Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سیدنا جبرائیل امین عَلَیْہِ   السَّلَام   کی دعا: 

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام  رحمتِ عالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ ناز میں   حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یہ دعا پڑھا کریں:

 (یا نُوْرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یا جَمَالَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یا عِمَادَ السَّمٰـوَاتِ وَالْاَرْضِ یا بَدِیْعَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ یا صَرِیْخَ الْمُسْتَصْرِخِیْنَ یا غَوْثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ یا مُنْتَہٰی رَغْبَۃِ الرَّاغِبِیْنَ وَالْمُفَرِّ جَ عَنِ الْمَكْرُوْبِیْنَ وَالْمُرَوِّحَ عَنِ الْمَغْمُوْمِیْنَ وَمُجِیْبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّیْنَ وَكَاشِفَ السُّوْٓءِ وَاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَاِلٰـہَ الْعالمیْنَ مَنْزُوْلٌ ۢ بِكَ كُلُّ حَاجَۃٍ یاۤ اَكْرَمَ الْاَكْرَمِیْنَ وَیاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ)   ([1])

تر جمعہ : اے آسمانوں   اور زمین کے نور! اے آسمانوں   اور زمین کے جمال! اے آسمانوں   اور زمین کے سہارے! اے آسمانوں   اور زمین کو بغیر کسی نمونہ کے پیدا کرنے والے! اے عظمت و بزرگی والے! اے پکارنے والوں   کی پکار سننے والے! اے فریادیوں   کے مددگار! اے رغبت رکھنے والوں   کی رغبت کی انتہا! اور اے مصیبت زدوں   کی مصیبت دور فرمانے والے! اور اے غمزدوں   کو راحت و سکون عطا فرمانے والے! اور اے مجبور اور بے کسوں   کی دعاؤں   کے قبول فرمانے والے! اور اے تکلیفوں   کے دور فرمانے والے! اور اے سب سے  بڑھ کر رحم فرمانے والے!اور اے تمام جہانوں   کے معبود! ہر حاجت تیری بارگاہ میں   پیش کی جاتی ہے،   اے سب سے  بڑھ کر رحم و کرم فرمانے والے!

حضورصَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم  کی روزانہ کی دعا: 

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صبح و شام یہ دُعا مانگا کرتے اور کبھی ناغہ نہ فرماتے:

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیا وَالْاٰخِرَۃِ،   وَاَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیایَ،   وَفِیْۤ اَھْلِیْ وَمَالِیْ،   اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِیْ وَاٰمِنْ رَوْعَاتِیْ،   وَاَقِلْنِیْ عَثَرَاتِیْ،   اَللّٰہُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ،   وَاَعُوْذُ بِكَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحتِیْ)   ([2])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  دنیا و آخرت میں   عافیت مانگتا ہوں   اور اپنے دین و دنیا اور مال و اولاد میں   عفو و عافیت طلب کرتا ہوں  ،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میری پردہ پوشی فرما،   مجھے خوف سے  امن عطا فرما اور میری لغزشوں   کو معاف فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرے سامنے اور پیچھے سے  اور میرے دائیں  ،   بائیں   اور اوپر سے  میری حفاظت فرما اور میں   زمین میں   دھنسائے جانے سے  بھی پناہ مانگتا ہوں  ۔

عطائے خداوندی: 

            حضرت سَیِّدُنا بُرَیْدَہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے  ارشاد فرمایا: ’’اے بُرَیْدَہ ! کیا میں   تمہیں   چند کلمات نہ سکھا دوں   کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے  اپنی خیر و بھلائی سے  نوازنا چاہتا ہے اسے  ہی یہ کلمات سکھاتا ہے اور پھر اس کے بعد وہ ان کلمات کو کبھی نہیں   بھولتا۔ ‘‘  فرماتے ہیں   کہ میں  نے عرض کی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیوں   نہیں   ضرور سکھائیں  ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ پڑھا کرو:

 (اللّٰہُمَّ اِنِّیْ ضَعِیْفٌ فَقَوِّ فِیْ رِضَاكَ ضُعْفِیْ،   وَخُذْ اِلَی الْخَیْرِ بِنَاصِیَتِیْ،   وَاجْعَلِ الْاِسْلَامَ مُنْتَہٰی رِضَایَ۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ ضَعِیْفٌ فَقَوِّنِیْ وَاِنِّیْ ذَلِیْلٌ فَاَعِزِّنِیْ وَاِنِّیْ فَقِیْرٌ فَاغْنِنِیْ بِرَحْمَتِكَ یاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ)    ([3])

 تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   کمزور ہوں   میرے ضعف کو اپنی رضا میں   قوت عطا فرما،   میری پیشانی کو خیر وبھلائی کی جانب کر دے اور اسلام کو میری رضا مندی کی انتہا بنا دے،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   کمزور ہوں   مجھے قوت عطا فرما،   میں   ذلیل ہوں   مجھے عزت عطا فرما،   اے سب سے  بڑھ کر رحم فرمانے والے!میں   فقیر ہوں   مجھے اپنی رحمت سے  غنی بنا دے۔

دنیا و آخرت کی جامع الخیر دعا: 

            حضرت سَیِّدُنا ابو مالک اشجعی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میرے والدِ ماجدنے مجھے بتایا کہ ہم صبح کے وقت محبوبِ ربِّ داور،   شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں   حاضر ہوا کرتے تھے،   ایک مرتبہ ایک مرد یا ایک عورتنے حاضر ہو کر عرض کی:  ’’یا رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   صبح کے وقت کیا دعا مانگوں  ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ دعا مانگا کرو،   دنیا و آخرت کی خیر و برکت تمہارے لئے جمع کر دی جائے گی:

 (اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاجْبُرْنِیْ)   ([4])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! حضرت سَیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے ہدایت اور رزق عطا فرما اور مجھے عافیت دے اور میرے حال کو دُرُست فرما۔

شیطان سے  چھٹکارا حاصل کرنے کی دعا: 

            حضرت سَیِّدُنا ابو زُرْعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے میرے ایک خط کے جواب میں   مکتوب بھیجا اور دورانِ ملاقات بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ بتایا کہ شیطان اس شخص کے قریب نہیں   جاتا جو صبح و شام یہ دعا تین تین مرتبہ پڑھ لیا کرے: 

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِاِسْمِكَ وَكَلِمَاتِكَ التَّـآمَّۃِ مِنْ شَرِّ السَّآ مَّۃِ وَالْہَآمَّۃِ وَاَعُوْذُ بِاِسْمِكَ وَكَلِمَاتِكَ التَّـآمَّۃِ مِنْ شَرِّ عَذَابِكَ وَشَرِّ عِبَادِكَ وَاَعُوْذُ بِاِسْمِكَ وَكَلِمَاتِكَ التَّـآمَّۃِ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ بِاَسْمَآئِكَ وَكَلِمَاتِكَ التَّـآمَّۃِ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّكَ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَاَسْئَلُكَ مِنْ خَیْرٍ مَّا تُعْطٰی وَمَا تُسْئَلُ وَمِنْ خَیْرٍ مَّا تُخْفٰی وَخَیْرٍ مَّا تُبْدٰی۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِاِسْمِكَ وَكَلِمَاتِكَ التَّـآمَّۃِ  (مِنْ شَرِّ مَا یَجْرِیْ بِہِ النَّہَارُ)  



[1]     کتاب الدعاء للطبرانی، باب ما کان النبی صلی اللہ عليه وسلم    الخ، الحديث:۱۴۵۹، ص۴۳۰  دون قوله ’’يا جمال السموات والارض‘‘

[2]     سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما يقول اذا اصبح، الحديث: ۵۰۷۴، ص۱۵۹۴ سنن ابنِ ماجه، کتاب الدعاء، باب ما يدعو به الرجل، الحديث:۳۸۷۱، ص۲۷۰۸

[3]     الجامع الصغير للسيوطی، الحديث:۲۸۸۲، ص۱۷۲ بتغير قليل

[4]     صحيح ابنِ خزيمه، کتاب الصلاة، باب جامع الدعاء بعد الصلاة، الحديث: ۷۳۳، ج۱، ص۳۶۶



Total Pages: 332

Go To