Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وہ علم میں   ہم سے  کیسے  بڑھ سکتا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’وہ کہتا ہے علم حاصل کرو لیکن اس پر اس وقت تک عمل مت کرو جب تک کہ عالم نہ بن جاؤ،   علم کے حصول میں   یہی کہتا رہتا ہے اور عمل کے سلسلے میں   ٹال مٹول سے  کام لیتا رہتا ہے یہاں   تک کہ بندہ اس حال میں   مر جاتا ہے کہ اسنے کوئی عمل نہیں   کیا ہوتا۔ ‘‘  ([1])   

منقول ہے کہ علم عمل کو پکارتا ہے اگر عمل اس کی پکار پر لَبَّیْک  (میں   حاضر ہوں  )  کہے تو علم رک جاتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے۔  ([2]) اور امامِ اَجَلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی نے قوتُ القلوب میں   حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ علم اتنا ہی حاصل کرو جس پر تم عمل کرنا چاہتے ہو،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں   علم پر اس وقت تک اجر عطا نہیں   کرے گا جب تک تم اس پر عمل نہ کرو گے۔ ([3])

عمل سے  زندگی بنتی ہے جنت بھی،   جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں   نہ نوری ہے نہ ناری ہے

ظاہری و باطنی علم: 

علم در حقیقت روایت و درایت  ([4]) کا نام ہے اور حضرت سیِّدُنا امامِ اَجَلّ شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اپنی کتاب مستطاب  (عمدہ ومبارک)  قُوْتُ الْقُلُوب میں   فرماتے ہیں   کہ عام لوگ صرف روایت کا عزم کرتے ہیں   اور خاص لوگ درایت کا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی صاحبِ روایت کے بجائے صاحبِ درایت کی پروا کرتا ہے۔  ([5])  بہرحال علم روایت کا ہو یا درایت کا،   اس کا تعلق انسان کے ظاہری و باطنی اعمال سے  ہی ہوتا ہے مگر ان دونوں   میں   سے  کسی ایک کے متعلق یہ نہیں   کہا جا سکتا کہ یہ علم ظاہر ہے اور یہ باطن کیونکہ علم زبان پر آنے سے  پہلے دل میں   ہو تو علم باطن کہلاتا ہے اور زبان سے  ادا ہونے کے بعد اسے  علم ظاہر کہتے ہیں  ۔ اس طرح یہ کہہ سکتے ہیں   کہ علم ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ ظاہری علوم وہ ہیں   جن پر ظاہری اعضائے جسمانی سے  عمل ہوتا ہے۔ جیسے  ہر قسم کی عبادات  (طہارت،   نماز،   زکوٰۃ،   حج اور جِہادد وغیرہ)  اور احکامات  (حدود،   نکاح و طلاق،   خرید وفروخت وغیرہ) ۔ باطنی علوم وہ ہیں   جن پر باطنی اعضائے جسمانی یعنی قلب  (دل)  سے  عمل ہوتا ہے۔ جیسے  ایمان،   تصدیق،   یقین،   صدق،   اخلاص،   معرفت باری تعالیٰ،   توکل،   محبت،   رضا،   ذکر،   شکر،   انابت  (رُجُوع اِلَی اللہ) ،   خشیت،   تقویٰ،   مراقبہ،   خوف ورجا اور صبر و قناعت وغیرہ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پارہ 21سورۂ لقمان کی آیت نمبر 20میں   ارشاد ہے:   

وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ-  (پ ۲۱،   لقمان: ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور تمہیں   بھرپور دیں   اپنی نعمتیں   ظاہر اور چھپی۔

صدرُ الْاَفَاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْہَادِی نے ’’خزائن العرفان ‘‘  میں   اس آیتِ مبارکہ کے تحت کئی اقوال ذکر کیے ہیں  ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں  :

٭  ظاہری نعمتوں   سے  درستیٔ اعضا و حواسِ خمسہ ظاہرہ  ([6]) اور حسن و شکل و صورت مراد ہیں   اور باطنی نعمتوں   سے  علمِ معرفت و ملکاتِ فاضلہ  (اضافی خصوصیات)  وغیرہ۔

٭حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ نعمت ِ ظاہرہ تو اسلام و قرآن ہے اور نعمت ِ باطنہ یہ ہے کہ تمہارے گناہوں   پر پردے ڈال دیئے،   تمہارا افشائے حال نہ کیا،   سزا میں   جلدی نہ فرمائی۔

٭بعض مفسِّریننے فرمایا کہ نعمت ِ ظاہرہ درستیٔ اعضا اور حسنِ صورت ہے اور نعمت ِ باطنہ اعتقادِ قلبی۔

٭  ایک قول یہ بھی ہے کہ نعمت ِ ظاہرہ رزق ہے اور باطنہ حسنِ خُلق۔

٭ ایک قول یہ ہے کہ نعمت ِ ظاہرہ احکامِ شرعیہ کا ہلکا ہونا ہے اور نعمت ِ باطنہ شفاعت۔

٭ایک قول یہ ہے کہ نعمت ِ ظاہرہ اسلام کا غلبہ اور دشمنوں   پر فتح یاب ہونا ہے اور نعمت ِ باطنہ ملائکہ کا امداد کے لئے آنا۔

٭ ایک قول یہ ہے کہ نعمت ِ ظاہرہ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِتّباع ہے اور نعمت ِ باطنہ ان کی محبت۔ رَزَقَنَا اللہ تَعَالٰی اِتِّبَاعَہٗ وَ مَحَبَّتَہٗ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔

علم و عمل کے باہمی تعلق کی صورتیں  : 

علم و عمل کے اس ظاہری و باطنی تعلق کی تین صورتیں   ہیں  :

 (1)  … ظاہری تعلق  (2)  … باطنی تعلق اور  (3)  … ظاہری و باطنی تعلق ۔

 (1)   ظاہری تعلق : 

 



[1]    الجامع لاخلاق الراوی للخطیب بغدادی، باب النیۃ فی طلب الحدیث، الحدیث:۳۵، ج۱، ص۸۹

[2]    تاریخ مدینہ دمشق، ج۵۶

[3]    قوت القلوب، الفصل الحادی والعشرون، ج ۱، ص ۲۳۰

[4]     روایت سے مراد کسی کی بات کو آگے بیان کرنا ہے اور درایت سے مراد کسی بات کو عقلی طور پر پرکھنا ہے کہ آیا وہ درست ہے یا غلط۔ 

[5]    قوت القلوب، الفصل الحادی والعشرون، ج ۱، ص ۲۳۰

[6]     یعنی پانچ ظاہری حواس: باصرہ (دیکھنے کی حس)، سامعہ (سننے کی حس)، شامہ (سونگھنے کی حس)، ذائقہ (چکھنے کی حس) اور لامسہ (چھونے کی حس)۔



Total Pages: 332

Go To