Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

انہوں  نے جنت کے اِنعامات واِکرامات دیکھے اور جو کچھ دیکھا تھا اس کے اوصاف بھی بیان کئے اور پھر ارشاد فرمانے لگے کہ میں  نے فرشتوں   سے  سوال کیا یہ سب کچھ کس کے لئے ہے؟ تو انہوں  نے بتایا کہ یہ سب کچھ اس کے لئے ہے جو ویسا ہی عمل کرے جو آپ کرتے ہیں  ۔

            اس کے بعد آپ فرماتے ہیں   کہ میں  نے جنتی پھل کھائے اور فرشتوں  نے مجھے جنتی مشروب بھی پلایا،   اسی اثنا میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ 70انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے ساتھ ساتھ فرشتوں   کی 70قطاریں   بھی تھیں  ،   ہر قطار مشرق سے  مغرب تک طویل تھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُم  کہا اور میرا ہاتھ تھام لیا،   میں  نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے بتایا ہے کہ انہوں  نے یہ حدیثِ پاک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  سماعت فرمائی ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’خضرنے سچ کہا ہے اور انہوں  نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ حق ہے اور وہ اہلِ زمین کے عالم اور ابدالوں   کے سردار ہیں  ،   نیز وہ زمین میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لشکر میں   سے  ہیں  ۔ ‘‘ 

            میں  نے دوبارہ عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو یہ عمل کرے لیکن ان انعامات کا مشاہدہ نہ کر سکے جو میں  نے اپنی آنکھوں   سے  دیکھے ہیں   تو کیا اسے  بھی ویسے  ہی نوازا جائے گا جیسے  مجھے نوازا گیا ہے؟‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! یقیناً  ربِّ قدّوس عَزَّ وَجَلَّ ہر اس شخص کو ان انعامات سے  نوازے گا جو اس وظیفہ پر عمل کرنے والا ہو گا خواہ اسنے نہ تو سمیری زیارت کی ہو اور نہ ہی جنت کا مشاہدہ کیا ہو،   بلکہ پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  اس کی تمام بڑی بڑی لغزشیں   تک معاف فرما کر اس سے  اپنی ناراضی ختم فرما دے گا اور بائیں   کندھے والے فرشتے کو حکم دے گا کہ سال بھر تک اس کی برائیاں   نہ لکھنا اور اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! یہ عمل صرف وہی شخص بجا لائے گا جس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سعادت مند و خوش بخت بنا کر پیدا کیا ہو گا اور اس عمل کو ترک بھی صرف وہی کرے گا جو بدبخت ہو گا۔ ‘‘  ([1])

حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ حضرت ابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے چار ماہ تک نہ تو کچھ کھایا اور نہ ہی کچھ پیا،   ہو سکتا ہے کہ ان کی یہ حالت اس خواب کے بعد ہوئی ہو۔    (وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَم)

            یہ سب سے  بہترین اَوراد و وَظائف ہیں   جنہیں   صبح کی نماز کے بعد پڑھا جا سکتا ہے،   ان کے فضائل بکثرت اخبار و احادیث ِ مبارکہ میں   وارد ہیں   لیکن اختصار کے پیشِ نظر ہم نے ان تمام کے تذکرے سے  گریز کیا ہے۔

٭ ٭ ٭

٭ پہاڑ برابر قرض سے  نجات کا وظیفہ ٭

ایک مکاتَب  (یعنی وہ غلام جس نے اپنے آقاسے  مال کی ادائیگی کے بدلے آزادی کامُعاہَدہ کیا ہو۔ مختصر القدوری،    ص۱۷۱) نے حضرت مشکل کشا،   علیُّ المرتَضی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بارگاہ میں  عرض کی: میں  اپنی کِتابت  (یعنی آزادی کی قیمت)  ادا کرنے سے  عاجِز ہوں ،   میری مدد فرمائیے۔ آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا: میں  تمہیں  چند کلمات نہ سکھاؤں  جو سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے سکھائے ہیں ،   اگر تم پرجَبَلِ صیر  (صیر ایک پہاڑکانام ہے۔ النھایۃ،    ج۳،    ص۶۱)   جتنا دَین  (یعنی قرض)  ہوگا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری طرف سے  ادا کردے گا،   تم یوں  کہا کرو: 

اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔ (سنن الترمذی،   ج۵،  ص۳۲۹،  حد یث :  ۳۵۷۴)

فصل: 5

نمازِ فَجْر کے بعد کی مَسْنُون دُعائیں

اس فصل میں   نمازِ فجر کے بعد کی ان جامع اور مختصر دعاؤں   کا بیان ہے جو مختلف احادیث ِ مبارکہ میں   وارد ہیں  ۔

دعا شروع کرنے کا مسنون طریقہ:

            سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس طرح دعا شروع فرمایا کرتے تھے:

 (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَلِیِّ الْاَعْلَی الْوَھَّابْ)   ([2])  تر جمعہ : پاک ہے میرا بزرگ و برتر اور انتہائی زیادہ عطا کرنے والا پَرْوَرْدگار۔

            اس کے علاوہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان الفاظ سے  بھی آغاز فرمایا کرتے تھے:

 (لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ،   لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ،   یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ،   بِیَدِہِ الْخَیْرِ وَھُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ اَھْلُ النِّعْمَۃِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنآءِ الْحَسَنِ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیاہٗ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ كَرِہَ الْكَافِرُوْنَ)

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں  ،   اسی کے لئے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں   ہیں  ،   وہی زندگی عطا فرماتا ہے اور موت بھی وہی دیتا ہے اور وہ زندہ ہے اسے  کبھی موت نہ آئے گی،   اسی کے دست ِ قدرت میں   خیر و بھلائی ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   وہ نعمتوں   والا،   فضل و کرم والا اور بہترین تعریف کا مالک ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں   اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اگرچہ کافر اسے  ناپسند کریں  ۔

 



[1]     تاريخ مدينة دمشق، الرقم ۱۹۶۵ الخضر، ج۱۶، ص۴۳۰ مختصراً

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، حديث ابن الاکوع، الحديث:۱۶۵۴۸، ج۵، ص۵۶۱



Total Pages: 332

Go To