Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میری پرورش کی اور تمام زندہ ومُردہ مومن مردوں   و عورتوں  اور مسلمان مردوں   و عورتوں   کو معاف فرما دے۔ اے میرے رب! مغفرت فرما اور رحم فرما اور جو تو جانتا ہے اس سے  درگزر فرما اور تو ہی سب سے  زیادہ عزت والا،   کرم والا ہے اور تو ہی سب سے  بہتر رحم فرمانے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے اور ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے مال ہیں   اور ہمیں   اسی کی طرف پھرنا ہے اور نہیں   کوئی طاقت اور کوئی قدرت سوائے بزرگ و برتر اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی مدد کے اور ہمیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے اور ہمیں   یکتا و تنہا اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہی کافی ہے جس کا کوئی شریک نہیں  ۔

            یہ مجموعہ ان سب دعاؤں   پر مشتمل ہے جو شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ،   صحابۂ کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور آئمۂ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  مروی ہیں   اور ہم نے اختصار کے پیشِ نظر ان کے فضائل کا تذکرہ نہیں   کیا۔ فجر اور عصر کی نمازوں   کے بعد روزانہ ان دعاؤں   کو پڑھنا چاہئے اور اگر کوئی ہر فرض نماز کے بعد انہیں   پڑھ لیا کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے فضل و کرم اور اس کی رحمت سے  اس پر کامل فضل و کرم ہو گا۔

٭ ٭ ٭

٭جدائی قربت میں  بدل جائے…٭

جس کے عزیز واقارِب جُدا ہوگئے ہوں ،   وہ چاشت کے وقت غسل کر کے آسمان کی طرف منہ کر کے 10 بار یاجَامِعُ پڑھے اور ہر بار میں  ایک انگلی بند کرتا جائے پھر اپنے منہ پر ہاتھ پھیر ے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تھوڑے عرصہ میں  سب جمع ہو جائیں  گے۔  (مدنی پنج سورہ،   ص ۲۵۸)

فصل: 6

نمازِ فجر کے بعد کے معمولات

            نمازِ فجر کے بعد کے معمولات یہ ہیں  :

٭… بندہ تلاوتِ قرآنِ کریم کرتا رہے۔

٭… مختلف قسم کے اذکار میں   مشغول رہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی تسبیح اور حمد و ثنا کرتا رہے۔

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی عظمت،   اس کی نعمتوں  ،   مسلسل احسانوں   اور نوازشوں   کے متعلق غور وفکر کرے خواہ انہیں   شمار کر سکتا ہو یا نہ کر سکتا ہو اور اس کی کرم نوازیوں   کے متعلق بھی سوچے خواہ ان سے  آگاہ ہو یا نہ ہو۔

٭… ظاہری و باطنی نعمتوں   کا شکر بجا لانے سے  قاصر ہونے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس اطاعت کا اور نعمتوں   کے دائمی شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے اسے  کما حقہ بجا لانے سے  عاجز ہونے کے متعلق بھی غورو فکر کرے۔

٭… مستقبل میں   پیش آنے والے فرائض و مستحبات کے متعلق سوچے۔

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے مخفی لطف و کرم کے متعلق بھی سوچے اور اس حجاب کی کثافت  (موٹائی)  پر غور کرے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے عیوب پر ڈالا ہوا ہے۔

٭… کوتاہیوں   اور نافرمانیوں   میں   مبتلا ہونے کے متعلق فکر کرے۔

٭… ان اوقات کو بھی یاد کرے جو نیک اعمال سے  خالی رہ گئے ہوں  ۔

٭… یاد رکھے کہ عالم ظاہر میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا حکم نافذ ہے اور عالم غیب میں   بھی اسی کی قدرت کار فرما ہے اور ان دونوں   جہانوں   میں   اسی کی نشانیاں   اور نعمتیں   جلوہ گر ہیں  ۔

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی عقوبات اور ظاہری و باطنی آزمائشوں   کے متعلق فکر میں   مبتلا رہے۔ چنانچہ،   

            اس کے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِؕ- (پ۱۳،   ابراهيم۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور انہیں   اللہ کے دن یاد دِلا۔

                منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے ایام سے  اسکی نعمتیں   مراد ہیں   اور ایک قول کے مطابق اس کی سزائیں   مراد ہیں ۔

            ایک مقام پر ہے:

فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (۶۹)  (پ۸،  الاعراف:  ۶۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اللہ کی نعمتیں   یاد کرو کہ کہیں   تمہارا بھلا ہو۔

            اسی طرح ایک مقام پر ارشاد ہے:

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ (۱۳)  (پ۲۷،  الرحمٰن:  ۱۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اے جن و انس تم دونوں   اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

            یعنی اے جن و اِنس کے گروہ! کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ کاش! تم اس کی قدرت رکھتے۔

ذکر و فکر اور عبادت و مشاہدہ: 

            غورو فکر کی جو صورتیں   بیان ہوئی ہیں   وہ سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر ہی ہیں  ۔ کیونکہ ذکر کو عبادت بھی کہتے ہیں   اور عبادت سے  مراد ہر وہ شے ہے جو بندے کو فکر کی جانب لے



Total Pages: 332

Go To