Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

مکروہ اوقات: 

            جب سورج عین سر کے اوپر ہو تو بندے کو چاہئے کہ نماز کی ادائیگی سے  بچے،   یہ زوالِ شمس سے  پہلے کا وہ وقت ہے جب ہر شے کا سایہ سمٹ کر اس کے پاؤں   تلے ہوتا ہے۔ پس جب سایہ ڈھلنے لگتا ہے تو زوالِ شمس بھی شروع ہو جاتا ہے۔ استواءِ شمس موسمِ سرما میں   دن کے چھوٹے ہونے اور سورج کے آسمان کے وسط سے  ہٹ کر چلنے کی وجہ سے  انتہائی کم ہوتا ہے ،   بلکہ سورج اس موسم میں   اُفق میں   عرضاً چلتا ہے اور غروب کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہٰذا اس موسم میں   استواءِ شمس کا اندازہ اسی حساب سے  لگایا جا سکتا ہے جتنی مقدار میں   قرآنِ کریم کے ایک پارے کی یا اس کے برابر قراءَت سے  چار رکعت نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ دن کے تیسرے وظیفہ کے اختتام کا اصل وقت استوائِ شمس ہی ہے۔

اوقاتِ مکروہہ اور ان میں   مستحب عمل: 

            جب سورج عین سر کے اوپر ہو تو تلاوت کرنا،    ([1])   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی پاکی بیان کرنا اور فکر آخرت کرنا مستحب ہے ۔

            یہ وقت ان پانچ اوقاتِ مکروہہ ([2])  میں   سے  ایک ہے جن میں   سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھنے سے  منع فرمایا ہے۔ باقی چار اوقات یہ ہیں  :  (۱)  طلوعِ شمس کا وقت۔ یہاں   تک کہ سورج دو نیزوں   کی مقدار دیکھنے والے کی نظر میں   بلند ہو جائے  (۲) غروب کے قریب ہونے کا وقت۔ یہاں   تک کہ سورج چھپ جائے  (۳)  نمازِ فجر کے بعد اور  (۴)  نمازِ عصر کے بعد۔

بہترین وقتِ عمل: 

            بندے کے لئے سب سے  بہتر یہ ہے کہ اذان و اقامت کے درمیانی وقت کو نماز سے  زندہ رکھے کیونکہ اس میں   ایک ساعت ایسی ہے جس میں   دعا قبول ہوتی ہے اور اس میں   آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں   اور اعمال کا تزکیہ ہوتا ہے۔

نفل نماز میں   پڑھی جانے والی آیاتِ مبارکہ: 

            دن کے اوقات میں   سب سے  بہتر اوقات وہ ہیں   جن میں   فرائض ادا کئے جائیں  ۔ اگر کسینے دونوں   اذانوں   کے درمیان تلاوتِ قرآن نہیں   کی تو اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ نَفْل نماز میں   ان آیاتِ کریمہ کی تلاوت کرے جن میں   دعا ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ،   سورۂ آل عمران کی آخری آیتیں  اور مندرجہ ذیل آیاتِ کریمہ ہیں:

 (۱) اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ (۱۵۵)  (پ۹،  الاعراف:  ۱۵۵)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں   بخش دے اور ہم پر مِہر  (رحم وکرم)  کر اور تو سب سے  بہتر بخشنے والا ہے ۔

 (۲) رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا (پ۳،  ال عمران:  ۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں   ہدایت دی۔

 (۳) رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (۴)  (پ۲۸،  الممتحنة:  ۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسا کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔

            اگر ایسی آیاتِ کریمہ کی قراءَ ت کرے جن میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی عظمت،   تسبیح اور اسمائے حسنیٰ ہیں   تو یہ زیادہ اچھا ہے،   مثلاً سورۂ حدید کی ابتدائی اور سورۂ حشر کی آخری آیات،   آیت الکرسی اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرے تا کہ تلاوت اور دعا دونوں   ایک ساتھ جمع ہو جائیں   اور نماز کے ساتھ ساتھ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے حمد و ثنا بھی ہو جائے۔ پھر نمازِ ظہر باجماعت ادا کرے اور نماز سے  قبل چار اور بعد میں   دو رکعت کے بعد پھر چار رکعت کبھی بھی ترک نہ کرے۔ یہ عمل دن کے چوتھے وظیفہ کی انتہا ہے اور تمام اوراد و وظائف میں   سب سے  زیادہ مختصر اور سب سے  افضل ہے۔

دن کا پانچواں   وظیفہ: 

            اگر کوئی زوال سے  قبل سو چکا ہو تو اب نہ سوئے،   کیونکہ دن میں   دو بار سونا ایسے  ہی مکروہ ہے جیسا کہ شب بیداری نہ کرنے والے کے لئے دن میں   سونا مکروہ ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کے تین اسباب: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تین باتوں  کی بناپر ناراض ہوتا ہے:  (۱)  بغیر وجہ کے ہنسنا  (۲)  بغیر بھوک کے کھانا  (۳)  بغیر شب بیداری کئے دن کے وقت سونا۔ ([3])

آٹھ گھنٹے سونا مستحب ہے: 

            اگر کوئی ظہر سے  پہلے نہ سوئے تو بہتر یہ ہے کہ ظہر اور عصر کے درمیان سو جائے تا کہ اس سے  شب بیداری پر قوت حاصل کر سکے کیونکہ ظہر کے بعد کی نیند آنے والی رات کے لئے ہو گی اور ظہر سے  قبل کی گزشتہ رات کے لئے تھی اور اگر ہمیشہ شب بیداری کرتا ہو اور دن کے اوراد و وظائف بھی اس سے  متصل ہوں   تو بہتر یہ ہے کہ ظہر سے  قبل سو جایا کرے تا



[1]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صفحہ 455پر ہے ان(مکروہ) اوقات میں  تلاوت قرآن مجید بہتر نہیں ،بہتر یہ ہےکہ ذکرودرود شریف میں  مشغول رہے ۔

[2]     ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَه 454پر حضرتِ علّامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : طلوع وغروب ونصف النہار ان تینوں  وقتوں  میں  کوئی نماز جا ئز نہیں  نہ فرض نہ واجب  نہ نفل نہ ادا نہ قضا ،یو ہیں  سجدہ تلاوت وسجدہ سہو بھی نا جائز ہے البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں  پڑھی تو اگر چہ آفتاب ڈوبتاہو پڑھ لے مگراتنی تاخیر کرنا حرام ہے حدیث میں  اسکو منافق کی نماز فرمایا۔

[3]     الزهد للامام احمد بن حنبل، اخبار معاذ بن جبل، الحديث:۱۰۲۲، ص۲۰۲



Total Pages: 332

Go To