایت میں   ارشاد فرمایا:  ’’ تم پر مغرب اور عشا کی درمیانی نماز کی حفاظت لازم ہے،   کیونکہ یہ نماز اوّل دن کی لغویات کو ختم کرتی ہے اور آخر دن کو مہذب بناتی ہے۔ ‘‘   ([4])

            مراد یہ ہے کہ یہ نماز بندے سے  باطل اور لہو و لعب دور کر دیتی ہے اور بندے کے باطن کو پاکیزہ بناتی ہے۔ اس وقت میں   یعنی مغرب و عشا کے دوران مسجد میں   نماز اور تلاوتِ قرآنِ کریم کی غرض سے  اعتکاف کرنا مستحب ہے کہ اس کی فضیلت بھی مروی ہے،   ہاں   اگر مسجد میں   کسی لغو کام میں   مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو اور اس کا گھر ان امور سے  بچنے کے لئے زیادہ محفوظ ہو تو جو جگہ زیادہ محفوظ ہو وہی زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔

رات کا دوسرا وظیفہ: 

            اس کے بعد نمازِ عشا سے  قبل چار رکعت اور اس کے بعد پہلے دو پھر چار رکعت ادا کرے۔

عشا کے بعد گھر میں   چار رکعت پڑھنے کی فضیلت: 

            منقول ہے کہ نمازِ عشا کے بعد گھر میں   چار رکعت ادا کرنا شبِ قدر میں   نماز پڑھنے کی طرح ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھر میں   داخل ہو کر بیٹھنے سے  پہلے چار رکعت ادا فرمایا کرتے۔  ([5])

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر فرض نماز کے بعد اتنی ہی تعداد میں   رکعتیں   ادا کرنے کو ناپسند جانتے۔ چنانچہ بزرگانِ دین اس بات کو مستحب خیال کرتے کہ فرض نماز کے بعد دو رکعت ادا کرنے کے بعد پھر چار رکعت ادا کی جائیں  ۔   ([6])

            اگر کوئی ان چار رکعتوں   میں   درج ذیل آیاتِ کریمہ پڑھے تو یہ زیادہ بہتر ہے:

 (۱) … پہلی رکعت میں   آیت الکرسی اور اس کے بعد والی دو آیات  (۲) … دوسری رکعت میں   سورۂ بقرہ کی آخری آیت سے  پہلی دو آیتیں    (۳) … تیسری رکعت میں   سورۂ حدید کی ابتدائی چھ آیات اور  (۴) … چوتھی رکعت میں   سورۂ حشر کی آخری تین آیتیں  ۔

 



[1]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینه کی مطبوعه 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَه 55 پر ہے: شفق ہمارے مذہب میں   اس سپیدی کا نام ہے جو جانب مغرب میں   سرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے۔

[2]     ترجمهٔ کنز الایمان: ان کی کروٹیں   جدا ہوتی ہیں   خوابگاہوں   سے۔

[3]     موسوعة لابن ابی الدنيا، کتاب التهجد وقيام الليل، الحديث: ۴۹۱، ج۱، ص ۳۴۵

[4]     الفردوس بماثور الخطاب، الحديث:۳۰۲۹،  ج۳،  ص۱۸ تهذب بدله مهدنة

[5]     عوارف المعارف، الباب السابع والاربعون فی ادب الانتباه من النوم و العمل بالليل،ص ۲۱۶

[6]     المصنف لابن ابی شيبة، کتاب صلاة التطوع الامامة، باب من کره ان يصلی     الخ، الحديث:۴، ج۲، ص۱۱۱



Total Pages: 332

Go To