Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں   پر اس امید پر کہ تم راضی ہو۔

غروب آفتاب سے  پہلے کے مستحب معمولات: 

            سورج غروب ہونے سے  پہلے یہ سورتیں   پڑھنا مستحب ہے : 

 (وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَاﭪ (۱) ) ،    (وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَاﭪ (۴) )  اور مُعَوَّذَتَیْن  (یعنی سورئہ فلق اور سورئہ ناس) ۔

            جب سورج غروب ہو رہا ہو تو استغفار پڑھنا چاہئے کہ اس وقت یہی ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ہر وہ تسبیح وحمد اور دعا و ذکر جو دن کی ابتدا میں   طلوعِ آفتاب کے وقت مستحب ہے اسے  غروب آفتاب سے  قبل پڑھنا بھی مستحب ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں   اوقات کا تذکرہ ایک ساتھ فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

 (1)  وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ- (پ۱۶،  طه:  ۱۳۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنے ربّ کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے  پہلے اور اس کے ڈوبنے سے  پہلے۔

 (2)   وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى (۱۳۰)  (پ۱۶،  طه:  ۱۳۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور دن کے کناروں   پر اس امید پر کہ تم راضی ہو۔

 (3)  وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ (۵۵)  (پ۲۴،  المومن:  ۵۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنے ربّ کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو ۔

 (4)  قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ (۱)  مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ (۲)  وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ (۳)  (پ۳۰،  الفلق:  ۱ تا ۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ میں   اس کی پناہ لیتا ہوں   جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے ۔ اس کی سب مخلوق کے شر سے  اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے  جب وہ ڈوبے ۔

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  بہتر یہ ہے کہ بندہ اس وقت دوبارہ وہی اوراد و وظائف پڑھ لے جن کا تذکرہ ہم نے پہلے وظیفے میں   کیا ہے۔

اذانِ مغرب و فجر کے بعد کی دعا: 

            مغرب کی اذان کے بعد یہ پڑھئے:

 (اَللّٰہُمَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِكَ وَاِدْبَارُ نَہَارِكَ وَاَصْوَاتُ دُعَاتِكَ وَحُضُوْرُ صَلَاتِكَ وَشُہُوْدُ مَلٰٓـئِكَتِكَ،   صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰۤی اٰلِہٖ وَاَعْطِہِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ)

تر جمعہ : اے اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  ! یہ وقت تیری رات کے آنے اور دن کے جانے کا ہے اور تیری دعوت دینے والوں   کی آوازوں    (یعنی اذانوں  ) ،   نماز اور فرشتوں   کی حاضری کا وقت ہے،   پس اے میرے پَرْوَرْدگار! حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی آل پر درود بھیج اور انہیں   وسیلہ و فضیلت کا مقام عطا فرما اور انہیں   اس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تونے ان سے  وعدہ فرمایا ہے۔

            اس کے بعد تین مرتبہ یہ پڑھئے جیسا کہ حدیث ِ پاک میں   مروی ہے:  (رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًاوَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیا)   ([1])   تر جمعہ : میں   اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  کے ربّ ہونے،   اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوا۔

            اذانِ فجر کے بعد وہی الفاظ پڑھئے جو اذانِ مغرب کے بعد پڑھے جاتے ہیں   لیکن یاد رکھئے کہ  (اَللّٰہُمَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِكَ وَاِدْبَارُ نَہَارِكَ) کے بجائے یہ پڑھا جائے: (اَللّٰہُمَّ ھٰذَا اِدْبَارُ لَیْلِكَ وَاِقْبَالُ نَہَارِكَ)  

تر جمعہ : اے اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  ! یہ وقت تیری رات کے جانے اور دن کے آنے کا ہے۔

نوٹ: یاد رہے کہ مذکورہ دعا صرف نمازِ مغرب کے متعلق مروی ہے۔

معمولاتِ اسلاف کی کیفیت: 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرمایا کرتے تھے کہ بعض بزرگا نِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن  شام کے وظائف میں   انتہائی شدت سے  کام لیتے اور بعض دن کے ابتدائی وظائف میں   سختی کرتے تھے اور بعض کے متعلق منقول ہے کہ وہ دن کے ابتدائی حصے کو دنیاوی معاملات کے لئے اور آخری حصے کو آخرت کے لئے مقرر فرماتے۔  ([2])

            پس جب سورج چھپ جائے تو دن کے سات اوراد و وظائف کا وقت بھی ختم ہو گیا۔

مقامِ فکر: 

            اے بندۂ مسکین! ذرا غور کر کہ تونے اس دن میں   کیا پایا؟ کیا کھویا؟ اور نجانے تیرے متعلق کیا فیصلہ ہوا؟ تیری عمرِ عزیز کا ایک حصہ ختم ہو گیا اور تیری زندگی کے ایام میں   سے  ایک دن ختم ہو گیا۔  (اب سوچ کہ)  تونے کتنا سفر طے کر لیا؟ اور جو دن کم ہو گیا ہے اس میں   اگلے دن کے لئے کیا بچایا؟

            سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان باقرینہ ہے:  ’’ لوگ اس حال میں   صبح کرتے ہیں   کہ وہ اپنے نفس کو  (نارِ دوزخ سے )  آزاد کر دیتے ہیں   یا پھر اسے  گروی رکھ کر



[1]     کتاب الدعاء للطبرانی، باب القول عند الاذان، الحديث: ۴۳۵، ص۱۵۴

                                                سنن النسائی، کتاب الاذان، باب الدعاء عند الاذان، الحديث: ۶۸۰،۶۸۱، ص ۲۱۳۰

[2]     اتحاف السادة المتقين، کتاب ترتيب الاوراد، بيان اعداد الاوراد، ج۵، ص۴۵۳



Total Pages: 332

Go To