Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وَسَلَّمنے نہیں   کیا؟ ‘‘   ([1]) انہیں   یہی خدشہ تھا کہ لوگ صرف مصحف سے  دیکھ کر قرآنِ کریم پڑھنے میں   مشغول ہو جائیں   گے اور صرف مصاحف کو ہی کافی سمجھیں   گے۔ چنانچہ وہ فرماتے کہ’’ہم قرآنِ کریم کو جمع نہیں   کریں   گے تا کہ لوگ ایک دوسرے سے  سن کر یاد کریں   اور ان کی مشغولیت اورذکر و فکر قرآن ہی رہے۔ ‘‘  مگر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی رائے تھی کہ قرآنِ کریم کو کتابی شکل میں   جمع کیا جائے کیونکہ یہ یاد کرنے کے لئے نہ صرف زیادہ بہتر ہے بلکہ جب لوگ اسبابِ دنیا کے حصول میں   مگن ہو کر قرآنِ کریم زبانی یاد کرنے سے  غافل ہو جائیں   گے تو لکھا ہوا قرآن ان کی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شرحِ صدر کی دولت سے  نوازا تو آپ نے قرآنِ کریم کو ایک ہی مصحف میں   جمع کر دیا۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور دوسرے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اسی طرح علم حاصل کیا کرتے یعنی ایک دوسرے سے  سن کر زبانی یاد کر لیتے کیونکہ ان کے دلوں   میں   شک نہ تھا اور نہ ہی وہ اسبابِ دنیا میں   مشغول رہتے بلکہ وہ نفسانی خواہشات سے  پاک تھے اور بلند ہمتوں  ،   پختہ ارادوں   اور اچھی نیتوں   والے تھے۔

علوم تقویٰ کا خاتمہ اور علم کلام کا آغاز: 

            دوسری اور تیسری صدی ہجری کے فوراً بعد چوتھی صدی میں   علمِ کلام کے متعلق بہت سی کتب لکھی گئیں   جو علمائے متکلمین نے رائے،   عقل اور قیاس کے بارے میں   تحریر کی تھیں  ،   مگر جب اہلِ تقویٰ کے علوم ختم ہو گئے اور اہلِ یقین کی معرفت کی باتیں   پردۂ غیب میں   چلی گئیں   تو وہ اپنے پیچھے اپنے برے جانشین چھوڑ گئے اور جانشینی کا یہ سلسلہ اب تک موجود ہے اور ہمارے زمانے میں   تو حقیقت کی پہچان تک ممکن نہیں   رہی کیونکہ اب متکلمین کو علما کے نام سے  پکارا جاتا ہے تو قصے کہانیاں   سنانے والوں   کو عارف کہا جاتا ہے۔ نیز نقل و روایت کرنے والوں   کو بھی علما کہا جاتا ہے حالانکہ انہیں   دین کی کچھ سمجھ نہیں   اور نہ ہی انہیں   اہلِ یقین کی بصیرت حاصل ہے۔

            حضرت سیِّدُنا ابن ابی عبلہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ ہم نمازِ فجر کے بعد حضرت سیِّدُنا عطا خراسانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی خدمت میں   حاضر ہوتے اور وہ ہمیں   علم کی باتیں   سکھاتے۔ ایک صبح وہ نہ آ سکے تو ایک شخص اسی انداز میں   بیان کرنے لگا جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عطا عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْفَتَّاح کیا کرتے تھے۔ تو حضرت سیِّدُنا رجا بن ابی حیوہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس کی آواز اجنبی محسوس ہوئی۔ تو انہوں  نے پوچھا:  ’’یہ بیان کرنے والا کون ہے؟ ‘‘  جب اسنے بتایا کہ میں   فلاں   ہوں  ۔ تو ارشاد فرمایا: ’’خاموش ہو جا،   کیونکہ علم کی باتیں   علم والوں   سے  ہی سنی جاتی ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

            بزرگانِ دین فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عرفان رکھنے والے معرفت کی باتیں   صرف دنیا سے  کنارہ کش عارفین ہی سے  سننا پسند کرتے اور دنیا دار لوگوں   سے  نہ سنتے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ دنیا دار اس علم کے لائق نہیں   ہیں  ۔ جو بندہ علمِ معرفت و یقین کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں   ہر دم مشغول رہے اس پر کسی فردِ واحد کی تقلید ضروری نہیں  ۔  ([3])

اساتذہ سے  اختلاف: 

            متقدمین جب اس مقام پر فائز ہوئے تو انہوں  نے اپنے ہی اساتذہ  سے  اختلاف کیا۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں   کہ رسولِ اَکرم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سوا ہر شخص کے علم سے  کچھ لیا جاتا ہے اور کچھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔  ([4]) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے علمِ فقہ حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  اور علمِ قراء ت حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  سیکھا اور فقہ میں   حضرت سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  اور قراء ت میں   حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  اختلاف بھی کیا۔ بعض فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ ہمیں   کوئی ایسی بات معلوم ہو جو سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہو تو وہ ہمارے سر آنکھوں   پر ہے اور جو بات صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  مروی ہو ہم اس میں   سے  بعض لے لیں   گے اور بعض چھوڑ دیں   گے اور جس بات کے بارے میں   معلوم ہو کہ یہ تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  مروی ہے تو وہ بھی آدمی ہیں   اور ہم بھی۔ انہوں  نے بھی  (اپنے علم کے مطابق)  بات کی اور ہم بھی  (اپنی سمجھ کے مطابق)  بات کریں   گے۔  ([5])

            یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام تقلید ِ محض کو اچھا نہ سمجھتے اور فرمایا کرتے کہ کسی کے لئے تمام فقہا کا اختلاف جانے بغیر کسی بھی شرعی مسئلہ پر عمل کرنا درست نہیں  ۔



[1]    ۔ مسند ابی داود الطیالسی، احادیث ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۳، ص۳

[2]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۱۷عطاء بن میسرۃ، الحدیث: ۶۹۱۷،ج۵، ص ۲۲۶ بتغیر

[3]    ۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن (متوفی ۱۳۴۰ھ)، حضرت سیِّدُنا امام عارف باللّٰہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی کتاب ’’اَلْمِیْزَانُ الْکُبْریٰ‘‘ سے نقل فرماتے ہیں: ’’مقلد پرواجب ہے کہ خاص اسی بات پرعمل کرے جو اس کے مذہب (یعنی فقہ) میں راجح ٹھہری (یعنی فوقیت رکھتی) ہو ہر زمانے میں علما کا اسی پر عمل رہا ہے، البتہ جو ولی ذوق و معرفت کی راہ سے اس مقامِ کشف تک پہنچ جائے کہ شریعتِ مطہرہ کا پہلا چشمہ (یعنی جہاںسے شریعت جاری ہوئی)، جو سب مذاہب ائمہ مجتہدین کا خزانہ ہے، اسے نظرآنے لگے وہاں پہنچ کر وہ تمام اقوالِ علما کو مشاہدہ کرے گا کہ ان کے دریا اسی چشمے سے نکلتے اور اسی میں پھر آکر گرتے ہیں ایسے شخص پر تقلید شخصی لازم نہ کی جائے گی کہ وہ تو آنکھوں (سے) دیکھ رہا ہے کہ سب مذاہب چشمہ اُولیٰ سے یکساں فیض لے رہے ہیں۔‘‘ (المیزان الکبری ، فصل فان القائل  فھل یجب   الخ،ج۱، ص۱۱ ملخصاً) اسکے بعد سیدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں: ’’یہاں سے ثابت کہ جو پایۂ اجتہاد نہ رکھتا ہو نہ کشف و ولایت کے اس رُتبۂ عظمیٰ (یعنی بلند مقام) تک پہنچا اس پر تقلید ِامامِ معین (یعنی خاص ایک امام کی تقلید) قطعاً واجب ہے اور اسی پر ہر زمانے میں علما کا عمل رہا، یہاں تک امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قُدِّسَ  سِرُّہُ العَالِی  (متوفی۵۰۵ھ) نے کتاب مستطاب کیمیائے سعادت میں فرمایا: ’’مخالفت کردن صاحب مذہب خویش نزدیک ہیچ کس روا نبود۔ (ترجمہ) اپنے صاحبِ مذہب (یعنی اپنے فقہی امام) کی مخالفت کرنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔‘‘ اور اس پر حاشیہ میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) میں کہتا ہوں: ان کی مراد تقررِ مذاہب (یعنی چاروں فقہ کے مقرر ہونے) اور ظہورِ تقلید معین ائمہ (یعنی چار اماموں کی تقلید کے ظاہر ہونے) کے بعد کا اجماع ہے کیونکہ یہی صحیح ہے عام لوگوں اور اصحاب مذاہب کے درمیان کوئی نسبت نہیں ہے جیساکہ واضح ہے اور دعویٔ اتفاق (یعنی کسی بات پر سب کے متفق ہونے کے دعویٰ) میں شاذ ونادر (یعنی جو کم ہو اس) کا اعتبار نہ کرنا کثیر ومشہور ہے جیسا کہ صاحبِ بصیرت (یعنی عقل مند آدمی) پر مخفی (یعنی پوشیدہ) نہیں۔‘‘  (فتاوی رضویہ،ج۶،ص۷۰۴۔۷۰۵)

[4]    ۔ قرۃ العین برفع الدین فی الصلاۃ للبخاری، الحدیث: ۱۰۳، ص۷۳  عن مجاہدالمعجم  الکبیر، الحدیث: ۱۱۹۴۱، ج۱۱، ص۲۶۹ یترک الا بدلہ یدع ، غیر

[5]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم، ج ۱، ص ۷۱۴                                    



Total Pages: 332

Go To