Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کر سکتی۔ وجہ پوچھی گئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہنے ارشاد فرمایا کہ راہِ خدا میں   خرچ کرنا کہیں   مجھے تفکر سے  غافل نہ کر دے۔

نمازِ فجر کے بعد کے مزید معمولات: 

٭ (نمازِ فجر کے بعد)  اچھی اچھی نیتیں   کرے اور اپنے اور خالقِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ  کے مابین،   نیز اپنے اور مخلوق کے مابین تعلقات و معاملات کی  (دُرُستی میں  )  بھی اچھی اچھی نیتیں   کرے۔

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے  مغفرت طلب کرتا رہے اور گزشتہ عمر میں   ہونے والی کوتاہیوں   پر روزانہ توبہ کرے اور آئندہ گناہوں   سے  باز رہے۔

٭… عاجزی و انکساری اور خشوع وخضوع سے  پُر خلوص دُعا مانگے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اسے  تمام ممنوع کاموں   سے  بچائے اور نیک اعمال بجا لانے کی توفیق دے اور اس پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے۔ دعا کرتے ہوئے اسکی حالت یہ ہو کہ دل ہر شے سے  خالی ہو،   دعا کی قبولیت کا یقین ہو اور ربِّ کریم عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا پر راضی ہو۔

٭… خیر و بھلائی کی باتیں   کرے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی جانب بلائے،   اپنی باتوں   سے  اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچائے اور کم علم کو علمِ دین سکھائے۔

            متقدمین کے اَذکار اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے غور وفکر کا یہی انداز رہا ہے۔ ذکر و فکر عابدین کی عبادت سے  افضل ہے اور یہی وہ مختصر راستہ ہے جو ربّ العالمین کی بارگاہ تک لے جاتا ہے۔ پس بندہ مذکورہ طریقوں   میں   سے  کوئی بھی اختیار کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا ذکر کرنے والا ہی کہلائے گا۔

ذکر و فکر کی کیفیت: 

            ذکر و فکر میں   مشغول ہونے کی حالت یہ ہونی چاہئے کہ بندہ جہاں   نماز پڑھے اسی جگہ قبلہ رخ بیٹھا رہے اور مستحب یہ ہے کہ کسی سے  بات نہ کرے یا مذکور اذکار واعمال کے علاوہ دیگر اعمال و وظائف میں   مگن رہے۔ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن طلوعِ فجر سے  لے کر طلوعِ آفتاب تک خیر و بھلائی کے علاوہ کلام کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے اور ان میں   سے  بعض تو ان اوقات میں   خیرو بھلائی کی باتوں  کے علاوہ ہر قسم کی گفتگو کو بھی بہت مذموم خیال کرتے تھے،   یہ ایک سنت ہے جو چھوڑ دی گئی ہے،   پس جس نے اس پر عمل کیا اسنے اسے  یاد رکھا۔

٭٭٭

٭نافرمان ،   فرمانبردار بن جائے٭

صبح  (طلوعِ آفتاب سے  پہلے پہلے)  نافرمان بچے یا بچی کی پیشانی پرہاتھ رکھ کرآسمان کی طرف منہ کرکے جو 21بار یاشَھِیْدُ پڑھے  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اُس کا وہ بچہ یابچی نیک بنے۔ (مدنی پنج سورہ،   ص ۲۵۳)

فصل: 7

دن کے معمولات

دن کے معمولات سات ہیں   جن کی تفصیل یہ ہے۔

پہلا وظیفہ: 

            پہلے وظیفے کا وقت طلوعِ فجر سے  طلوعِ آفتاب تک ہے اور اس سے  مراد وہی اذکار ہیں   جن کا تذکرہ ہم کر چکے ہیں   اور صبح سے  مراد وہ وقت ہے جس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قسم ارشاد فرمائی:

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ (۱۸)  (پ۳۰،  التکویر:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور  (قسم ہے)  صبح کی جب دم لے۔

        صبح کے سانس لینے سے  مراد طلوعِ فجر سے  لے کر طلوعِ آفتاب تک کا وقت ہے یہی وہ وقت ہے جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں   کے لئے سایہ پھیلایا،   پھر اس پر روشنی پھیلا کر اسے  سمیٹ دیا اور اس کے ظہور کو اپنی نشانی قرار دیا اور سورج کو اس کا ظاہر کرنے والا اور اس پر دلیل بنا دیا۔ چنانچہ ارشادفرمایا: 

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّۚ- (پ۱۹،  الفرقان:  ۴۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے محبوب کیا تمنے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا یاسایہ ۔

            مراد یہ ہے کہ اگر وہ چاہتاتو اسے  ایک ہی حالت پر ساکت و جامد بنا دیتا کہ وہ حرکت ہی نہ کر پاتا۔

ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ (۴۵)  (پ۱۹،  الفرقان:  ۴۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھرہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے سورج کے ذریعے سائے کو واضح کیا،   جو اس بات پر دلیل ہے کہ وہی مشکل سے  پردہ ہٹاتا ہے اور شبہات دور فرماتا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ارشاد فرمایا:

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا (۴۶)  (پ۱۹،  الفرقان:  ۴۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے  اپنی طرف سمیٹا۔

            یعنی سایہ سورج کے نیچے ہلکا سا سمٹا ہوا ہے جو نہ تو عقل و فہم میں   آتا ہے اور نہ ہی دیکھا جاتا ہے،   پس سایہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی قدرت سے  سورج میں   اس طرح شامل ہے جیسے  اندھیرا اُس وقت روشنی کے پردے میں   چھپ جاتا ہے جب اُس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمت داخل ہوتی ہے اور اسے  ہی صبح اور فلق کہتے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صبح کے ساتھ اپنی حمد بیان



Total Pages: 332

Go To