Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ ایک نئی تخلیق ہے،   پس اس کا آغاز مجھ پر اپنی اطاعت و فرمانبرداری سے  فرما اور اختتام اپنی مغفرت و رضامندی سے  فرما اور مجھے اس میں   ایسی بھلائی و نیکی کرنے کی توفیق عطا فرما جسے  تو مجھ سے  قبول بھی فرما لے اور اسے  پاک فرما کر میرے لئے اس کے اجر کو دگنا کر دے اور میں  نے اس میں   جس بھی گناہ کا ارتکاب کیا اسے  معاف فرما دے کیونکہ تو ہی مغفرت فرمانے والا،   رحم فرمانے والا،   محبت کرنے والا اور کرم فرمانے والا ہے۔

            پس جو صبح و شام یہ دعا پڑھ لے اسنے دن رات کا شکر ادا کر لیا۔  ([1])

اللہ عَزَّ وَجَلَّ     کا بندے کو راضی کرنا: 

            ہم بے کسوں   کے مَدَدگار،   شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے: ’’جو شخص صبح اور شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ  کرم پر ہے کہ وہ اسے  قیامت کے دن راضی کر دے: 

(رَضِیْتُ بِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نَبِیًّا)   ([2])

تر جمعہ : میں   اللہ کے ربّ ہونے،   اسلام کے دین ہونے اور حضرت سَیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوں  ۔

سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا: 

            حضرت سَیِّدُنا مَعْمَر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سَیِّدُنا جعفر بن برقان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان سے  روایت فرماتے ہیں   کہ حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یوں   دعا مانگاکرتے:  (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَصْبَحْتُ لَاۤ اَسْتَطِیْعُ دَفْعَ مَاۤ اَ كْرَہُ  وَلَاۤ اَمْلِكُ نَفْعَ مَاۤ اَرْجُوْ وَاَصْبَحَ الْاَمْرُ بِیَدِكَ لَا بِیَدِ غَیْرِكَ وَاَصْبَحْتُ مُرْتَہِنًا ۢ بِعَمَلِیْ فَلَا فَقِیْرَ اَفْقَرُ مِنِّیْ،   اَللّٰہُمَّ لَا تُشْمِتْ بِیْ عَدُوِّیْ وَ لَا تُسِیْٔ بِیْ صَدِیْقِیْ وَلَا تَجْعَلْ مُصِیْبَتِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْیا اَ  كْبَرَ ھَمِّیْ وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِیْ وَلَا غَایَۃَ اَمَلِیْ وَلَا تُسَلِّطْ عَلَیَّ مَنْ لَّا یَرْحَمُنِیْ)   ([3])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں  نے اس حال میں   صبح کی ہے کہ اپنی ناپسندیدہ اشیاء کو دور نہیں   کر سکتا اور نہ کسی ایسی شے کے نفع کا مالک ہوں   جس کی امید رکھتا ہوں  ،   بلکہ ہر قسم کا معاملہ تیرے ہی دستِ قدرت میں   ہے،   میری جان اپنے عمل میں   گروی رکھی ہے،   مجھ سے  بڑھ کر کوئی بھی  (تیری رحمت و بخشش کا)  محتاج نہیں  ،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھ پر میرے دشمنوں   کو نہ تو خوشیاں   عطا فرما اور نہ ہی میرے دوست کو میری

 طرف سے  دکھ پہنچا،   میرے دین کے معاملے میں   نہ تو مجھے کسی مصیبت میں   مبتلا فرما اور نہ ہی دنیا کو میرا سب سے  بڑا مقصد بنا کر اسے  میرے علم و امید کی انتہا بنا اور نہ ہی مجھ پر اس شخص کو مسلط فرما جو مجھ پر رحم نہ کرے۔

جلنے،   ڈوبنے اور چوری سے  محفوظ رہنے کی دعا: 

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  منقول ہے کہ ہر موسم میں   حضرت سیِّدُنا خضر اور حضرت سیِّدُنا الیاس عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپس میں   ملاقات فرماتے ہیں   اور جب ایک دوسرے سے  جدا ہونے لگتے ہیں   تو یہ کلمات کہتے ہیں  : (بِسْمِ اللّٰہِ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ،   لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ،   كُلُّ نِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ،   اَ لْخَیْرُ كُلُّہُ بِیَدِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ،   لَا یُصْرِفُ السُّوْٓءَ اِلَّا اللّٰہُ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ،   لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ)  

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بابرکت نام سے ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا نیکی کرنے کی کوئی طاقت ہے نہ برائی سے  بچنے کی کوئی قوت،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہے،   ہر نعمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی جانب سے  ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہے،   ہر قسم کی خیر وبھلائی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دستِ قدرت میں   ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہے،   سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کوئی بھی برائی دور نہیں   کر سکتا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہے،   نہ تو نیکی کرنے کی کوئی طاقت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی کوئی قوت بجز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے۔

فائدہ: جو کوئی صبح کے وقت یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے جلنے،   ڈوبنے اور چوری سے  محفوظ رہے گا۔   (کتاب الضعفاء للعقيلی،   الرقم ۲۷۳ الحسن بن رزين،   ج۱،   ص۲۴۴ بتغير قليل)

استغفارِ حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام      : 

            منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کا استغفار یہ ہے:

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْتَغْفِرُكَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ تُبْتُ اِلَیْكَ مِنْہُ ثُمَّ عُدْتُّ فِیْہِ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْتَغْفِرُكَ مِنْ كُلِّ عَقْدٍ عَقَدْتُّہُ لَكَ ثُمَّ لَمْ اَفِ لَكَ بِہٖ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْتَغْفِرُكَ مِنْ كُلِّ نِعْمَۃٍ اَنْعَمْتَ بِہَا عَلَیَّ فَقَوَّیْتُ بِہَا عَلٰی مَعْصِیَتِكَ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْتَغْفِرُكَ مِنْ كُلِّ عَمَلٍ عَمِلْتُہُ لِوَجْہِكَ خَالَطَہُ مَا لَیْسَ لَكَ)   ([4])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  ہر اس گناہ کی معافی چاہتا ہوں   جو میں  نے توبہ کے بعد کیا،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  ہر اس عہد کی معافی چاہتا ہوں   جو میں  نے تجھ سے  کیا لیکن پورا نہ کر سکا،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  ہر اس نعمت کی معافی چاہتا ہوں   جو تونے مجھ پر کی لیکن میں  نے اس نعمت سے  تیری نافرمانی پر قوت حاصل کی،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  ہر اس عمل کی معافی چاہتا ہوں   جو میں  نے خالص تیری رضا کے لئے کیا لیکن اس میں   ایسی شے شامل ہو گئی جو تیری بارگاہ میں   پیش کرنے کے قابل نہ تھی۔

ڈر اور خوف دور کرنے کی دعا: 

            حضرت سَیِّدُنا سعید بن ابی روحا جمال رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ ایک بار رات کے وقت میں   ایک ویران جگہ تنہا رہ گیا،   مجھے وحشت و تنہائی محسوس ہوئی تو گھبرا گیا۔ اچانک



[1]     اتحاف السادة المتقين، کتاب الاذکار، دعاء الخليل ابراهيم، ج۵، ص۳۰۸

[2]     سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما يقول اذا اصبح، الحديث : ۵۰۷۲، ص۱۵۹۴,المستدرک، کتاب الدعاء و التکبير، باب من قال رضيت    الخ، الحديث:۱۹۴۸، ج۲، ص۲۰۱

[3]     کتاب الجامع لمعمر مع المصنف لعبدالرزاق، باب القول حين يمسی    الخ، الحديث:۲۰۰۵، ج۱۰، ص۹۳

[4]     شعب الايمان للبيهقی، باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة، الحديث: ۷۱۴۸، ج۵، ص۲۳۳ بتغير



Total Pages: 332

Go To