Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

یعنی اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے مطابق فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اختلاف میں   سے  کسی ایسی رائے کو اختیار کرے جو محتاط اور مضبوط ہو۔ اگر وہ کسی کے کسی دوسرے فقہی مذہب کے مطابق شرعی مسئلہ پر عمل کرنے کو اچھا سمجھتے تو اس طرح فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف جاننے کی حاجت ہی نہ رہتی کیونکہ جب کوئی شخص اپنا فقہی مذہب جان لیتا تو یہی اس کے لئے کافی ہو جاتا۔ اسی وجہ سے  منقول ہے کہ کل  (بروزِ قیامت)  جب بندے کا حساب کتاب ہو گا تو اس سے  پوچھا جائے گا کہ تونے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ اور یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تونے دوسرے کے علم پر کتنا عمل کیا؟  ([1])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ (پ۲۱،  الروم:  ۵۶)   

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا۔

            پس اس آیتِ مبارکہ میں   علم اور ایمان کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے جو اس بات پر دلیل ہے کہ جسے  ایمان عطا کیا جائے اسے  علم بھی عطا کیا جاتا ہے جس طرح کہ جسے  علمِ نافع عطا ہو اسے  ایمان سے  بھی نوازا جاتا ہے۔ یہ ایک توجیہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کے مفہوم میں   داخل ہے:

اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ- (پ۲۸،  الحشر:  ۲۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ ہیں   جن کے دلوں   میں   اللہنے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے  ان کی مدد کی۔

            مراد یہ ہے کہ انہیں   علمِ ایمان سے  قوت بخشی۔ یعنی یہاں   روح سے  مراد علمِ ایمان ہے۔ جو بندہ کتاب و سنت سے  شرعی مسائل نکالنے اور استدلال کرنے کا اہل ہو علم پھیلانے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ بصیرت والا ہوتا ہے اور اس کا شمار تدبر و تفکر کرنے والوں   میں   ہوتا ہے۔ پس جاہل اور عام شخص کو علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی اور ایک عام عالم کو خاص عالم کی تقلید کرنا چاہئے جبکہ علمِ ظاہر جاننے والے کو علم باطن جاننے والے کی تقلید کرنا چاہئے۔ کیونکہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  (اہل قلوب کو)  لغت اور فتویٰ جیسے  علوم کے بجائے علمِ قلوب کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا اور اہلِ قلوب کو اس علم میں   جو ان کے ساتھ خاص ہے،   میں   مفتیوں   کی جانب رجوع کرنے کا حکم نہ دیا۔ چنانچہ اہلِ قلوب مفتیوں   سے  سوال پوچھتے ہیں  ،   پھر اپنے دل میں   کوئی خلش پاتے ہیں   تو ان پر دل کی بات ماننا لازم ہو جاتا ہے کیونکہ دل کی بات پر عمل کرنے کے متعلق شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  درج ذیل چار فرامینِ مبارکہ مروی ہیں  : 

 (1) … اپنے دل سے  پوچھو اگرچہ لوگ تمہیں    (جو بھی)  فتویٰ دیں  ۔  ([2])

 (2) … گناہ،   دلوں   میں   کھٹکنے والی چیز ہے۔  ([3])

 (3) … جو چیز تمہارے دل میں   کھٹکے اسے  چھوڑ دو۔  ([4])

 (4) … اگرچہ لوگ تجھے کچھ فتویٰ دیں  ،   اگرچہ لوگ تجھے کوئی بھی فتویٰ دیں  ۔  ([5])

زوالِ علم: 

            پھر  (ایسا وقت آیا کہ)  علمِ معرفت کا صرف درس دیا جاتا  (عمل کوئی بھی نہ کرتا)  جو جہالت ہے اور ہر اس شخص کو عالم کہا جانے لگا جو خوب باتیں   کرتا اور سننے والوں   کو اس کی باتیں   عجیب لگتیں   مگر وہ حق و باطل میں   فرق نہ کر سکتا۔ اسی طرح ہر بے سر وپا لچھے دار گفتگو کرنے والے کو بھی عالم کہا جانے لگا جس کا سبب یہ ہے: عام لوگوں   کا علم کی حقیقت سے  ناواقف ہونا اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی سیرت کے بارے میں   بہت کم جاننا کہ وہ کیسے  تھے؟ چنانچہ اب متکلمین کی ایک کثیر تعداد فتنہ وفساد پھیلا رہی ہے اور کلام،   رائے اور جہالت پر مبنی عقلی باتوں   کو جاہل لوگ علم شمار کرنے لگے ہیں  ۔ انہیں   متکلمین اور علما کے درمیان فرق معلوم ہے نہ علم اور کلام کے درمیان تمیز۔ ہم یہ ذکر کر چکے ہیں   کہ بعض خاص قسم کے جاہل لوگ بظاہر حقیقی علما کی طرح معلوم ہوتے ہیں   اور ان کے ہم نشینوں   پر ان کی حقیقت واضح نہیں   ہوتی۔

علم و عالم کی حقیقت جاننا فرض ہے: 

            لوگوں   میں   سب سے  بڑا عالم وہی ہے جو سب سے  زیادہ متقدمین کی سیرت سے  آگاہ ہو اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے طریقوں   کو بھی خوب جانتا ہو۔ پھر وہ بندہ سب سے  بڑا عالم ہے جو سب سے  بڑھ کر یہ بات جانتا ہے کہ علم کیا ہے؟ عالم کون ہے؟ حقیقی طالب علم کون ہے؟ اور طلبِ علم کا لبادہ اوڑھنے والا کون ہے؟

            جس طرح علم حاصل کرنے والوں   پر سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمانِ عالیشان ’’علم حاصل کرنا فرض ہے ‘‘  کی وجہ سے  علم حاصل کرنا فرض ہے،   اسی طرح حصولِ علم کے لئے ان پر یہ جاننا بھی لازم ہے کہ علم کسے  کہتے ہیں  ؟ کیونکہ نامعلوم شے کا حصول درست نہیں  ۔ نیز حصولِ علم کے لئے حقیقی عالم کو پہچاننا بھی لازم ہے کیونکہ علم ایک وصف ہے جو موصوف کے بغیر نہیں   پایا جاتا،   بلکہ یہ صرف اہلِ علم کے پاس ہی ملتا ہے۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے متعلق منقول ہے کہ ان سے  عرض کی



[1]    ۔ المرجع السابق۔  ص۷۱۵

[2]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۴۴۱ عبدالرحمن بن مھدی، الحدیث: ۱۳۰۴۱، ج ۴،ص ۴۸

[3]    ۔ المعجم  الکبیر، الحدیث: ۸۷۴۸، ج۹، ص۱۴۹   حزاز بدلہ حواز

[4]    ۔ کتاب الجامع معمر بن راشد مع مصنف عبدالرزاق، باب الایمان والاسلام، الحدیث: ۲۰۲۷۳،ج ۱۰،ص ۱۱۵

[5]    ۔ المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث وابصۃ بن معبد الاسدی، الحدیث: ۱۸۰۲۸،ج ۶،ص ۲۹۳



Total Pages: 332

Go To