Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            مروی ہے کہ عرض کی گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس وقت ہم کیا کریں   جب کوئی ایسا امر لاحق ہو جس کا حکم نہ تو کتابُ اللہ میں   ہمیں   ملے اور نہ ہی سنت میں  ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’صالحین سے  پوچھ لیا کرو اور اس درپیش معاملہ میں   باہم مشورہ کر لیا کرو لیکن ان کی عدم موجودگی میں   کسی بھی معاملہ کا حتمی فیصلہ نہ کیا کرو۔ ‘‘   ([1])

            حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے  دریافت فرمایا: ’’اگر تمہارے سامنے کوئی ایسا معاملہ پیش ہو جس کا حکم قرآن وسنت میں   نہ ہو تو کیا کرو گے؟ ‘‘  انہوں  نے عرض کی: ’’میں   اس معاملے میں   وہ فیصلہ کروں   گا جو صالحیننے کیا تھا۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تمام تعریفیں   اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کو یہ توفیق عطا فرمائی۔ ‘‘   ([2]) اور ایک روایت میں   حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  یہ الفاظ مروی ہیں  : ’’میں   اپنی رائے سے  اجتہاد کروں   گا۔ ‘‘   ([3])

            حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی سے  منقول ہے کہ ایک مرتبہ جب میں   حضرت سیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی بارگاہ سے  جانے کے لئے کھڑا ہوا تو انہوں  نے مجھ سے  پوچھا: ’’جب مجھ سے  جدا ہوتے ہو تو کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو؟ ‘‘  میں  نے عرض کی: ’’حضرت سیِّدُنا حارث محاسبی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے ساتھ۔‘‘  تو فرمانے لگے کہ ’’ہاں  ! اچھا ہے ان سے  علم و ادب تو سیکھنا مگر علمِ کلام کی تفصیلات اور متکلمین کا رد کرنا مت سیکھنا۔ ‘‘  فرماتے ہیں   کہ جب میں   ان کے پاس سے  اٹھ کر واپس مڑا تو انہیں   یہ فرماتے سنا:  ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں   حدیث  (یعنی سنن)  کا ایسا عالم بنائے جو صوفی بھی ہو اور ایسا صوفی نہ بنائے جو حدیث  (سنن)  سے  آگاہ نہ ہو۔‘‘([4])

            مراد یہ ہے کہ جب تم پہلے علمِ حدیث اور اصول و سنن کی معرفت حاصل کرو گے اور اس کے بعد زاہد و عابد بنو گے تو علمِ تصوف میں   ترقی کرو گے اور ایسے  صوفی بنو گے جو معرفت بھی جانتا ہو گا لیکن اگر عبادت،   تقویٰ اور حال سے  آغاز کیا تو ان امور کے باعث علم اور سنن سے  غافل ہو جاؤ گے اور اصول و سنن سے  جہالت کی بنا پر یا تو شطحیات([5]) کا شکار ہو جاؤ گے یا پھر کسی مغالطے کا۔ پس علمِ ظاہر اور کتبِ حدیث کی جانب رجوع کرنا ہی تمہاری سب سے  بہتر حالت ہے۔ اس لئے کہ یہی اصل ہیں   اور عبادت و علمِ تصوف انہی کی فرع ہیں   اور تو ہے کہ اصل سے  پہلے فرع سے  آغاز کر رہا ہے۔منقول ہے کہ بے شک  لوگ اصول ضائع کر دینے کی وجہ سے  وصال سے  محروم رہتے ہیں  ۔  ([6])

علم و عمل : 

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ لوگوں  نے جب علم حاصل کیا تو اس پر عمل بھی کیا اور جب عمل کیا تو اخلاص والے بن گئے،   اور جب اخلاص والے ہو گئے تو  (لوگوں   سے )  بھاگ کھڑے ہوئے ([7])   اور ایک بزرگ کا قول ہے کہ ایک عالم جب لوگوں   سے  بھاگتا پھرے تو اسے  تلاش کرو اور جب وہ لوگوں   کی تلاش میں   ہو تو اس سے  



[1]    ۔ المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۲۰۴۲، ج۱۱، ص۲۹۴ مفھوماً

[2]    ۔ المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب البیوع والاقضیۃ، باب فی القاضی ما ینبغی ان یبدأ بہ فی قضائہ، الحدیث: ۲، ج۵، ص۳۵۸ بتغیر

[3]    ۔ جامع الترمذی، ابواب الاحکام، باب ما جاء فی القاضی کیف یقضی، الحدیث: ۱۳۲۷، ص۱۷۸۵

[4]    ۔ تاریخ دمشق لابنِ عساکر، الرقم۴۸۰۳ علی بن ابرھیم، ج۴۱، ص۲۵۲

[5]    ۔ حضرت سَیِّدُنا عبدا لمصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شَطْحِیَّات کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’صحو (ہشیاری) وسکر (مدہوشی) صوفیہ کرام کی یہ دو مشہور کیفیات ہیں۔ اکثر صوفیہ تو ایسے گزرے ہیں کہ معرفتِ الٰہی ووصالِ حقیقی کی دولت سے مالا مال ہونے کے بعد ان کو منجانب اللّٰہ ایسے وسیع ظرف سے نوازا گیا کہ کیفیات واحوال سے مغلوب ہو کر دامنِ ہوش وخرد ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا اور ان کی بیداری وہوشیاری میں ایک لمحہ کے لئے بھی فتور نہیں پیدا ہوا۔ یہ لوگ ’’اَرْبابِ صَحْو‘‘ کہلاتے ہیں۔ اور بعض وہ مشائخ ہیں جو بادئہ عرفانِ الٰہی سے اس درجہ مخمور وسرشار ہو جاتے ہیں کہ غلبۂ احوال وکیفیات میں دامنِ عقل وہوش تار تار کر دیتے ہیں اور دنیائے بیداری وہشیاری سے بیزار ہو کر مستی ومدہوشی کے عالم میں رہتے ہیں۔ ان بزرگوں کو ’’اَرْبَابِ سُکْر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہی مُؤَخِّرُ الذِّکْر بزرگوں سے کبھی کبھی عالم سکرومستی میں بلا اختیار بعض ایسے کلمات سرزد ہو جاتے ہیں جو بظاہر خلافِ شریعت ہوتے ہیں، ایسے ہی کلمات و مقالات کو اصطلاحِ صوفیہ میں ’’شطحیات‘‘ کہتے ہیں۔ وہ بزرگ جن سے شطحیات سرزد ہوئیں بہت قلیل تعداد میں ہوئے ہیں اوریہ بھی روایت ہے کہ شطحیات سرزد ہونے کے بعد جب ان کے ہوش وحواس بجا ہوئے ہیں تو انہوں نے نہ صرف ان اقوال سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے بلکہ اظہار بیزاری واستغفاربھی کیا۔ چنانچہ حضرت مخدوم سید جہانگیر اشرف سمنانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی سے منقول ہے کہ ’’اصحابِ عرفان وصاحبانِ وجدان میں سے اکثر وبیشتر اہل صحو (ہشیاری) ہیں اوراس جماعت عالیہ میں سے کچھ لو گ صاحبانِ سکر (مدہوشی) بھی ہوئے ہیں کہ کبھی کبھی غلبۂ حال وجرأت وصال میں ان سے کلام شطحیات نکل گئے ہیں لیکن اس حال وکیفیت کے دفع ہوتے ہی یہ لوگ اسی وقت استغفار کرتے تھے اور اپنے اصحاب کو حکم دیتے تھے کہ جب بھی اگر دوبارہ کوئی شطح آمیز کلام ہم سے سرز د ہوتو اس کے تدارک میں تم لوگ کوشش کرو۔‘‘ (لطائف اشرفی)

                ’’شطحیات ‘‘کے بارے میں بزرگوں نے فرمایا ہے کہ حزم واحتیاط لازم ہے ردّوانکاراوران بزرگوں پر فتویٰ لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے بلکہ حتی الامکان تاویل ضروری ہے کیونکہ یہ سب بزرگانِ دین واھل اللہ اورصاحبانِ معرفت تھے بِلا شبہ ان میں کا ہر ہر فرد نمونۂ سنت وجلوئہ آفتابِ شریعت تھا۔ ان اکابرِ ملت بزرگوں پر زبانِ طعن دراز کرنا یقیناً بہت بڑی گستاخی اور زبردست محرومی ہے۔ اسکے متعلق حضرت مخدوم جہانگیر اشرف قدس سرہ کا ارشاد سنئے: ’’جماعت صوفیہ کا قانون مسلم اور قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ مشائخ کے شطحیات کو نہ توردّ کرنا چاہئے نہ قبول کرنا چاہئے کیونکہ اس مَشْرَب کا تعلق مقامِ وصول کیساتھ ہے۔ یہ ان مقاصد میں سے نہیں ہیں جہاں عقل کچھ کام آسکے۔ ہاں البتہ کچھ صوفیوں نے الفاظ شطحیات کی شرح میں اچھی اچھی تاویلیں کی ہیں اورایسے مناسب مطلب ومحمل بیان کئے ہیں کہ ایک حد تک ان کو عقل کے ادراک وعلم کے قابل کہا جا سکتا ہے۔‘‘ (لطائف اشرفی) ظاہر ہے کہ جو شخص اس درجہ مغلوب الحال ہوچکا ہوکہ اس کو دنیائے عقل و ہوش سے کوئی سروکار ہی نہ ہو اور عین مدہوشی کے عالم میں بلااختیاروارادہ اس سے کچھ کلمات صادر ہو گئے ہوں اور وہ بھی اس طرح کہ ہوش وحواس بجا ہونے کے بعد وہ ان کلمات سے نہ صرف لاعلمی بلکہ بیزاری کا اظہار واستغفار کرتا ہو۔ بلاشبہ ایسا شخص مَرْفُوعُ الْقَلم اور حدودِ شریعت سے آزاد ہے ایسے شخص سے کوئی شرعی مواخذہ کرنا در حقیقت شریعت سے لاعلمی ہے:

سجدئہ روضہ ہو کہ در کا طواف                           ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے        (معمولات الابرار، ص۸۳، جمالِ کرم لاھور)

[6]    ۔ الرسالۃ القشیریۃ،

Total Pages: 332

Go To