Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ (۱۵)  (پ۱۳،  الرعد:  ۱۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں   جتنے آسمانوں   اور زمین میں   ہیں   خوشی سے  خواہ مجبوری سے  اور ان کی پرچھائیاں   ہر صبح و شام۔

            یہ بات کتنی بری ہے کہ بے جان و مردہ اشیاء تو اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں   سجدہ ریز ہوں   اور اس کے ذکر میں   مشغول ہوں   لیکن جیتا جاگتا انسان اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  سے  غافل ہو۔

دن کا چھٹا وظیفہ: 

            اس کے بعد نمازِ عصر سے  قبل چار رکعت ادا کرے اور اَذان و اِقامت کے درمیان نماز کو غنیمت جانے جیسا کہ ابھی پانچویں   وظیفہ میں   تذکرہ ہوا کہ اس میں   ایک مقبول ساعت ہے۔ پس جب وقتِ عصر شروع ہوتا ہے تو دن کے چھٹے وظیفے کا وقت بھی شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وقت کا تذکرہ پارہ 30سورئہ عصر کی پہلی آیتِ مبارکہ  (وَ الْعَصْرِۙ (۱) )  میں   قسم کے ساتھ فرمایا ہے۔ آیتِ کریمہ کی ایک تفسیر کے مطابق یہاں   وقت ِ عصر مراد ہے اور قرآنِ کریم میں    (اٰصال)  کے متعلق مروی ایک قول میں   یہی وقت مراد ہے،   نیز اس وقت کو عَشِیّکے نام سے  بھی یاد کیا گیا ہے کہ جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی تسبیح و تنزیہ اور حمد بیان کی جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ (۱۸)  (پ۲۱،  الروم:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کچھ دن رہے اور جب تمہیں   دوپہر ہو۔

            اس وظیفہ میں   اَذان و اِقامت کے مابین چار رکعت  (سنت ِ غیر مؤ کدہ)  کے علاوہ کوئی نماز نہیں   ہے،   البتہ نمازِ عصر کے بعد جو چاہے ظاہری و باطنی عبادت کرے،   خواہ ایسا کرنا اس پر فرض ہو یا مستحب۔ افضل یہ ہے کہ غور و فکر اور ترتیل کے ساتھ  (یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر)  قرآنِ کریم کی تلاوت کرے اور متشابہ آیات میں   منقول تاویلات کو پیشِ نظر رکھے۔

دن کا ساتواں   وظیفہ: 

            جب سورج زردی مائل ہو جائے اور اس کی حرارت ختم ہو جائے اور وہ دیواروں   کے اَطراف اور درختوں   کے سَروں   کی مقدار بلند رہ جائے یعنی اس کی حالت طلوع جیسی ہو جائے تو یہ وقت دن کے ساتویں   وظیفے کے آغاز کا ہے۔ اس وقت ذکروتسبیح اور تلاوت و استغفار وغیرہ کرے یہاں   تک کہ سورج غروب ہو جائے۔

طلوع وغروبِ آفتاب کے وقت افضل عمل: 

            اس وقت اور اس جیسے  یعنی ابتدائے دن کے وقت سب سے  افضل عمل یہ کہنا ہے:

 (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِذَنْۢبِیْ وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ بِحَمْدِ رَبِّیْ)  

تر جمعہ : میں   اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  سے  اپنے گناہوں   کی مغفرت طلب کرتا ہوں   اور پاک ہے اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  اپنی حمد کے ساتھ۔

            یہ اس لئے پڑھے تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح  (پاکی بیان کرنا)  اور استغفار  (مغفرت چاہنا)  دونوں   ایک ہی کلمے میں   جمع ہو جائیں   جیسا کہ قرآنِ کریم میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے:

وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ (۵۵)   (پ۲۴،  المومن:  ۵۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنوں   کے گناہوں   کی معافی چاہو اور اپنے ربّ کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو۔

            اور اگر یہ استغفار پڑھے تو بھی بہتر ہے کیونکہ اس کی فضیلت آثار میں   مروی ہے:  (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْحَیَّ الْقَیُّوْمَ وَاَسْاَلُہُ التَّوبَۃَ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ)  تر جمعہ : میں   اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  سے  مغفرت طلب کرتا ہوں   جو خود زندہ اور دوسروں   کو قائم رکھنے والا ہے اور اس سے  توبہ  کا سوال کرتا ہوں   ،   پاک ہے عظمتوں   والا اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  اپنی حمد کے ساتھ۔سب سے  بہتر استغفار وہ ہے جو اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہو جیسا کہ قرآنِ کریم میں   اس کی مثالیں   موجود ہیں  :

 (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ اِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا،   اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ اِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا،   اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ،   اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ التَّوَّابَ الرَّحِیْمَ،  رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ،  فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا،   وَاَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ)

تر جمعہ : میں   اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  سے  مغفرت طلب کرتا ہوں   کیونکہ وہی غفار ہے،   میں   اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  سے  بخشش چاہتا ہوں   کیونکہ وہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہے،   اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  سے  معافی چاہتا ہوں   کیونکہ وہی غفور ہے،   اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ  سے  مغفرت چاہتا ہوں   کیونکہ وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے،   اے میرے پَرْوَرْدگار! مغفرت فرما اور رحم فرما اور تو ہی سب سے  بہتر رحم فرمانے والا ہے،   پس ہمیں   بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو ہی سب سے  بہتر بخشنے والا ہے۔

            اس وظیفہ کی فضیلت بھی وہی ہے جو طلوعِ فجر سے  لے کر طلوعِ آفتاب تک کے وظیفہ کی ہے۔ یہی شام کا وہ وقت ہے جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی پاکی بیان کرنے کا تذکرہ کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: 

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (۱۷)  (پ۲۱،  الروم:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور جب صبح ہو۔

            یہاں   فعل  (سَبِّحُوْا یعنی پاکی بولو)  کی جگہ اسم  (سُبْحَان یعنی پاک)  ذکر فرمایا گیا ہے اور یہی وقت دن کا دوسرا کنارہ ہے جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پاکی بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔چنانچہ،   ارشاد فرمایاـ:

فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى (۱۳۰)  (پ۱۶،  طه:  ۱۳۰)

 



Total Pages: 332

Go To