Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اِنَّ رَبِّیَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ )   ([1])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہر زہریلے جانور اور تمام تكلیف دینے والے كیڑے مكوڑوں   کے شر سے  میں  تیرے بابرکت نام اور تیرے کامل کلمہ کی پناہ طلب کرتا ہوں   … اور میں   پناہ مانگتا ہوں   تیرے بابرکت نام اور تیرے کامل کلمات کی تیرے عذاب اور تیرے بندوں   کے شر سے  … اور میں   پناہ مانگتا ہوں   تیرے بابرکت نام کی اور تیرے کامل کلمات کی شیطان مردود کے شر سے ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! بے شک  میں   تیرے بابرکت نام اور تیرے مکمل کلمات کے واسطہ سے  سوال کرتا ہوں   کہ تو اپنے نبی حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی آل پر درود بھیج … اور میں   تجھ سے  یہ بھی سوال کرتا ہوں   کہ جو خیر و بھلائی کسی کو عطا کی جا سکتی ہے یا کسی سے  مانگی جا سکتی ہے اور جو مخفی و ظاہر ہو وہ خیر وبھلائی مجھے عطا فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تیرے بابرکت نام کی اور تیرے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں    (اس شر سے  جو دن کے وقت آتا ہے)  بے شک  میرا پَرْوَرْدگار وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   اسی پر میں  نے بھروسا کیا ہے اور وہی عرشِ عظیم کا بھی ربّ ہے۔

شام کے وقت  (مِنْ شَرِّ مَا یَجْرِیْ بِہِ النَّہَارُ)  کے بجائے  (مِنْ شَرِّ مَا جَآءَ بِہِ اللَّیْلُ)  پڑھیں  ۔

آفات سے  بچنے کی دعا: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْعَزِیزنے حضرت سیِّدُنا محمد بن عبیداللہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  روایت بیان کی کہ حضرت سیِّدُنا ابو الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  تشریف لائے،   انہیں   بتایا گیا کہ ان کا گھر جل گیا ہے تو فرمانے لگے:  ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسا نہیں   ہونے دے گا۔ ‘‘  پھر ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی:  ’’اے ابو درداء! آ گ آپ کے گھر کے قریب پہنچ چکی تھی کہ خود بخود بجھ گئی۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’میں   جانتا تھا۔ ‘‘  ان سے  عرض کی گئی:  ’’ہم نہیں   جانتے کہ آپ کی ان دونوں   باتوں   میں   زیادہ عجیب کونسی ہے؟ ‘‘  تو انہوں  نے ارشاد فرمایا: ’’میں  نے رسولِ بے مثالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے  سن رکھا ہے کہ جو شخص دن یا رات میں   یہ کلمات کہے کوئی شے اسے  نقصان نہیں   پہنچا سکتی اور میں  نے ان کلمات کو پڑھ لیا تھا اور وہ یہ ہیں  :

 (اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّاۤ اَنْتَ،   عَلَیْكَ تَوَكَّلْتُ،   وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ،   لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ رَبِّیْ كَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَكُنْ،   اَعْلَمُ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ،   وَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دَآبَّۃٍ اَنْتَ اٰخِذٌ ۢ بِنَاصِیَتِہَا،   اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم)   ([2])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تو ہی میرا پَرْوَرْدگار ہے،   تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،   میں  نے تجھ پر ہی بھروسا کیا ہے اور تو ہی عرشِ عظیم کا ربّ ہے،   بزرگ و برتر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد کے سوا نہ تو کوئی نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی کوئی قدرت،   میرا پَرْوَرْدگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے وہ کبھی نہیں   ہوتا،   میں   جانتا ہوں   بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ   ہر شے پر قادر ہے اور بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تیری پناہ چاہتا ہوں   اپنے نفس اور ہر اس جاندار کے شر سے  جس کی پیشانی تیرے دستِ قدرت میں   ہے،   بیشک میرا ربّ سیدھے راستہ پر ملتا ہے۔

اَہم امورِ آخرت سے  محفوظ رہنے کی دعا: 

            حضرت سیِّدُنا ابو الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  ہی مروی ہے،   فرماتے ہیں   کہ جس نے روزانہ سات مرتبہ یہ کلمات پڑھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اسے  آخرت میں   درپیش تمام امور میں   کافی ہو گا خواہ وہ ان کلمات میں   سچا ہو یا جھوٹا اور وہ کلمات یہ ہیں  :  (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰـہُ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ)   ([3])

تر جمعہ : پھر اگر وہ منہ پھیریں   تو تم فرما دو: مجھےاللہ کافی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں  ،   میں  نے اسی پر بھروسا کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

غم کو خوشی سے  بدلنے والی دعا: 

                رسولِ بے مثال،   پیکرِ حسن و جمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے: ’’جو کوئی کسی قسم کے غم اور پریشانی میں   مبتلا ہو اور یہ کلمات کہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے غم اور پریشانی کو دور فرما کر خوشی و مسرت سے  بدل دے گا۔ ‘‘  دعا یہ ہے: (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ عَبْدُكَ،   اِبْنُ عَبْدِكَ،   اِبْنُ اَمَتِكَ،   نَاصِیَتِیْ بِیَدِكَ،   مَاضٍ فِیَّ حُكْمُكَ،   عَدْلٌ فِیَّ قَضَآؤُكَ،   اَسْئَلُكَ اَللّٰہُمَّ بِكُلِّ اِسْمٍ ھُوَ لَكَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَكَ اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ كِتَابِكَ اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ اَوْ اِسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَكَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّكَ وَحَبِیْبِكَ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَنُوْرَ صَدْرِیْ وَجِلَآ ءَ حُزْنِیْ وَذِھَابَ ھَمِّیْ وَغَمِّیْ)

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! بیشک میں   تیرا بندہ ہوں  ،   تیرے بندے اور تیری بندی کا بیٹا ہوں  ،   میری پیشانی تیرے دستِ قدرت میں   ہے،   میرے متعلق تیراہی حکم نافذ ہے،   میرے بارے میں   تیرا فیصلہ سراپا عدل ہے،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  ہر اس بابرکت نام کے واسطہ سے  جو تونے اپنی کتاب میں   نازل فرمایا یا کسی کو سکھایا یا علمِ غیب کے ساتھ خاص رکھا،   سوال کرتا ہوں   کہ تو اپنے نبی اور حبیب محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ قرآنِ کریم کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور اور میری تکلیف ختم کرنے والا اور فکر و غم دور کرنے والا بنا دے۔

            راوی فرماتے ہیں   کہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ان کلمات کو سیکھ لیا جائے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جو بھی ان کلمات کو سنے اسے  چاہئے کہ انہیں   سیکھ لے۔ ‘‘   ([4])

دن اور رات کا شکر ادا کرنا: 

            حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق مروی ہے کہ وہ صبح کے وقت یہ دعا مانگاکرتے: (اَللّٰہُمَّ ھٰذَا خَلْقٌ جَدِیْدٌ فَافْتَحْہُ عَلَیَّ بِطَاعَتِكَ وَاخْتِمْہُ لِیْ بِمَغْفِرَتِكَ وَرِضْوَانِكَ وَارْزُقْنِیْ فِیْہِ حَسَنَۃً تَقْبَلُہَا مِنِّیْ وَزَكِّہَا وَضَعِّفْہَا لِیْ وَمَا عَمِلْتُ فِیْہِ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَاغْفِرْھَا لِیْ اِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِیمٌ وَّدُوْدٌ كَرِیْمٌ)  

 



[1]     المطالب العالية، کتاب الاذکار، باب الاستعاذة، الحديث: ۳۴۳۵، ج۸، ص۷۰  مختصراً

[2]     کتاب الدعاء للطبرانی، باب القول عند الصباح و المساء، الحديث: ۳۴۳، ص۸۱۲

[3]     عمل اليوم والليلة لابن سنی، ما يقول اذا اصبح، الحديث:۷۱، ص۳۱ بتغير قليل

[4]     المسندللامام احمدبن حنبل،مسند عبداللّٰه بن مسعود،الحديث:۳۷۱۲، ج۲، ص۴۱ دون قوله’’ان تصلی   الی    واله



Total Pages: 332

Go To