Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

گئی: ’’آپ نے فلاں   مسئلہ میں   فلاں   سے  اختلاف کیا ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’ہم میں   سب سے  زیادہ بھلائی والا وہ ہے جو سب سے  زیادہ دین کی پیروی کرنے والا ہے۔ ‘‘   ([1])  اور جب حضرت سیِّدُنا سعد سے  عرض کی گئی کہ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 106 میں    (نُنْسِھَا)  کو  (ننسأھا)  پڑھتے ہیں   تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’قرآنِ کریم ابن مسیب پر نازل ہوا ہے نہ ان کے والد پر۔ ‘‘  پھر آپ نے اس لفظ کو  (نُنْسِھَا)  ہی پڑھا۔  ([2])

دورِ جدید میں  سب سے  بڑا عالم کون: 

            آج کے اس دور میں   سب سے  بڑا عالم اور سب سے  زیادہ توفیق و ہدایت کے قریب وہ بندہ ہے جو سب سے  زیادہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی پیروی کرنے والا اور ان کے اوصاف اپنانے والا ہے۔ اور ایسا کیونکر نہ ہو۔ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی: ’’لوگوں   میں   سب سے  بڑا عالم کون ہے؟ ‘‘  تو فرمایا: ’’جب معاملات مشتبہ ہو جائیں   گے تو ان میں   سب سے  زیادہ حق جاننے والا ہی سب سے  بڑا عالم ہو گا۔ ‘‘   ([3])  اور بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ سب سے  بڑا عالم وہ ہے جو سب سے  زیادہ لوگوں   کے اختلاف جانتا ہو۔ ([4])

بدعت اور بدعتی : 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ اسلام میں   دو قسم کے بندوں  نے نئی بات شامل کر دی ہے۔ ان میں   سے  ایک شخص بری رائے رکھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ جنت صرف اسی کو ملے گی جو اس کی رائے سے  اتفاق رکھتا ہے اور دوسرا مالدار دنیا کا پجاری ہے جو دنیا کی خاطر ناراض ہوتا ہے،   اسی کی خاطر راضی ہوتا ہے اور صرف اسے  ہی طلب کرتا رہتا ہے۔  (اے لوگو!)  ان دونوں   کو آگ کی جانب جانے دو اور خوب پہچان لو کہ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ان کے اعمال کو ناپسند کرتا ہے کیونکہ جب اس دنیا میں   صبح ہوتی ہے تو ایک شخص کو دو قسم کے بندوں    (عیش و عشرت کے دلدادہ اور خواہش کے پجاری)  کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عیش و عشرت کا دلدادہ اسے  دنیا کی طرف بلاتا ہے تو خواہشِ نفس کا پجاری اسے  اپنی خواہش کی طرف۔ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  ان دونوں   سے  محفوظ رکھتا ہے تو وہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے،   ان کے افعال کے متعلق پوچھتا ہے اور ان سے  منقول باتیں   کرتا ہے تا کہ اجرِ عظیم حاصل کرے۔ پس  (اے لوگو!)  تم بھی اس شخص کی مثل ہو جاؤ۔  ([5])

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ  (اسلام میں  )  صرف دو چیزیں   ہیں  : کلام اور ہدایت۔ پس سب سے  اچھا کلام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہے اور سب سے  اچھی ہدایت سرورِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہے۔ سنو! نئی باتوں   سے  بچو! اس لئے کہ امور کی برائی ان کے نئے ہونے میں   ہے۔ کیونکہ ہر  (خلافِ سنت)  نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔  ([6]) خبردار! لمبی عمر کی امید مت رکھو ورنہ تمہارے دل سخت ہو جائیں   گے اور سنو! جو شے آنے والی ہے  (سمجھو)  وہ قریب ہے اور جو دور ہے وہ آنے والی نہیں  ۔ ([7])

            حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک خطبہ میں   ارشاد فرمایا: ’’اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جسے  اس کے عیوبنے دوسروں   کی عیب جوئی سے  غافل رکھا اور اسنے اس مال سے   (راہِ خدا میں  )  خرچ کیا جو اسنے کسی گناہ کے بغیر کمایا تھا اور وہ فقہ و حکمت جاننے والوں   کے قریب اور ذلت و معصیت کے شکار لوگوں   سے  دور رہا۔ اس کے لئے بھی خوشخبری ہے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنا  (ضرورت سے )  زائد مال خرچ کر دیا اور  (ضرورت سے )  زائد باتوں   پر قابو رکھا،   سنت اس کا احاطہ کئے رہی اور سنت پر عمل کی وجہ سے  اسنے کسی بدعت کی طرف توجہ نہ دی۔ ‘‘   ([8])

 



[1]    ۔ البحر الزخار بمسند البزار، مسند علی بن ابی طالب، الحدیث: ۸۷۷، ج۳، ص۹۶

[2]    ۔ تفسیر الطبری، البقرۃ، تحت الایۃ ۱۰۶، الحدیث: ۱۷۶۰، ج۱، ص۵۲۳  ولا علی ابیہ بدلہ ولا علی ابنہ

[3]    ۔ مسند ابی داود الطیالسی، ما اسند عبداللہ بن مسعود، الحدیث: ۳۷۸، ص۵۰  مفھومًا

[4]    ۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم۳۳۴ جعفر بن محمد، ج۲، ص۳۵۸

[5]    ۔ صفۃ المنافق للفریابی، باب مروی فی صفۃ المنافق، الحدیث: ۵۱، ص۶۱اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم، ج ۱، ص ۷۲۲

[6]    ۔ مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، ج1، ص146 پر ایک حدیث شریف کے اس جز ’’اور بدترین چیز دین کی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: مُحْدَث کے معنے ہیں جدید اور نوپید چیز، یہاں وہ عقائد یا برے اعمال مراد ہیں جو حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی وفات کے بعد دین میں پیدا کیے جائیں، بدعت کے لغوی معنٰی ہیں نئی چیز، رب (1) فرماتا ہے: بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-۱،البقرۃ:۱۱۷، ترجمۂ کنزالایمان: نیاپیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا) اصطلاح میں اس کے تین معنٰی ہیں: (۱) نئے عقیدے اسے بدعت اعتقادی کہتے ہیں (۲)وہ نئے اعمال جو قرآن و حدیث کے خلاف ہوں اور حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بعد ایجاد ہوں (۳)ہر نیا عمل جو حضور کے بعد ایجاد ہوا۔ پہلے دو معنٰی سے ہر بدعت بری ہے کوئی اچھی نہیں، تیسرے معنٰی کے لحاظ سے بعض بدعتیں اچھی ہیں بعض بری، یہاں بدعت کے پہلے معنٰی مراد ہیں یعنی برے عقیدے کیونکہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اسے ضلالت یعنی گمراہی فرمایا۔ گمراہی عقیدے سے ہوتی ہے عمل سے نہیں، بے نماز گناہ گار ہے گمراہ نہیں اور رب (عَزَّوَجَلَّ) کو جھوٹا یا حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو اپنی مثل بشر سمجھنا بدعقیدگی اورگمراہی ہے، اور اگر دوسرے معنٰی مراد ہوں تب بھی یہ حدیث اپنے اطلاق پر ہے کسی قید لگانے کی ضرورت نہیں اور اگر تیسرے معنٰی مراد ہوں یعنی نیا کام تو یہ حدیث عام مخصوص البعض ہے کیونکہ یہ بدعت دو قسم کی ہے بدعت حسنہ اور سیئہ یہاں بدعت سیئہ مراد ہے بدعت حسنہ کے لیے کتابُ العلم کی وہ حدیث ہے جو آگے آرہی ہے: ’’مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً‘‘ الحدیث یعنی جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے وہ بڑے ثواب کا مستحق ہے۔ بدعت حسنہ کبھی جائز کبھی واجب کبھی فرض ہوتی ہے اس کی نہایت نفیس تحقیق اسی جگہ مرقاۃ اور اشعۃ اللمعات میں دیکھو نیز شامی اور ہماری کتاب جاء الحق میں بھی ملاحظہ کرو، بعض لوگ اس کے معنٰی یہ کرتے ہیں کہ جو کام حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بعد ایجاد ہو وہ بدعت ہے       

   اور ہر بدعت گمراہی، مگر یہ معنٰی بالکل فاسد ہیں کیونکہ تمام دینی چیزیں چھ کلمے، قرآن شریف کے ۳۰پارے، علم حدیث اور حدیث کی اقسام اور کتب، شریعت و طریقت کے چار سلسلے، حنفی شافعی یا قادری چشتی وغیرہ، زبان سے نماز کی نیت، ہوائی جہاز کے ذریعہ حج کا سفر اور جدید سائنسی ہتھیاروں سے جہاد وغیرہ اور دنیا کی تمام چیزیں پلائو، زردے، ڈاک خانہ ریلوے وغیرہ سب بدعتیں ہیں جو حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بعد ایجاد ہوئیں حرام ہونی چاہئیں حالانکہ انہیں کوئی حرام نہیں کہتا۔

[7]    ۔ سنن ابنِ ماجہ، باب اجتناب البدع والجدل، الحدیث: ۴۶، ص۲۴۷۹

[8]    ۔ شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد و قصر الامل، الحدیث: ۱۰۵۶۳، ج۷، ص۳۵۵



Total Pages: 332

Go To