Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ (پ۵،  النسآء: ۱۲۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور تم سے  فتویٰ پوچھتے ہیں  ۔

            یعنی وہ آپسے  خبر معلوم کرنا چاہتے ہیں  ،   بعض اوقات خبر کے علم میں   ظن اور شک بھی داخل ہو جاتے ہیں   جبکہ مشاہدہ ان دونوں   کو دور کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى (۱۱)  (پ۲۷،  النجم:  ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: دلنے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔

            اس آیتِ مبارکہ میں   دل کے لئے آنکھ سے  دیکھنا ثابت ہے جبکہ دل کے دیکھنے سے  مراد یقین ہے اور جو بندہ صاحبِ دل ہو وہ صاحبِ یقین ہوتا ہے۔ چنانچہ مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’یقین ،   غنا کے لئے کافی ہے۔ ‘‘   ([1])

علم یقین جامع العلوم ہے: 

            علمِ یقین میں   تمام علوم سے  مستغنی ہونا پایا جاتا ہے کیونکہ یہی حقیقی اور خالص علم ہے۔ دوسرے تمام علوم کا علمِ یقین سے  مستغنی ہونا ممکن نہیں   کیونکہ بندے کو جس قدر علمِ توحید اور علمِ ایمان میں   یقین کی ضرورت و حاجت ہوتی ہے اس قدر  علومِ فتاویٰ وغیرہ میں   نہیں   ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ یقین کے باعث حاصل ہونے والا غنا تمام علوم سے  حاصل ہونے والے استغنا سے  بڑھ کر ہے۔ اس علم کی مثالیں   سورۂ فاتحہ سے  لے کر پورے قرآنِ کریم میں   ملتی ہیں  ۔ چنانچہ،   

            صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ سورۂ فاتحہ تمام قرآنِ کریم کا بدل بن سکتی ہے مگر سارا قرآنِ کریم اس کا بدل نہیں   بن سکتا۔ ‘‘   ([2])

            پس علمِ الٰہی باقی تمام علوم کے مقابل یہی حیثیت رکھتا ہے،   یعنی علمِ الٰہی میں   تو تمام علوم کا عوض پایا جاتا ہے مگر باقی تمام علوم میں   علمِ الٰہی کا عوض نہیں   پایا جاتا۔ اس طرح کہ جو شے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم میں   ہو وہ باقی تمام اشیاء کا بدل ہو سکتی ہے۔ ہر علم چونکہ اپنے معلوم پر موقوف ہوتا ہے اور علم یقین کا معلوم ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ علم یقین کو باقی علوم پر وہی فضیلت حاصل ہے جو خالق عَزَّ وَجَلَّ کو مخلوق پر حاصل ہے۔ ایک حکیم کا قول ہے کہ جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پہچان لیا اب وہ کس شے سے  ناواقف رہ سکتا ہے؟ اور جو ذاتِ خداوندی کو ہی نہ پہچان سکا تو پھر وہ کس شے کو پہچان سکتا ہے؟

وارثِ انبیا: 

            علمائے ربانیین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وارث ہیں   اس لئے کہ انہیں   یہ علم انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے  ورثہ میں   ملا،   پس یہ علم نہ صرف ان کی ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے بلکہ بارگاہِ خداوندی کی جانب دعوت دینے کے علاوہ انہیں   قلبی اعمال میں   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی اقتدا و پیروی پر بھی ابھارتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

 (1)  وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا (پ۲۴،   حٰمٓ السجدۃ: ۳۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس سے  زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے ۔

 (2) اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ (پ۱۴،  النحل:  ۱۲۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر سے ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں   کو دعوتِ حق دینے کا حکم دیا مگر  (مذکورہ دونوں   آیاتِ مبارکہ میں  ) اللہ

عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں   کے پیروکاروں   کو دعوتِ حق میں   تو شریک کیا لیکن بصیرت میں   شریک نہ کیا۔ البتہ!  (درج ذیل آیتِ مبارکہ میں   بصیرت کا مژدہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا:

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ ﱘ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ- (پ۱۳،  یوسف:  ۱۰۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں   اللہ کی طرف بلاتا ہوں   میں   اور جو میرے قدموں   پرچلیں   دل کی آنکھیں   رکھتے ہیں  ۔

            اہلِ یقین روزِ محشر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے ساتھ ہوں   گے،   جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا ہے:

فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ (پ۵،  النسآء:  ۶٭)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اُسے  ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہنے فضل کیا یعنی انبیا۔

            ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ (پ۲۴،  الزمر:  ۶٭)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور لائے جائیں   گے انبیا اور یہ نبی اور اس کی امّت کے ان پر گواہ ہونگے۔

 



[1]    ۔ شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد و قصر الامل، الحدیث: ۱۰۵۵۶، ج۷، ص۳۵۳

[2]    ۔ فردوس الاخبار للدیلمی، باب الفاء، الحدیث: ۴۲۶۳، ج۲، ص۱۰



Total Pages: 332

Go To