Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ذَھَبَ الرِّجَالُ الْمُقْتَدیٰ بِفِعَالِہِمْ                                                                                                                                                                                                  وَ الْمُنْکِرُوْنَ لِکُلِّ اَمْرٍ مُّنْکَر

وَبَقِیَتْ فِیْ خَلْفٍ یُّزَکِّیْ بَعْضُہُمْ                                                                                                                                                                        بَعْضًا لِّیَدْفَعُ مُعَوَّرٌ عَنْ مُّعَوَّر

 تر جمعہ : وہ لوگ  (اس دنیا سے )  چلے گئے جن کے اعمال کی پیروی کی جاتی تھی اور جو ہر ناپسندیدہ بات کو ناپسند جانتے تھے اور میں   ان کے بعد ایسے  برے لوگوں   میں   باقی رہ گیا ہوں   جو ایک دوسرے کی تعریف میں   مصروف ہیں   تا کہ ایک بدباطن دوسرے بدباطن کا دفاع کرے۔  ([1])

اَبُنَیَّ اِنَّ مِنَ الرِّجَالِ بَہِیْمَۃٌ                                                                                                                                                                          فِیْ صُوْرَۃِ الرَّجُلِ السَّمِیْعِ الْمُبَصَّر

فَطِنًا ۢبِکُلِّ مُصِیْبَۃٍ فِیْ مَالِہٖ                                                                                                                                                                              فَاِذَاۤ اُصِیْبَ بِدِیْنِہٖ لَمْ یَشْعَر

تر جمعہ : اے میرے بیٹے! بعض لوگ دیکھنے سننے والے انسان کے روپ میں   جانوروں   کی مثل ہیں  ۔ جو اپنے مال میں

 

  آنے والی ہر مصیبت کو تو سمجھتے ہیں   مگر جب ان کے دین پر کوئی مصیبت آتی ہے تو انہیں   احساس تک نہیں   ہوتا۔  ([2])

فَسَلِ الْفَقِیْہَ تَکُنْ فَقِیْہًا مِّثْلَہٗ                                                                                                                                                             مَنْ یَّسَعْ فِیْۤ اَمْرٍۢ بِفِقْہٍ یَّظْفَر

تر جمعہ : پس کسی فقیہ سے  سوال پوچھا کر کہ تو بھی اس کی مثل فقیہ ہو جائے گا،   کیونکہ جو کسی معاملہ میں   سوجھ بوجھ سے  کام لیتا ہے کامیاب ہو جاتا ہے۔

کثرتِ شبہات کا زمانہ : 

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ آخری زمانے میں   حسنِ سیرت عمل کی کثرت سے  بہتر ہو گی۔  ([3]) اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے زمانے کے اوصاف کا تذکرہ یقین کے ساتھ اور ہمارے زمانے کا شک کے ساتھ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے زمانے میں   بہترین انسان وہ ہے جو امور کی انجام دہی میں   جلدی کرتا ہے اور عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں   بہترین انسان وہ ہو گا جو کثرتِ شبہات کی وجہ سے  امور میں   توقف سے  کام لے گا۔ ‘‘   ([4])

قدیم و جدید دور: 

            حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   اس بات پر حیران ہوں   کہ تمہاری نیکی گزشتہ زمانے میں   برائی سمجھی جاتی تھی اور ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں   تمہاری برائی نیکی سمجھی جائے گی اور جب تک تمہیں   حق کی معرفت حاصل رہے گی تم بھلائی پر رہو گے۔ اور تم میں   جو عالم ہے حق نہیں   چھپاتا۔  ([5])  اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ بھی فرمایا کرتے کہ آخری زمانے میں   ایک ایسی قوم ہو گی جس میں   عالم کا مرتبہ ایک مرے ہوئے گدھے جیسا ہو گا جس کی جانب کوئی متوجہ نہ ہو گا۔  ([6])  اُس دور میں   مومن ایسے  چھپے گا جیسے  آج ہم میں   منافق چھپا پھرتا ہے۔  ([7])  اور اس وقت لوگوں   میں   مومن کی حیثیت ایک بے وقعت انسان جیسی ہو گی۔   ([8])

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ لوگوں   پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں   حق کے دس میں   سے  نو حصوں   کا انکار کیا جائے گا اور صرف سونے والا مومن ہی محفوظ رہے گا۔ یعنی جو خاموش اور بظاہر غافل دکھائی دے گا۔ یہی لوگ علم کے چراغ اور ہدایت کے امام ہوں   گے اور باتوں   کا ڈھنڈورا پیٹنے والے نہ ہوں   گے۔ یعنی نہ تو وہ کثرت سے  باتیں   کریں   گے اور نہ ہی اپنی باتوں   سے  فخر کا اظہار کریں   گے۔   ([9])

            سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’لوگوں   پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں   حق پہچاننے والا ہی نجات پائے گا۔ ‘‘  عرض کی گئی: ’’عمل کہاں   ہو گا؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’اس دن عمل نہیں   ہو گا بلکہ نجات صرف وہی پائے گا جو اپنا دین لیے ایک پہاڑ سے  دوسرے پہاڑ کی چوٹی کی طرف بھاگتا پھرے گا۔ ‘‘   ([10])

            حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں   پر ایک زمانہ آئے گا کہ ان میں   سے  جس نے ان امور کے دسویں   حصے پر عمل کیا جن کا اسے  حکم دیا گیا ہے تو بھی نجات پا جائے گا۔ ‘‘   ([11]) اور ایک روایت میں   ہے: ’’جس نے اپنے علم کے دسویں   حصے پر عمل کیا نجات پا جائے گا۔ ‘‘    ([12]) ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے:  ’’آج تم ایسے  زمانے میں   ہو کہ جس نے اپنے علم کے دسویں   حصے پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہلاک ہو جائے گا اور عنقریب ایک زمانہ آئے گا جس



[1]    ۔ عیون الاخبار للدینوری، کتاب العلم و البیان، العلم، ج۲، ص۱۳۸۔بظفر بدلہ یمھر

[2]    ۔ ذیل تاریخ بغداد لابن النجار، الرقم ۶۱۸ علی بن احمد بن بنی، ج۱۸، ص۹۰

[3]    ۔ الادب المفرد للبخاری، باب الھدی و السمت الحسن، الحدیث: ۸۱۰، ص۲۱۷ کثیر من العمل بدلہ بعض العمل

[4]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم، ج۱، ص ۷۲۶

[5]    ۔ تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم۴۶۵۹ عدی بن حاتم الجواد، ج۴۰، ص۹۲ بدون اعجب من ھذا۔و بتغیر

[6]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم، ج۱ ، ص ۷۲۶

[7]    ۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم ۲۰۹۶ یحیی بن ابی انیسۃ، ج۹، ص۹ عن جابر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

[8]    ۔ الزھد لابی داود، من خبر ابن مسعود، الحدیث: ۱۷۶، ج۱، ص۱۸۸ عن عبداللہ بن مسعود

[9]    ۔ الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد امیر المومنین علی بن ابی طالب، الحدیث: ۶۹۲، ص۱۵۶بتغیر و بدون مؤمن البدع لابن وضاح، باب فی نقض عدی    الخ، الحدیث: ۱۵۸، ص۱۷۲ مفھوما

[10]    ۔ الزھد الکبیر للبیھقی، فصل فی ترک الدینا    الخ، الحدیث: ۴۳۹، ص۱۸۳۔بالاختصار

[11]    ۔ جامع الترمذی، ابواب الفتن، باب فی العمل فی الفتن    الخ، الحدیث:

ہلاکت و بربادی کا باعث بننے والی اشیاءیہ ہیں

  • ایمان کا لباس

  • موت کافی ہے

  • خطبہ حجۃ الوداع کے منفرد کلمات

  • نصف علم پر مبنی روایت

  • لا یعنی کاموں سے مراد

  • صفاتِ مومنین

  • مومنین کی جامع صفت

  • محاسبہ کا طریقہ

  • مشتبہ خیال کا حکم

  • کثرتِ شبہات کی وضاحت

  • ایک حدیث اور اس کی شرح

  • بخل کی مذمت کی وجہ

  • اتباعِ خواہش کی مذمت کی وجہ

  • رائے پر اِترانے کے مذموم ہونے کی وجہ

  • مشتبہ مثالوں میں ترجیح کا طریقہ

  • بد گمانی کی پُرسش

  • بلا تحقیق بات آگے پہنچانا منع ہے

  • امور کی اقسام

  • اظہارِ حق و باطل

  • اظہارِ بیان

  • حکمت و ہدایت بھی ایک نعمت ہے

  • مقاماتِ تصوف

  • مراقبہ

  • معرفت

  • مقامِ بُعد

  • نامۂ اعمال کے تین رجسٹر

  • اے بندۂ غافل! کل بروزِ قیامت کیا کرے گا؟

  • دین کا خالص ہونا

  • ٭…روشن ضمیر نانبائی …٭

  • فصل 24

  • وِرْدِ سالکین کی کیفیت اورحالِ عارفین کے اوصاف کا بیان

  • وِرد کی تعریف

  • وِرد کی کیفیت و ماہیت

  • عارفین کے اوراد کی کیفیت

  • عام سالک اور عارف کے حال میں تغیر

  • عارفین کی عبادت

  • عارفین کے ذکر کی کیفیت

  • اَورَاد و وظائف اور ان کے فضائل کا تذکرہ

  • عالم اور عابد میں فرق

  • عالم کی نیند

  • ایک عالم شیطان پر بھاری

  • حقیقی عالم علم ترک نہیں کرتا

  • جبلِ اُحد سے زیادہ وزنی اعمال

  • زمین و آسمان کی ہر شے سے وزنی عمل

  • سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے معمولات

  • بارگاہِ خداوندی تک رسائی کے راستے

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں سب سے مقرب

  • ہر عمل کا سردار

  • چار قسم کےعابد

  • دن کے وقت افضل عبادت

  • عمل پر استقامت کے متعلق سات احادیث و آثار مبارکہ

  • فصل 25

  • نفس اور عارفین کی وِجْدانی کیفیات کےتَغَیُّر کا بیان

  • نفس کی ابتلا و آزمائش

  • عارفین کی معصیت سے نفرت اور عبادت سے محبت

  • جملہ اوصافِ نفس کی اَصل

  • مقام فکر

  • نفس کے لالچ کی مثال

  • انسان ریشم کے کیڑے کی مثل ہے

  • نفس کے لالچ کی حکایت

  • نفس کی فطری و جِبلّی چار صفات

  • آزمائش میں مبتلا کرنے والی چار صفات

  • نفسانی آزمائش سے نجات کا ذریعہ

  • مرتبۂ ابدال پر فائز ہونا

  • نفس پر غلبہ حاصل کرنے کا طریقہ

  • عمر میں برکت کا مفہوم

  • مقربین و غافلین کے درجات میں تفاوت

  • غفلت میں گزرنے والے ایام

  • اوقاتِ محاسبہ

  • تکلف و اخلاص

  • بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا اندازِ محاسبہ

  • اسبابِ غفلت

  • دل پر مہر لگنے اور زنگ آلود ہونے سے مراد

  • اسبابِ معصیت

  • کفر کی بنیادیں

  • دل کی سماعت سے محرومی

  • قساوتِ قلبی

  • ٭…مال میں برکت…٭

  • فصل 26

  • اہلِ مراقبہ کے مشاہدے کا بیان

  • اہلِ مراقبہ و مشاہدہ میں فرق

  • وقت کی اہمیت

  • ذکر وشکر

  • مراقبہ کا ابتدائی وقت

  • اہلِ مراقبہ کی دو حالتیں

  • عقل مندوں کے لئے نصیحت

  • دنیاوی مشاہدہ کے چار مقامات

  • مشاہدہ کی کیفیات و انعامات

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قرب سے محروم

  • عمر کے خاتمہ سے مراد

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی گرفت

  • محاسبہ پر بندے کی کیفیت

  • مرتبۂ صدیقین پر فائز ہونے کا طریقہ

  • عمل کی کوئی انتہا نہیں

  • خود فریبی کا شکار

  • فرض و نَفْل کی ادائیگی میں اشکال

  • سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بلاوے پر لبیک کہنا

  • متشدد صوفی

  • مسلمانوں کی جاسوسی

  • حاضر دماغ بوڑھا

  • عمل کا اظہار و اخفا

  • عمل کے مخفی و ظاہر کرنے کے متعلق حکایت

  • حکایت کی وضاحت

  • 100نفلی حج سے بہتر ہے

  • ایک حال چھوڑ کر دوسرا اپنانا

  • توہینِ رسالت کفر ہے

  • اسرائیلی حکایت

  • دو باتوں میں سے بہتر کا جاننے والا

  • ٭…شیطان کا محبوب اور مبغوض…٭

  • فصل 27

  • مریدوں کی بنیادی باتوں کا بیان

  • مخلوق کے حجابات

  • سالک کی سات عادات اور ان کی علامات

  • سات عادتوں کی اصل

  • بھوک کے فوائد و فضائل

  • جامع الخیر چار باتیں

  • دل کی نورانیت و جِلا

  • شب بیداری

  • قیلولہ سنت ہے

  • خاموشی کی فضیلت

  • خاموش رہنے کا طریقہ

  • زبان کے متعلق (6) فرامینِ مصطفٰے

  • زبان کے متعلق اسلاف کے اقوال

  • عالم و جاہل میں فرق

  • خاموشی کے دو فائدے

  • ’’نہیں جانتا ‘‘ اور ’’جانتا ہوں ‘‘ میں فرق

  • عقل کی نیند اور بیداری

  • بر محل گفتگو کرنا

  • زبان کی وجہ سے گرفت

  • مومن ومنافق کی زبان

  • فضول باتوں سے رکنے والے کے لئے خوش خبری

  • خلوت کی اہمیت و فضیلت

  • استقامت کی علامت

  • ڈکار کو دور کر لو

  • بھوک میں اعتدال

  • سلف صالحین زندہ رہنے کے لئے کھاتے

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت و ناراضی کے اسباب

  • زیادہ سونے کے نقصانات

  • کثرتِ کلام کے نقصانات

  • ’’فضول گوئی ‘‘ کے متعلق روایات

  • غیبت اور اس کی مثالیں

  • (۲) … فلاں شخص کتنا کمزور ہے!

  • (۳) … اس کا دامن کتنا طویل ہے!

  • غیبت کسے کہتے ہیں ؟

  • غیبت زنا سے بھی سخت ہے

  • لوگوں سے میل جول کے نقصانات

  • یقین کو قوی کرنے والی باتیں

  • مانع توبہ باتیں

  • راہِ حق پانے کا ذریعہ

  • فصل 28

  • مراقبۂ مقربین اور مقاماتِ اہلِ یقین کا بیان

  • مراقبہ کا پہلا مقام

  • اوقات کی اہمیت

  • جھوٹی امیدیں

  • نیکی کی دعوت کا ایک اچھوتا انداز

  • ایمان کسے کہتے ہیں ؟

  • نیکی و بدی کا بدلہ

  • خوفِ الٰہی کی حقیقت

  • خود کو ’’عالم اور جنتی کہنا ‘‘ کیسا؟

  • اپنا مقام و مرتبہ پہچاننے کا طریقہ

  • مراقبہ کا دوسرا مقام

  • مقاماتِ جنت و جہنم کی معرفت

  • توحید پر دلالت کرنے والی آیاتِ بینات

  • پانچ محکم آیات

  • جنت کے درجات اور جہنم کے طبقات

  • عارفین کے اقوال

  • جنتی محل کا کنگرہ ٹوٹ گیا

  • حوروں کے حسن میں اضافہ

  • جنتی پھل گر گیا

  • ٭…40 دن کا فاقہ…٭

  • مراقبہ کا تیسرا مقام

  • قیامت کی ہولناکی

  • موت کی سختی

  • موت اور دخولِ جنت کے درمیان کی ہولناکیاں

  • ایمان کا بدلہ

  • اہلِ تقویٰ و اہلِ مغفرت

  • اچھے و برے اعمال و اقوال والے بندے

  • اچھے و برے خاتمہ والے لوگ

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطابغیر عوض کے ہوتی ہے

  • اہلِ یقین کے مراقبہ کا چوتھا مقام

  • ذرہ برابر عمل کی پرسش بھی ہو گی

  • قرآنِ کریم کی سب سے محکم ومجمل آیتِ مبارکہ

  • فقیہ کی پہچان

  • ذرے سے مراد

  • صاحبِ کتاب کا تبصرہ

  • نعمتوں کی زیادتی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل و کرم

  • دوہرا اجر و ثواب

  • کافروں کی سزا میں تفاوت

  • (1) … عذاب پر عذاب

  • (2) … بخشش و ہدایت سے محرومی

  • (3) … دوہرا عذاب

  • (4) … دنیا میں عذاب

  • دخولِ جنت و جہنم میں لوگوں کا مقدم و مؤخر ہونا

  • حسرت

  • حکمت ِ سرکارحکمت ِ خداوندی ہے

  • وقت کے متعلق سلف صالحین کے اقوال

  • مقامِ علیین والوں پر رشک ـ

  • مقربین اہلِ یقین کے مراقبہ کا پانچواں مقام

  • غفلت سے نصیحت

  • غافلین و عاملین میں فرق

  • ایامِ دنیا کے فوت ہو جانے پر حسرت

  • مقربین کے مشاہدے کا چھٹا مقام

  • مومنین کے اوصاف

  • غافلین کے اوصاف

  • قربِ خداوندی کے حصول کے اسباب

  • بندے کی بد بختی

  • محبت اندھا و بہرا کر دیتی ہے

  • بندے کی حالت ِ عین الیقین

  • بڑھاپے میں عبادت کی مثال

  • اربابِ عقل و دانش کے لئے نصیحت

  • اہلِ یقین کے مشاہدے کا ساتواں مقام

  • وقت کی تلافی

  • جو بیت گیا سو بیت گیا

  • ابدالوں کی حالت

  • صاحب کتاب کی نصیحت

  • مقامِ توبہ و علم پر فائز لوگ

  • کبریتِ احمر

  • صاحبِ کتاب کا تبصرہ

  • ٭… انوکھی شہزادی …٭

  • فصل 29

  • مقربین او ر غافلین کے درمیان فرق کا بیان

  • عمر ایک امانت ہے

  • اہلِ ایمان کی چند علامتیں

  • طالبِ دنیا و آخرت کے اوصاف

  • وعدہ پورا کرنے اور نہ کرنے والے

  • سخاوت زہد کی ابتدا ہے

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت چاہئے تو زاہد بن جاؤ

  • مومن اور بخیل میں فرق

  • طبیعتوں کا فرق

  • دنیادار اور دین دار میں فرق

  • متقین ہی مقامِ قرب پر فائز ہیں

  • طبقاتِ مقربین

  • اوصافِ اولیاء بزبانِ سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام

  • فصل 30

  • وسوسوں کا بیان

  • شیطانی وسوسوں کے متعلق آیاتِ مقدسہ

  • انسان کو گمراہ کرنے کی شیطانی چارہ جوئی

  • شیطانی وسوسوں کے متعلق چار فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم

  • دل کے دو رفیق

  • ذکر ِ الٰہی کے وقت دل پر شیطانی کیفیت اور وسوسوں کا محل

  • وسوسہ انگیزی اور نقب زنی میں مماثلت

  • دل کی سیاہی

  • دلوں کی اقسام اور ایمان و نفاق کی مثال

  • ذکر کی اہمیت

  • ظاہری و باطنی اوصاف

  • خیالات کی چھ اقسام اور ان کی وضاحت

  • خیالِ یقین

  • گناہ کا دل پر اثر ہوتا ہے

  • علمِ باطن کی اہمیت و فضیلت

  • نیکی کیا ہے؟

  • حجاب زدہ دلوں کے اوصاف

  • تقویٰ کی جگہ اور وہاں لگی مہریں کھولنے کا طریقہ

  • دل کی نصیحتیں

  • علم مقامِ توحید پر فائز کرتا ہے

  • ایمان میں کمی و بیشی اور مومنین کے درمیان فرق

  • اہل یقین اور عام مومنین کے ایمان میں فرق

  • علم کی فضیلت پر مبنی تین احادیثِ مبارکہ

  • نفسانی خیالات کے تین اسباب

  • دل کی مثال

  • مومن و منافق کا دل

  • مومن کے چار اوصاف

  • شرک و نفاق سے پاک دل

  • خیالاتِ یقین کا ادراک

  • یقین کے چار حصے

  • اہلِ یقین مومنین کا مقام و مرتبہ

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توفیق اور علم و حکمت

  • حدیث ِ پاک کی وضاحت

  • سبقت لے جانے والے مفردون

  • علمِ معرفت اور نورِ یقین

  • حقیقت ِ احسان

  • راہِ سلوک کی پہلی منزل

  • شرح صدر سے مراد

  • عرفانِ الٰہی

  • ایمان اور عدل کے ستون

  • فرشتوں کے قربِ الٰہی حاصل کرنے کا ایک انداز

  • سب سے بڑا عالم

  • عالم ربانی کسے کہتے ہیں ؟

  • نفس و روح کی تخلیق اور ان کا میلان

  • خیالات کی مختلف صورتیں اور ان کے واسطے و اسباب

  • خیالات کا اصلی منبع

  • ہمت و ارادہ کی مختلف صورتیں

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل و کرم

  • دل کے عقل کی جانب متوجہ ہونے کے ثمرات

  • خیر و بھلائی کے تین اصول

  • خیر و شر کا ظہور اور اس کے واسطے و ذرائع

  • خیالات کی ایک اَور نوع کا بیان

  • خیالِ خیر و شر کی تقدیم و تاخیر اور ان کے اثرات وکیفیات

  • ظاہر خیر باطن شر

  • شرفِ ولایت کا حصول

  • معانی کے تفصیلی بیان کا تذکرہ

  • ہر عمل میں مؤثر معانی

  • دلوں کی تبدیلی اور ان کی مثال

  • غیب کے خزانوں کا محل

  • قدرت، مشاہدۂ قدرت اور غفلت میں بندے کا حصہ

  • جب ہادی ہی گمراہ کر دے تو؟

  • بارگاہِ الٰہی تک رسائی

  • مخلوق پر پڑے حجاب اور ان کے ثمرات

  • علم الٰہی

  • خیالات کی تقسیم اور ان کے نام

  • خیالات کے مختلف نام

  • خیالات کی تقسیم

  • نفس اور شیطان

  • اعمالِ جوارح کی اقسام

  • بیان و تفصیل کا دوسرا باب

  • خیالِ قلب کی آمد کے ذرائع

  • اعمال کی تین اقسام

  • ’’حول ‘‘ اور ’’قوۃ ‘‘ کی وضاحت

  • فصل 31

  • علم اور علما کا بیان

  • علم اور اس کی فضیلت

  • طلبِ علم ہر مسلمان پر فرض ہے

  • ’’طلبِ علم فرض ہے ‘‘ کے گیارہ حروف کی نسبت سے

  • حدیثِ پاک کی شرح میں (11) مختلف اقوال

  • (1) … علم مقام وحال کا حصول

  • (2) … علم معرفت کا حصول

  • (3) … علم اِخلاص و آفاتِ نفس کی پہچان

  • (4) … علم قلوب کا حصول

  • (5) … علم حلال کا حصول

  • (6) … علم یقین وباطن کا حصول

  • (7) … بقدرِ ضرورت حلال و حرام کے فرق کی پہچان

  • (8) … خرید و فروخت اور نکاح و طلاق کا علم

  • (9) … عقیدہ وعمل کی اصلاح

  • (10) … علم توحید

  • حصولِ علم کی کیفیت

  • (11) … شبہات کا علم

  • الحاصل

  • صاحبِ کتاب کے نزدیک فرض علوم سے مراد

  • علم کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

  • شیطان کا علم میں سبقت لے جانا

  • علمِ معرفت و یقین کی تمام علوم پر فضیلت اور سلف صالحین کے طریقوں کا بیان فتویٰ دینے میں احتیاط

  • فتویٰ کون دے؟

  • حدیثِ پاک کی شرح

  • سلف صالحین کا طریقہ

  • علم وعمل کے متعلق بزرگانِ دین کے فرامین

  • فتویٰ دینے کے متعلق احتیاط

  • علم اور علمائے آخرت

  • علمائے آخرت کا فتویٰ دینے کا طریقہ

  • علمائے آخرت کے اوصاف

  • شیرِ خدا کی نظر میں علمائے آخرت

  • علم الٰہی کے اوصاف

  • اشراف خیانت نہیں کرتے

  • حصولِ علم کی شرائط

  • علم معرفت و علم ایمان کی فضیلت

  • معرفت و مشاہدہ کے مقام

  • یقین میں کمزوری اور اعمال کی بربادی

  • یقین کے بغیر علم کا حصول

  • نورِ توحید اور نارِ شرک

  • خاموشی کی فضیلت اور علوم میں اہلِ ورع وتقوٰی کا طریقہ

  • علم کی قسمیں

  • ورع و یقین سے مراد

  • لا علمی کا اظہار نصف علم ہے

  • علم اور جہالت کے دَرَجات میں تفاوت

  • علم و ایمان ایک ہی شے ہیں

  • خود کو عالم کہنا جہالت ہے

  • علم اور خشیت

  • علم کے ذرائع

  • اس امت کی تین خصوصیات

  • علم و عمل

  • علم پر عمل کرنے والوں کے چار مقام

  • حاکم کی تین اقسام

  • ایمان کالباس

  • سب سے بڑا عالم اور سب سے بڑا اَحمق

  • تقویٰ ہی درست قول کا ذریعہ ہے

  • مناظرہ و مجادلہ کی مذمت

  • زیادہ یا کم باتیں کرنے کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم

  • علم الہامی ہوتا ہے

  • علمِ باطن کی علمِ ظاہر پر فضیلت

  • سلف صالحین کے نزدیک فضیلت والا علم

  • علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی فضیلت

  • علمائے دنیا و آخرت کے درمیان فرق اور علمائے سوء کی مذمت علم اور علمائے کرام میں فرق

  • علمائے دنیا اور علمائے آخرت میں فرق

  • علمائے ربانی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رنگ

  • سیِّدُنا سہل تستری کی نظر میں علما

  • فاروقِ اعظم سے مروی تین روایات

  • آخر زمانے کے علما کے اوصاف

  • علمائے خوارج کے اوصاف

  • دو بندوں نے کمر توڑ دی

  • فاجر عالم سے پناہ

  • عالم آخرت کی تلاش

  • طالب علم تین طرح کے ہوتے ہیں

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ و ناپسندیدہ عالم

  • علم نافع کی علامات

  • طالب علم دین کے خادم بن جاؤ

  • علمائے سوء کی مثال

  • حکومت کے خواہش مند علما

  • دنیا دار عالم سے نفرت

  • کیسے علمائے کرام سے مشورہ لیا جائے؟

  • حکمت بھری 360 کتابیں کام نہ آئیں

  • عوام و خواص کے علما میں فرق

  • پہلے علم تھا اور آج باتیں

  • علم معرفت اور خاموشی

  • دل و زبان کی ہم نشینی

  • کیا بہتر ہے؟

  • کم عقل اور خود ساختہ علما کے اوصاف

  • شیرِ خداکے ایک قول کی وضاحت

  • (۱) … عالم ربانی سے مراد

  • عالم ربانی کی فضیلت و فوقیت

  • علما کی شہدا پر فضیلت

  • عالم کی موت کا نقصان

  • (۲) … راہِ نجات پر چلنے والا طالب علم

  • علمائے رَبَّانِیِّیْن سے ملنے کا اشتیاق

  • اخوت میں مشابہت

  • غربا اور علمائے آخرت

  • بہت زیادہ دوستوں والا عالم

  • قرآنِ کریم میں علمائے سوء او رعلمائے آخرت کا بیان

  • حدیث ِ پاک میں علمائے سوء او رعلمائے آخرت کا بیان

  • دنیا کمانے والے عالم کاانجام

  • اہلِ حق کا تحائف قبول کرنے سے انکار

  • عِنْدَ اللہ بعض شہرۂ آفاق افراد کی حیثیت

  • علمائے دنیا کے احوال

  • کیسے عالم کے پاس بیٹھا جائے؟

  • صحابۂ کرام اور تابعین عظام کا خدشہ

  • قرآنِ کریم میں علمائے کرام کے اوصاف

  • قرآن کریم اور ایمان کا آپس میں تعلق

  • منقول علم سے مراد

  • علم حجت ہے

  • سماعت، حصولِ علم کا ذریعہ ہے

  • سامع کا متکلم سے افضل ہونا

  • حصولِ علم کے ذرائع کا قرآنِ کریم میں تذکرہ

  • معرفت کا بنیادی ذریعہ

  • علم کی کلی

  • علم کتابوں میں نہیں ، سینوں میں ہے

  • استاذ او رشاگرد پر نعمت ِ کاملہ کی علامات

  • علم کے اوصاف ، سلف صالحین کا طریقہ اور من گھڑت قصوں کی مذمت عالم ربانی کے پانچ اوصاف

  • مذکورہ اوصاف کا قرآنِ کریم میں تذکرہ

  • دینی اور قلبی امور کے جاننے والے

  • عارفِ حق ہی سب سے بڑا عالم ہوتا ہے

  • اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبوب اشیاء

  • سیِّدُنا ابن مسعود کے اندیشے کا پورا ہونا

  • مشتبہ امور کی حقیقت کشائی کرنے والے پانچ افراد

  • (1) …بدعتی

  • (2) … ناقص العلم والعقل

  • (3) … بناوٹی صوفی

  • (4) … خود ساختہ مفتی

  • دنیا کو ترجیح دینے والے اسباب

  • توحید سے متعلق مختلف آراء

  • (5) … ناقل مفتی

  • علم سمجھنے اور یاد کرنے میں فرق ہے

  • ستر شیوخ سے ملاقات کی مگر علم حاصل نہ کیا

  • حضرت سیِّدُنا ابن شہاب زہری کی فضیلت

  • آدابِ فتویٰ

  • باطنی بیماری کا علاج طبیب حاذق ہی کر سکتا ہے

  • صحابی محدث اور تابعی عالم و فقیہ

  • صحابۂ کرام کا سوالات کے جواب دینے کا انداز

  • علم ایک نور ہے

  • علم کی کرشمہ سازیاں

  • علم اور حکمت

  • شَرْحِ صَدْر سے مراد

  • عالم کی موجودگی میں غیر عالم سے سوال پوچھنا

  • مقامِ اہلِ یقین و مقربین

  • قصہ گوئی ایک بدعت ہے

  • بلند آواز سے دعا مانگنا بدعت ہے

  • فارغ بیٹھنا قصہ گوئی سے بہتر ہے

  • مجالس ذکر کی فضیلت

  • مجلس ذکر میں حاضر ہونے کی فضیلت

  • مجلسِ ذکر باطل کی دس مجلسوں کا کفارہ ہے

  • حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے فضائل

  • علمِ معرفت کے امام

  • صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی زیارت

  • سب سے آخر میں جہانِ فانی سے کوچ کرنے والے صحابہ

  • صحابہ سے مشابہت

  • حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے مشابہت

  • بصرہ کا سب سے نیک انسان

  • حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے علم معرفت میں استاذ

  • حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے علم کہاں سے سیکھا؟

  • حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اِنفرادیت

  • منافق کی نمازِ جنازہ نہ پڑھتے

  • رازدانِ بارگاہِ رسالت

  • اللہ کے ذکر کی فضیلت

  • مجلس علم کو ترجیح دینا

  • صحبت ِ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے محرومی

  • افضل ذکر

  • علم مشاہدہ

  • حقیقی ذکر

  • غافل دل کا علاج

  • اگر قصہ گو نہ ہوتے تو میں مسجد سے باہر نہ نکلتا

  • قصہ گو افراد سے اجتناب ہی بہتر ہے

  • آج کی تازہ خبر کیا ہے؟

  • قصے سننے سے مسواک کرنا بہتر ہے

  • سیِّدُنا اعمش اور قصہ گوئی

  • قصہ گو اکثر جھوٹ بولتا ہے

  • سب سے بڑے دو جھوٹے

  • قصہ گوئی کی اباحت

  • قیامت کے دن سب سے زیادہ خوش ہونے والابندہ

  • متکلمین کی اقسام

  • معرفت و محافلِ ذکر کے متعلق (9) آثار و روایات

  • عوام وخواص کے حصولِ علم کی کیفیت

  • علمائے حق کی شان

  • سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور علم معرفت

  • سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے قول کی وضاحت

  • قصہ گوئی اور علمِ معرفت میں فرق

  • جواب دے یا خاموش رہے

  • ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں

  • قصہ گو کسے کہتے ہیں ؟

  • سوال سے قبل جواب دینا

  • عالم پر سوال کا جواب دینا لازم ہے

  • علمی گفتگو کے آداب

  • بن پوچھے علم ظاہر کرنے کا وبال

  • جواب اور عطا وتوفیق خداوندی

  • جواب دینے کے متعلق سلف صالحین کا طریقہ

  • وعظ و نصیحت میں اسلاف کا طریقہ

  • حکمت و دانائی کی باتوں کا صحیح حقدار

  • علم ظاہر و باطن کا تعلق

  • باطن کی ظاہر پر فضیلت

  • مشاہدہ کی خبر پر فضیلت

  • علم یقین جامع العلوم ہے

  • وارثِ انبیا

  • علمائے دنیا اور روزِمحشر

  • علمائے ظاہر و باطن میں فرق

  • علمائے ظاہر کی علمائے باطن کی بارگاہ میں حاضری

  • علم و عمل

  • کتابیں یاد کر لینا علم نہیں

  • روایات بیان کرنے والاعالم نہیں

  • علوم کی تدوین

  • سب سے پہلی اسلامی کتابیں

  • علوم تقویٰ کا خاتمہ اور علم کلام کا آغاز

  • اساتذہ سے اختلاف

  • زوالِ علم

  • علم و عالم کی حقیقت جاننا فرض ہے

  • دورِ جدید میں سب سے بڑا عالم کون

  • بدعت اور بدعتی

  • کثرتِ شبہات کا زمانہ

  • قدیم و جدید دور

  • سنتوں سے دوری

  • سالکین راہِ حق کی چند باتیں

  • متروکہ یا تلخیص شدہ عربی عبارات

  • ٭…تفصیلی فہرست…٭

  • مآخذ و مَراجع