Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سے  پناہ طلب کرتا ہوں  ۔

دنیا و آخرت کی بھلائی کا مختصر وظیفہ: 

             (۲۲) … حضرت سیِّدُنا قَبِیْصَہ بن مخارق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صاحبِ جُودو نوال،   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے  عرض کی: ’’مجھے ایسے  کلمات سکھا دیجئے جن کی وجہ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے فائدہ دے،   لیکن وہ مختصر ہوں   کیونکہ میں   بوڑھا ہو چکا ہوں   اور پہلے جو اعمال کیا کرتا تھا ان میں   سے  بھی کئی ایک پر عمل سے  قاصر ہوں  ۔ ‘‘  تو سراپا رَحمت،  شافِعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’دنیا کے لئے تو یہ وظیفہ ہے کہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد تین مرتبہ یہ پڑھا کرو:  (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ،   سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ)   ([1]) جب تمنے یہ الفاظ کہہ لئے تو اندھے پن،   جذام،   برص اور فالج سے  محفوظ ہو جاؤ گے اور آخرت کے لئے یہ وظیفہ ہے:  (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاھْدِنِیْ مِنْ عِنْدِكَ وَ اَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِكَ وَانْشُرْ عَلَیَّ مِنْ رَّحْمَتِكَ وَانْزِلْ عَلَیَّ مِنْۢ بَرَكَاتِكَ)   ([2])  اس کے بعد سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن جب کوئی ان دعاؤں   کا بدلہ پائے گا تو دیکھے گا کہ ان میں   سے  کسی کو ترک نہیں   کیا گیا،   بلکہ اس کی خاطر جنت کے چار دروازے کھولے جائیں   گے کہ جس سے  چاہے داخل ہو جائے۔ ‘‘    ([3])

جامع الوظائف خضری تحفہ: 

            صبح کی نماز کے بعد 7،   7 بار یہ دس وظائف پڑھیں   جو حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت سیِّدُنا ابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کو عطا فرمائے اور وصیت فرمائی کہ صبح و شام پڑھا کریں  ۔  ([4])  مزید ارشاد فرمایا کہ انہیں   یہ وظیفہ نبیوں   کے سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عطا فرمایا ہے۔ اس کے بعد آپ نے اس وظیفے کے فضائل اور اس کے عظیم الشان ہونے کا تذکرہ کیا۔ پس کوئی ایسا سعادت مند انسان ہی اس پر ہمیشہ عمل کر سکتا ہے جس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاص نظرِ کرم ہو۔ یہاں   ہم اختصار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اس وظیفہ کے فضائل کا تذکرہ حذف کر رہے ہیں  ۔ اس کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ جو بھی اس وظیفہ پر عمل کرے گا اور اس پر مداومت  (مُ۔دا۔وَ۔ مَت یعنی ہمیشگی)  اختیار کرے گا تو اُسے  وہ تمام فضائل حاصل ہوں   گے جو ہم نے مختلف مذکورہ دعاؤں   کے ضمن میں   بیان کئے ہیں  ۔ چنانچہ، 

            حضرت سیِّدُنا سعید بن سعید عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَمِیۡد سے  مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو طیبہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت سیِّدُنا کُرْز بن وبرۃ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جو کہ ابدال تھے،   سے  روایت فرماتے ہیں  : ’’میرے ایک برادرِ محترم شام سے  تشریف لائے اور مجھے ایک تحفہ عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’اے کُرْز! میری جانب سے  یہ تحفہ قبول کر لیں   کہ یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔ ‘‘  میں  نے ان سے  عرض کی:  ’’اے میرے بھائی! آپ کو یہ تحفہ کہاں   سے  ملا؟‘‘  تو انہوں  نے بتایا کہ مجھے حضرت سیِّدُنا ابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے عطا فرمایا ہے،   میں  نے پھر پوچھا: ’’کیا آپ نے ان سے  یہ دریافت نہ فرمایا کہ انہیں   یہ کسنے دیا؟ ‘‘  تو انہوں  نے بتایا کہ ہاں   میں  نے دریافت کیا تھا،   پس انہوں  نے بتایا: ’’ایک مرتبہ مَیں   کعبہ مشرفہ کے صحن میں   تَسۡبِیۡح و تَحمید اور تَھلِیل  (یعنی سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ اور لا الہ الا اللّٰہ پڑھنے)  میں   مشغول تھا کہ ایک بزرگنے میرے پاس آ  کر سلام کیا اور میرے دائیں   جانب بیٹھ گئے،   میں  نے ان سے  زیادہ حسین چہرے،   عمدہ لباس،   گوری رنگت اور بہترین خوشبو والے کسی فرد کو کبھی نہ دیکھا تھا۔ چنانچہ میں  نے ان سے  پوچھا: ’’اے بندۂ خدا! آپ کون ہیں  ؟ اور کہاں   سے  تشریف لائے ہیں  ؟ ‘‘  تو انہوں  نے بتایا: ’’میں   ’’خضر ‘‘  ہوں ۔ ‘‘  میں  نے دوبارہ پوچھا کہ میرے پاس کس غرض سے  تشریف لائے ہیں  ؟ تو انہوں  نے فرمایا: ’’میں   تو صرف آپ کو سلام کرنے اور آپ کی پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  سے  جو محبت ہے اس کی وجہ سے  آیا ہوں  ،   نیز میرے پاس ایک تحفہ ہے جو آپ کو دینا چاہتا ہوں  ۔ ‘‘  میں  نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ تو انہوں  نے فرمایا کہ سورج طلوع ہونے اور زمین پر اس کی روشنی پھیلنے سے  پہلے اور اسی طرح اس کے غروب ہونے سے  بھی پہلے یہ وظیفہ پڑھا کریں  : 

  (۱) … سات بار الحمد شریف  (۲) … سات بار سورۂ ناس  (۳) … سات بار سورۂ فلق  (۴) … سات بار سورۂ اخلاص  (۵) … سات بار سورۂ کافرون  (۶) … سات بار آیتُ الکرسی  (۷) … سات بار  (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ)   (۸) … سات بار درودِ پاک  (۹) … سات بار اپنے لئے،   اپنے والدین اور ان کی اولاد کے لئے،   اپنے اہل وعیال،   تمام مومنین و مومنات اور زندہ و فوت شدہ افراد کے لئے دعائے مغفرت کیا کریں   اور  (۱۰) … پھر سات بار یہ دعا مانگیں  :

 (اَللّٰھُمَّ یا رَبِّ افْعَلْ بِیْ وَ بِھِمْ عَاجِلًا وَّ اٰجِلًا فِی الدِّیْنِ وَ الدُّنْیا وَالْاٰخِرَۃِ مَاۤ اَنْتَ لَہٗ اَھْلٌ وَّلَاتَفْعَلْ بِنَا یامَوْلَایَ مَا نَحْنُ لَہٗ اَھْلٌ۔ اِنَّكَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ جَوَّادٌ كَرِیْمٌ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ)   ([5])

                اور  (پھر حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا)  یہ خیال رکھیں   کہ صبح و شام ان وظائف میں   سے  کوئی رہ نہ جائے۔              حضرت سیِّدُنا ابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ میں  نے ان سے  عرض کی: ’’میں   چاہتا ہوں   کہ آپ مجھے اس بات سے  بھی آگاہ فرمائیں   کہ آپ کو یہ تحفہ کسنے عطا فرمایا ہے؟ ‘‘  تو انہوں  نے بتایا: ’’مجھے یہ تحفہ و عطیہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عطا فرمایا ہے۔ ‘‘  میں نے پھر عرض کی:  ’’مجھے اس کا اجر و ثواب بھی بتائیں ۔ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’جب آپ کی ملاقات تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  ہو گی تو خود ہی اس کا ثواب دریافت فرما لیجئے گا،   یقیناً وہ آپ کو آگاہ فرما دیں   گے۔ ‘‘ 

            حضرت سیِّدُنا ابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ ایک دن انہوں  نے خواب دیکھا کہ فرشتے ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں   اٹھا کر جنت میں   داخل فرما دیا،   



[1]     ترجمہ: اللہ عَزَّوَجَلَّ  پاک ہے اور اسی کی حمد ہے، عظمتوں  والا اللہ پاک ہے اور اسی کی حمد ہے اور گناہوں  سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں  مگر اللہ کی طرف سے۔   

[2]     ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! (حضرت سیِّدُنا) محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آلِ محمد پر رحمت فرما اور مجھے بھی اپنی خاص ہدایت سے نواز اور مجھ پر اپنا فضل و کرم فرما اور مجھ پر اپنی رحمت پھیلا اور اپنی برکتیں  نازل فرما۔

[3]     عمل اليوم و الليلة لابن سنی، باب ما يقول فی دبر صلاة الصبح، الحديث:۱۳۳، ص۴۹ بتغير قليل

[4]     احياء علوم الدين، کتاب ترتيب الاوراد، الباب الاول، ج۱، ص۴۲

[5]     ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میرے اور ان کے ساتھ دین و دنیا اور آخرت کے معاملے میں  جلدی اور دیر سے ایسا سلوک فرما جو تیری شان کے لائق ہے اور اے میرے پَرْوَرْدگار! ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ نہ فرمانا جو ہمارے لائق ہے، بے شک  تو ہی بخشنے والا، بردبار، جواد، کرم کرنے والا، مہربان، رحم فرمانے والا ہے۔



Total Pages: 332

Go To