Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کی کہ وہ ہی اسے  پیدا کرنے والا ہے اور ہمیں   اس وقت اپنی پاکی بیان کرنے اور ان اوقات میں   پیدا کردہ تمام مخلوقات کے شر سے  پناہ طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ- (پ۷،  الانعام:  ۹۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا۔

            اور دوسری جگہ ارشادفرمایا:

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (۱۷)  (پ۲۱،  الروم:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور جب صبح ہو۔

            یعنی ان دو اوقات میں   نماز کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پاکی بیان کیا کرو۔

            اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ (۱)  مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ (۲)  (پ۳۰،  الفلق:  ۱،   ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ میں   اس کی پناہ لیتا ہوں   جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی سب مخلوق کے شر سے  ۔

            بندہ جب فتنے،   لایعنی (فضول)  گفتگو اور شبہات میں   مبتلا کرنے والے اقوال سننے سے  محفوظ ہو اور ناپسندیدہ اشیاء،   ذکر اللّٰہ سے  غافل کر دینے والی یا دنیا کے تذکرے میں   مبتلا کر دینے والی اشیاء کی جانب متوجہ ہونے سے  بھی محفوظ ہو تو وہ بناوٹی و مصنوعی آرائش و زیبائش جیسی آفات و بلیات میں   مبتلا ہونے سے  بھی محفوظ رہتا ہے اور اپنے مولا کی خدمت میں   مصروف ہونے اور غیر اللّٰہ سے  منہ موڑ کر خالص اسی کا ہونے کا شرف پاتا ہے۔

            ہم نے جن اذکار کے مصلے  (یعنی جائے نماز)  پر پڑھنے کا تذکرہ کیا ہے ان کا اس مسجد میں   پڑھنا زیادہ افضل ہے جہاں   نماز باجماعت کا اہتمام بھی ہوتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   مساجد کے بلند کرنے کا حکم دیا ہے:

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗۙ- (پ۱۸،  النور:  ۳۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان گھروں   میں   جنہیں   بلند کرنے کا اللہنے حکم دیا ہے اور ان میں   اس کا نام لیا جاتا ہے ۔

اور اگر فتنے سے  محفوظ نہ ہو اور ناپسندیدہ کام میں   مبتلا ہو جانے یا کسی کے تقیہ  (ڈر کی وجہ سے  حق پوشی کرنے)  پر مجبور کر دینے یا لا یعنی  (فضول)  گفتگو میں   مبتلا ہو جانے کا خوف لاحق ہو یا ایسا کلام سننے کا اندیشہ ہو جسے  سننا پسند نہ ہو تو نمازِ فجر کے بعد مسجد سے  گھر یا کسی دوسری خلوت گاہ میں   چلا جائے۔

نمازِ فجر کے بعد گھر جانے سے  پہلے دو مسنون عمل: 

 ٭… اپنی جگہ سے  کھڑے ہونے سے  پہلے حالتِ تشہد میں   بیٹھے بیٹھے دس مرتبہ پہلے یہ پڑھے:

 (لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْكَ لَہُ،   لَہُ الْمُلْكُ،   وَلَہُ الْحَمْدُ،   یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ،   بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں  ،   اس کے لئے ہی ہے ساری بادشاہی اور اسی کے لئے ہے ہر قسم کی حمد،   وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے جبکہ خود ایسا زندہ ہے جسے  موت نہیں  ،   اسی کے دست ِ قدرت میں   ہر قسم کی خیروبھلائی ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔

  ٭… اور اس کے بعد گفتگو کرنے سے  پہلے دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔

            یہ دونوں   وظائف پڑھنے کے متعلق دو احادیثِ مبارکہ مروی ہیں  ،   لیکن ان میں   ترکِ کلام شرط ہے۔ چنانچہ اس کے بعد گھر یا کسی مقامِ خلوت میں   قبلہ رو ہو کر بقیہ معمولات ادا کرے اور یہ حالت نہ صرف افضل ہے بلکہ اس کی یکسوئی کے لئے بھی زیادہ بہتر ہے۔  ([1])

طلوعِ آفتاب سے  پہلے تسبیح و ذکر کی دو صورتیں  : 

            نمازِ فجر کے بعد اور طلوعِ آفتاب سے  پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی پاکی بیان کرنے اور ذکر کرنے کی دو صورتیں   ہیں: اگر نیکی و پرہیزگاری پر معاونت مقصود ہو تو ایسا کرنا اس پر لازم ہو گا یا پھر مستحب،   اس کی بھی دو صورتیں   ہیں  : اس سے  مقصود خاص اپنی ذات کا نفع ہو گا یا پھر اس کے نفع کا تعلق کسی دوسرے سے  ہو گا۔ یہ معمولات بھی انہی معمولات سے  تعلق رکھتے ہیں   جن کے وقت کے ختم ہو جانے کے بعد ان کے نفع کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔  دوسری صورت یہ ہے کہ علم حاصل کرے یا دین وآخرت کی بہتری کی کوئی ایسی بات سنے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے قرب کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا سے  بے رغبتی بھی دِلائے۔ اس طرح ان علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  محبت پیدا ہو گی جن کے علم پر بھروسا کیا جاتا ہے،   جو علمائے آخرت بھی ہیں   اور صاحبِ یقین و ہدایت بھی اور دنیا کی فضولیات سے  دور رہنے والے بھی۔ جو بندہ نمازِ فجر کے بعد مسجد سے  اٹھ کر جائے تو راستے میں   دو میں   سے  کوئی ایک کام کرے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا ذکرتا رہے خ یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی معرفت کے بارے میں   دانشمندوں   کے ذکر کردہ اقوال میں   تفکر کرتا رہے۔ اگر یہ دونوں   باتیں   اکٹھی ہو جائیں   تو ان کی جانب جانا مصلے پر بیٹھے رہنے سے  افضل ہے کیونکہ یہ دونوں   باتیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر بھی ہیں   اور اس پر عمل بھی اور ایک مخصوص صفت پر اس کی جانب جانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:

 



[1]     جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب فی ثواب کلمة     الخ، الحديث:۳۴۷۴، ص۲۰۰۹    المعجم الکبير، الحدیث: ۲۳۲، ج۲۲، ص۹۲



Total Pages: 332

Go To