Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں   جو اپنے علم کے دسویں   حصے پر عمل کرے گا نجات پا جائے گا۔ ‘‘   ([1])

            منقول ہے کہ لوگوں   پر ایک زمانہ آئے گا جب افضل علم خاموشی اور افضل عمل نیند ہو گا۔ جب منافقین کثرت سے  شبہات کا شکار ہوں   گے تو جاہل کی خاموشی علم شمار ہو گی۔ جب عاملین کثرت سے  شہوات کا شکار ہوں   گے تو نیند غافلین کی عبادت بن جائے گی۔ میری عمر کی قسم! خاموشی اور نیند عالم کی ادنیٰ اور جاہل کی اعلیٰ حالتیں   ہیں   ۔  ([2])

سنتوں   سے  دوری: 

            حضرت سیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرمایا کرتے تھے کہ آج کے دور میں   حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتیں   جاننے والے کو عجیب اور انوکھا سمجھا جاتا ہے اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے طریقے جاننے والے کو تو اس سے  بھی انوکھا و عجیب سمجھا جاتا ہے اور فرماتے کہ جو ایسا کرتا ہے وہ آخر اسلاف کے طریقے جان ہی لیتا ہے حالانکہ یہ بھی ایک انوکھا و عجیب کام ہے کیونکہ اس کام کے نتیجے میں   وہ انوکھے و اجنبی افراد کو جانتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا حذیفہ مرعشی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھے ایک مکتوب میں   فرمایا کہ اطاعت اور اطاعت والے  (اس جہانِ فانی سے )  جا چکے ہیں  ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اب کوئی ایسا شخص باقی نہیں   رہا جس سے  دل بہلایا جائے۔ ایک بار ارشاد فرمایا: ’’تیرا اس زمانے کے بارے میں   کیا خیال ہے جس میں   علمی مذاکرہ معصیت شمار ہو گا؟ ‘‘  جب عرض کی گئی کہ ایسا کیونکر ہو گا؟ تو ارشاد فرمایا: ’’اس لئے کہ اہلِ علم نہیں   پائے جائیں   گے۔ ‘‘   ([3])

            حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ تم اس وقت تک بھلائی پر رہو گے جب تک اپنے نیک لوگوں   سے  محبت کرتے رہو گے اور جب تک حق بات بول کر اسے  پہچانا جاتا رہے گا اور جب تم میں   علم والوں   کی حالت ایک مردہ بکری کی طرح ہو جائے گی تو تم ہلاک و برباد ہو جاؤ گے۔  ([4])

            متقدمین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے پاس بعض علوم ایسے  تھے جن پر ان کا اجماع تھا اور وہ ایک دوسرے سے  یہ علوم سیکھا کرتے تھے مگر ہمارے زمانے میں   ان کے آثار مٹ چکے ہیں   اور سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے بہت سے  طریقے تھے جن پر نہ صرف وہ عمل کرتے بلکہ ان  (کی مشکلات)  کے بارے میں   ایک دوسرے سے  پوچھا بھی کرتے تھے مگر اب ہمارے ہاں   ان طریقوں   کے نشانات تک نہیں   ملتے۔ جس کی وجہ طالبینِ راہِ طریقت کا کم ہو جانا،   رغبت رکھنے والوں   کا معدوم ہو جانا اور علما و سالکین کا ختم ہو جانا ہے۔

سالکین راہِ حق کی چند باتیں  :

٭ طلبِ حلال                       ٭  معاملات و کمائی میں   علمِ ورع

٭  علمِ اخلاص                                     ٭  نفس کی آفات اور اعمال کا فساد جاننا

٭  علم و عمل کا نفاق جاننا           ٭ علم و عمل کے نفاق کے درمیان فرق کرنا

٭  دل اور نفس کے نفاق کے درمیان فرق جاننا

٭  نفسانی خواہشات کے اظہار و خفا کے فرق کو جاننا

٭  ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ دل کے سکون اور اسباب کے ذریعے نفس کے سکون میں   فرق کرنا

٭  روحانی و نفسانی خیالات اور ایمان،   یقین اور عقل کے خیالات کے درمیان فرق کرنا

٭  احوال کی فطرت جاننا                       ٭ عاملین کے طریقوں   کے احوال جاننا

٭  عارفین کے مشاہدات کا فرق سمجھنا

٭…  مریدوں   کے مشاہدات میں   ہونے والی تبدیلی کو جاننا

٭ قبض و بسط کا جاننا                  ٭  صفاتِ عبودیت کو عملی شکل دینا

٭  اخلاقِ ربوبیت اپنانا              ٭  اور مقاماتِ علما کے فرق کو سمجھنا وغیرہ۔

            اس کے علاوہ چند ایسی باتیں   ہیں   جن کا ہم نے مفصل تذکرہ نہیں   کیا:

٭ علمِ توحید                          ٭ صفاتِ باری تعالیٰ کے معانی و مفاہیم کی معرفت

٭ ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلی کے مشاہدے سے  حاصل ہونے والے علوم

 



[1]    ۔ المرجع السابق۔جامع الترمذی، ابواب الفتن، باب فی العمل فی الفتن   الخ، الحدیث: ۲۲۶۷، ص۱۸۸۰

[2]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم، ج۱ ، ص ۷۲۶

[3]    ۔ المرجع السابق

[4]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۹۰سفیان بن عیینۃ، الحدیث: ۱۰۷۴۰، ج۷، ص۳۳۳



Total Pages: 332

Go To