Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

جامع اور کامل دعا: 

            مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا     کو جامع اور کامل دعائیں   مانگنے کے متعلق ارشاد فرمایا اور یہ دعا سکھائی:

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ الصَّلَاۃَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ،   وَاَسْئَلُكَ مِنَ الْخَیْرِ كُلِّہٖ عَاجِلِہٖ وَاٰجِلِہٖ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ،   وَاَعُوْذُبِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّہٖ عَاجِلِہٖ وَاٰجِلِہٖ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ،   وَاَسْئَلُكَ  الْجَنَّۃَ،   وَمَا قَرُبَ اِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ وَّعَمَلٍ،   وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ النَّارِ،   وَمَا قَرُبَ اِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ وَّعَمَلٍ،   وَاَسْئَلُكَ مِنَ الْخَیْرِ مَا سَئَلَكَ بِہٖ عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَاَسْتَعِیْذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْہُ عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَاَسْئَلُكَ مَا قَضَیْتَ لِیْ مِنْ اَمْرٍ اَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَہٗ رُشْدًۢا بِرَحْمَتِكَ یاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ)   ([1])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  سوال کرتا ہوں  کہ حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی آل پر رحمت فرما … اور تجھ سے  ہر قسم کی جلد اور دیر سے  آنے والی خیر و بھلائی کی بھیک مانگتا ہوں   خواہ اس سے  میں   آگاہ ہوں   یا نہ ہوں   … اور میں   ہر جلد اور دیر سے  آنے والے شر سے  تیری پناہ مانگتا ہوں   خواہ میں   اس شر سے  آگاہ ہوں   یا نہ ہوں   … اور تجھ سے  جنت اور اس کے قریب کر دینے والے قول و عمل کا سوال کرتا ہوں   … اور دوزخ اور اس کے قریب کر دینے والے قول و عمل سے  پناہ مانگتا ہوں   … اور تجھ سے  ہر وہ شے مانگتا ہوں   جو تیرے بندے اور رسول حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے طلب کی … اور تجھ سے  ہر اس شے سے  پناہ مانگتا ہوں  جس سے  تیرے بندے اور رسول حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پناہ مانگی۔ اے سب رحم کرنے والوں   سے  زیادہ رحم فرمانے والے!تونے میرے متعلق جو فیصلہ فرمایا ہے میں   تجھ سے  تیری رحمت کے صدقے اس کے انجام کے بہتر ہونے کا سوال کرتا ہوں  ۔

سیِّدَہ فاطمہ رَضِی اللہُ تَعَالٰی عَنہا           کو نصیحت: 

            حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ حضورنبی ٔرحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے  ارشاد فرمایا: اے فاطمہ! میں   تمہیں   نصیحت کرتا ہوں  ،   توجہ سے  سنو اور یوں   دعا مانگا کرو:

 (یا حَیُّ یا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِیْثُ فَاَغِثْنِیْ وَلَا تَكِلْنِیْۤ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَاَصْلِــحْ لِیْ شَاْنِیْ كُلِّہ)   ([2])

تر جمعہ : اے زندہ! اے دوسروں   کے قائم رکھنے والے! تیری رحمت کے بھروسے  پر میں   مدد مانگ رہا ہوں   پس میری مدد فرما اور مجھےایک لمحے کے لئے بھی میرے نفس کے حوالے مت فرما بلکہ میرے ہر معاملے کی اصلاح فرما دے۔

سیدنا ابو بکر صدیق رَضِی اللہُ تَعَالٰی عَنہ    کو سکھائی گئی دعا: 

            محبوب ربِّ داور،   شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ دُعا سکھائی

 (قُلِ اللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ بِمُحَمَّدٍ نَّبِیِّكَ وَاِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلِكَ وَمُوْسٰی نَجِیِّكَ وَكَلِیْمِكَ وَعِیْسٰی رُوْحِكَ وَكَلِمَتِكَ وَبِكَلَامِ مُوْسٰی وَاِنْجِیْلِ عِیْسٰی وَزَبُوْرِ دَاوٗدَ وَفُرْقَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَكُلُّ وَحْیٍ اَوْحَیْتَہٗ اَوْ قَضَآءٍ قَضَیْتَہٗ اَوْ سَآئِلٍ اَعْطَیْتَہٗ اَوْ غَنِیٍّ اَقْنَیْتَہٗ اَوْ فَقِیْرٍ اَغْنَیْتَہٗ اَوْ ضَآلٍّ ھَدَیْتَہٗ وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَہٗ عَلٰی مُوْسٰی وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ ثُبِتَ بِہٖ اَرْزَاقُ الْعِبَادِ وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَہٗ عَلَی الْاَرْضِ فَاسْتَقَرَّتْ وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَہٗ عَلَی السَّمٰوَاتِ فَاسْتَقَلَّتْ وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَہٗ عَلَی الْجِبَالِ فَاَرْسَتْ وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ اِسْتَقَلَّ بِہٖ عَرْشُكَ وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الطَّہِرِ الطَّاھِرِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الْوِتْرِ الْمُنَزَّلِ فِیْ كِتَابِكَ مِنْ لَّدُنْكَ مِنَ النُّوْرِ الْمُبِیْنِ وَاَسْئَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَہٗ عَلَی النَّہَارِ فَاسْتَنَارَ وَعَلَی اللَّیْلِ فَاَظْلَمَ وَبِعَظَمَتِكَ وَكِبْرِیآئِكَ وَبِنُوْرِ وَجْہِكَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ نَّبِیِّكَ وَعَلٰۤی اٰلِہٖ وَاَنْ تُرْزِقَنِیَ الْقُرْاٰنَ وَالْعِلْمَ وَتُخَلِّطَہٗ بِلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَتَسْتَعْمِلُ بِہٖ جَسَدِیْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ فَاِنَّہٗ لَا حَوْلَ لِیْ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِكَ یاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ)   ([3])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  تیرے نبی حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور تیرے خلیل حضرت سیِّدُنا ابراہیم اور تیرے نجی و کلیم حضرت سیِّدُناموسیٰ اور تیری روح اور کلمے حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِمُ السَّلَام کے صدقے سوال کرتا ہوں   … اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکے کلام،   حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی انجیل،   حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کی زبور اور حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قرآنِ مجید کے وسیلہ سے  تجھ سے  مانگتا ہوں   … اور اس وحی کے وسیلہ سے   (بھی مانگتا ہوں  )  جو تونے کسی کی جانب کی … یا ہر اس فیصلے کے واسطہ سے  جو تونے کیا … یا ہر اس سائل کے وسیلے سے  سوال کرتا ہوں  جس کو تونے عطا فرمایا … یا اس غنی کے وسیلہ سے  جس کو تونے مال عطا کیا … یا اس فقیر کے وسیلہ سے  جس کو تونے غنی فرما دیا … یا ہر اس گمراہ کے صدقہ جس کو تونے ہدایت کی دولت عطا فرمائی … اور میں   تجھ سے  تیرے اس بابرکت نام کے وسیلہ سے  سوال کرتا ہوں   جو تونے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامپر اتارا … اور تیرے اس بابرکت نام کے وسیلہ سے  مانگتا ہوں   جس سے  بندوں   کو رزق عطا کیا جاتا ہے … اور تجھ سے  تیرے اس بابرکت نام کے وسیلہ سے  سوال کرتا ہوں   جس کو تونے زمین پر نازل فرمایا تو وہ قرار پکڑ گئی … اور تجھ سے  اس بابرکت نام کے وسیلہ سے  مانگتا ہوں   جس کو تونے آسمانوں   پر رکھا تو وہ جم گئے … اور تیرے اس بابرکت نام کے واسطہ سے  سوال کرتا ہوں   جس کو تونے پہاڑوں   پر رکھا تو وہ گڑ گئے … اور میں   تجھ سے  تیرے اس بابرکت نام کے واسطہ سے  مانگتا ہوں   جس سے  تیرا عرش بلند ہوا … اور تیرے بابرکت نام اَلطَّہِر،   اَلطَّاھِر،   اَ لْاَحَد،   اَلصَّمَد،   اَلْوِتْر کے واسطہ سے  سوال کرتا ہوں   … اور تیرے ہر اس نازل کردہ بابرکت نام کے وسیلہ سے  سوال کرتا ہوں   جو تیری کتاب میں   ہے … اور تیرے اس بابرکت نام کے واسطہ سے  بھی مانگتا ہوں   جو تونے دن پر رکھا تو وہ روشن ہو گیا اور رات پر رکھا تو وہ تاریک ہو گئی … اور تجھ سے  تیری عظمت اور کبریائی کے واسطے اور تیرے نور کے وسیلہ سے  سوال کرتا ہوں   کہ تو اپنے نبی محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور ان کی آل پر رحمت فرما اور مجھے قرآنِ کریم اور علم کی دولت عطا فرما اور اسے  میرے گوشت،   میرے خون،   میری سماعت اور میری بصارت میں   ملا دے کہ میرا جسم تیری عطا کردہ قوت و طاقت سے  اسے  استعمال کر سکے کیونکہ اے سب سے  بڑھ کر رحم فرمانے والے! تیری عطا کردہ توفیق کے بغیر مجھ میں   نہ تو نیکی کرنے کی کوئی قوت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی کوئی طاقت۔

 



[1]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السيدة عائشه رضی اللہ تعالٰی عنها، الحديث:۲۵۱۹۱، ۲۵۱۹۲، ج۹، ص۴۸۱، ۴۸۲ دون قوله ’’الصلاة علی محمد و اله‘‘

[2]     السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب عمل اليوم والليلة،باب ما يقول اذا امسیٰ،الحديث:۱۰۴۰۵، ج۶، ص۱۴۷،دون قوله’’فاغثنی‘‘

[3]     جامع الاصول للجزری، الکتاب الاول فی الدعاء، الفصل التاسع فی دعاء الحفظ، الحديث:۲۳۰۲، ج۴، ص۲۴۹

                                                        کتاب الدعاء للطبرانی، باب الدعاء لحفظ القران، الحديث: ۱۳۳۴، ص۳۹۷



Total Pages: 332

Go To