Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

بِیْنٍ (۱۶۴)   (پ ۴،   اٰل عمران:  ۱۶۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں   پر کہ ان میں   انہیں   میں   سے  ایک رسول بھیجا جو ان پر

اس کی آیتیں   پڑھتا ہے اور انہیں   پاک کرتا اور انہیں   کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے  پہلے کھلی گمراہی میں   تھے۔

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ”میں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  دو طرح کا علم حاصل کیا،   ایک کو میں  نے لوگوں   میں   پھیلا دیا جبکہ دوسرے کو اگر میں  نے ظاہر کیا تو قُطِعَ هٰذَا الْبُلْعُومُ یہ گلا کاٹ دیا جائے گا۔“ ([1])

مُفَسِّرِ شَھِیر،   حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں   فرماتے ہیں کہ ”مجھے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے  دو قسم کے علم ملے،   ایک علم شریعت جو میں نے تمہیں   بتا دیا۔ دوسرا علم اسرار و طریقت و حقیقت کہ اگر وہ ظاہر کروں   تو عوام نہ سمجھیں   اور مجھے بے دین سمجھ کر قتل کر دیں  ۔“ مزید فرماتے ہیں  : ”اس حدیث سے  چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ شرعی مسئلے بے دھڑک بیان کیے جائیں   مگر تصوف کے اسرار نااہل کو نہ بتائے جائیں  ۔ دوسرے یہ کہ غیر ضروری چیزیں   جن کے اظہار سے  فتنہ پھیلتا ہو ہر گز ظاہر نہ کی جائیں ۔“ ([2])

معلوم ہوا کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے  دو علوم سیکھے،   یعنی ایک علمِ قال اور دوسرا علم حال مگر یہ صرف حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہی خاصہ نہیں   تھا بلکہ دوسرے کئی صحابۂ  کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی بخوبی علم الٰہی سے  آگاہ تھے۔ چنانچہ،   

 حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ جب امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’میرے خیال میں   وہ علم کے دس میں   سے  نو حصے اپنے ساتھ ہی لے گئے ہیں  ۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  پوچھا گیا کہ آپ ایسا کیسے  کہہ سکتے ہیں   جبکہ ہم میں   جلیل القدر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ابھی موجود ہیں  ۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’میری مراد وہ علم نہیں   جو تم سمجھ رہے ہو،   بلکہ میری مراد تو علمِ الٰہی ہے۔ ‘‘   ([3])

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں   سے  اگرچہ بعض حضرات ایسے  بھی تھے جنہیں   ایک خاص قسم کا علم خصوصیت کے ساتھ حاصل تھا۔ مثلاً حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حضور نبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آنے والے فتنوں   اور منافقین کے ناموں   کا علم عطا فرمایا تھا اور یہی وجہ ہے کہ انہیں   رازدانِ رسول بھی کہا جاتا یہاں   تک کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ان سے  دریافت فرمایا کرتے تھے کہ کہیں   وہ تو ان منافقین میں   سے  نہیں  ۔

علم الٰہی کو علم یقین بھی کہا جاتا ہے اور صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان یقین کے جس مرتبے پر فائز تھے اسے  اس روایت سے  بخوبی جانا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ایک انصاری صحابی حضرت سیِّدُنا حَارِثَة بن نُعْمَان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  دریافت فرمایا: اے حارثہ! صبح کیسے  کی؟ تو حضرت سیِّدُنا حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا یعنی میں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر سچے ایمان کی حالت میں   صبح کی۔ تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اے حارثہ! اُنْظُرْ مَا تَقُولُ؟ دیکھ کیا کہہ رہا ہے؟ بے شک  ہر ایک شے کی کوئی نہ کوئی حقیقت ہوتی ہے،   تیرے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ تو حضرت سیِّدُنا حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: میرے نفسنے دنیا سے  منہ پھیر لیا ہے  (اب میری نظر میں   دنیا و مافیہا کی کوئی حیثیت نہیں  )  میں    (محبت ِ الٰہی کے جام پینے کے لیے)  رات بھر جاگتا رہتا ہوں   اور دن بھر پیاسا رہتا ہوں    (کہ کب رات ہو گی؟) ۔ میری یہ کیفیت ہے گویا کہ میں   عرشِ الٰہی کو اپنے سامنے دیکھتا ہوں  ،   جنتیوں   کو جنت میں   ایک دوسرے سے  ملتے ہوئے او راہل جہنم کو چلاّتے ہوئے دیکھتا ہوں  ۔ تو اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اَبْصَرْتَ فَالْزَم۔ اے حارثہ! تونے  (حق کو کھلی آنکھوں   سے )  دیکھ لیا ہے،   اب اس کو مضبوطی سے  تھام لے۔ اور ایک روایت میں   ہے: عَرَفْتَ فَالْزَم ۔ یعنی اے حارثہ! تجھے عرفانِ الٰہی کی دولت نصیب ہو گئی ہے اب اس کو مضبوطی سے  تھامے رہنا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو بار یہ ارشاد فرمایا اور مزید فرمایا کہ حارثہ ان لوگوں   میں   سے  ہے جن کے دلوں   میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے نورِ ایمان کی شمع فروزاں   کر رکھی ہے۔ چنانچہ ایک دن صبح کے وقت اچانک جہاد کا اعلان ہوا تو یہی حضرت سیِّدُنا حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سب سے  پہلے گھوڑے پر سوار ہو کر نہ صرف میدانِ جہاد میں   پہنچے بلکہ سب سے  پہلے اپنی جان بھی جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ ان کی شہادت کی خبر سن کر ان کی والدہ ماجدہ بارگاہِ نبوت میں   حاضر ہوئیں   اور عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے میرے لخت ِ جگر کے متعلق بتائیے وہ کہاں   ہے؟ اگر جنت میں   ہے تو نہ میں   اس پر رؤوں   اور نہ غم زدہ ہوں   اور اگر جہنم میں   ہے تو جب تک میں   زندہ ہوں   اس پر روتی رہوں  ۔ تو محسنِ کائنات،   فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اے حارثہ کی ماں  ! جنت ایک نہیں   بلکہ بہت سی ہیں   اور حارثہ تو جنت کے سب سے  اعلیٰ مقام یعنی فردوسِ اعلیٰ میں   ہے۔ ([4] )

٭٭٭

دوسرا مرحلہ

تَصَوُّفْ

 



[1]    صحيح البخاري، کتاب العلم، باب حفظ العلم، الحدیث: ۱۲۰، ج۱، ص۶۳

[2]    مراۃ المناجیح، ج۱، ص۲۲۷

[3]    قوت القلوب، الفصل الحادی والعشرون، ج ۱، ص ۲۴۱

[4]    شعب الایمان، الحدیث: ۱۰۵۹۰، ۱۰۵۹۱، ج۷، ص۳۶۲، ۳۶۳

 



Total Pages: 332

Go To