Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  علمائے ربانیین اور عارفین کے اوصاف کے بارے میں   مروی ہے کہ وہ لوگ اپنی ہی مثل لوگوں   کو علمِ معرفت بطورِ امانت پہنچاتے ہیں   اور ان کے قلوب میں اس علم کا بیج بو دیتے ہیں  ۔ شہنشاہِ خوش خِصال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  بھی اس طرح کی روایات مروی ہیں  ۔

            حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے  مروی ہے کہ نااہل کے پاس حکمت رکھ کر اسے  ضائع مت کرو کہ اس طرح تم حکمت پر ظلم کرنے والے شمار ہو گے اور نہ ہی اس کی اہلیت رکھنے والے بندوں   سے  اسے  روکے رکھو کہ اس طرح تم ان پر ظلم کرنے والے شمار ہو گے۔  ([1]) اور ایک روایت میں   یہ الفاظ ہیں  :  ’’اے لوگو! اس نرم مزاج والے طبیب کی طرح ہو جاؤ جو دوا کو مرض کی جگہ ہی رکھتا ہے۔ ‘‘   ([2])   ایک روایت میں   ہے:  ’’جس نے نااہل کے سامنے کوئی حکمت کی بات کی گویا اسنے جہالت کا مظاہرہ کیا اور جس نے اس کی اہلیت رکھنے والے کے سامنے حکمت کی بات نہ کی گویا اسنے ظلم کیا۔ ‘‘  ([3]) اور ایک روایت میں   ہے کہ’’ حکمت کا ایک حق ہے جس کی اہلیت رکھنے والا بھی ضرور کوئی ہو گا،   پس ہر حقدار کو اس کا حق دو۔ ‘‘  ([4])

            حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے  مروی اقوال میں   سے  ہے کہ’’خنزیروں   کی گردنوں   میں   جواہرات نہ ڈالو کہ حکمت جواہرات سے  بھی بہتر اور قیمتی ہے اور جو اسے  ناپسند کرے وہ خنزیر سے  بھی بدتر ہے۔ ‘‘  ([5])

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ علم کا آدھا حصہ سکوت پر مشتمل ہے جبکہ آدھا اس بات پر مشتمل ہے کہ اسے  کہاں   رکھا جائے؟ ([6])

            ایک عارف کا قول ہے کہ جس بندےنے لوگوں   سے  اپنے علم اور عقل کے مطابق بات چیت کی اور ان کی حدود کے مطابق ان سے  گفتگو نہ کی تو اسنے نہ صرف ان کا حق برباد کیا بلکہ اسنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق بھی ادا نہیں   کیا۔  ([7])

            حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ ہر ایک کے لئے  (اپنے علم کی)  نہر سے  پانی ضرور نکالو،   مگر اسی کے برتن سے  اسے  پلاؤ۔ ہم اس مفہوم کو اس طرح ادا کرتے ہیں   کہ ہر بندے کو اس کی عقل کے معیار کے مطابق تولو اور اس کا وزن اس کے علمی وزن کے مطابق کرو تا کہ تم اس سے  محفوظ رہ سکو اور وہ تم سے  نفع حاصل کر سکے،   ورنہ معیار کے مختلف ہونے کی وجہ سے  وہ انکار کر دے گا۔  ([8])

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   ہمارے ایک شیخ فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر کتانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فقرا کو علمِ حکمت سے  نوازنے میں   بڑے سخی تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو عمران المعروف کبیر مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے انہیں   ڈانٹتے ہوئے اس علم سے  دوسروں   کو نوازنے اور اس میں   کثرت سے  کلام کرنے سے  منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’میں 20 سال سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  یہ دعا مانگ رہا ہوں   کہ وہ مجھے یہ علم بھلا دے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو بکر کتانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِینے عرض کی: ’’وہ کیوں  ؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’میں  نے خواب میں   شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   ہر شے کی حرمت ہے اور تمام اشیاء کی حرمت سے  بڑھ کر حکمت کی حرمت ہے۔ پس جس نے اسے  کسی نااہل کے سپرد کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے سے  اس حکمت کا حق طلب کرے گا اور جس سے  وہ مطالبہ کرے گا اس پر غالب آ جائے گا۔ ‘‘   ([9])

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  منقول ہے کہ بندہ جب ستون کے سہارے کھڑا ہوتا ہے یا یہ پسند کرتا ہے کہ اس سے  سوال پوچھے جائیں   تو اس کے پاس مت بیٹھو اور نہ ہی اس سے  کوئی سوال پوچھنا مناسب ہے۔ ([10])

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  اہلِ حکمت کی محافل میں   شاذ و نادر ہی 20 یا 30 افراد ہوتے اور ایسا بھی ہمیشہ نہ ہوتا بلکہ بعض اوقات تو چار سے  لے کر دس یا کچھ زائد افراد ہی ان محافل میں   شریک ہوتے۔ مگر حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  لے کر ہمارے اس زمانے تک قصہ گو،   واعظین اور خطبا کی محافل میں   سینکڑوں   افراد شامل ہوتے ہیں  ۔ یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ ان دونوں   قسم کے طبقات میں   یہ فرق ہے کہ علم خاص ہے جس کا تعلق بہت ہی کم لوگوں   کے ساتھ ہے جبکہ قصے اور کہانیاں   عام ہیں   اور ان کا تعلق کثیر لوگوں   سے  ہے ۔

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   ہمارے زمانے کے ایک عالم فرماتے ہیں   کہ بصرہ میں   120 آدمی وعظ و نصیحت کیا کرتے ہیں   لیکن علمِ معرفت و یقین اور مقامات و احوال کے متعلق گفتگو کرنے والے صرف اور صرف 6 بندے ہیں   جن میں   سے  تین حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل،   حضرت سیِّدُنا صبیحی اور



[1]    ۔ العقد الفرید، کتاب المرجافۃ    الخ، الحکمۃ، ج۲، ص۱۱۶

[2]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۳۹۰سفیان بن عیینۃ، الحدیث: ۱۰۶۸۹، ج۷، ص۳۲۳ مفھومًا

[3]    ۔ المرجع السابق بتغیر

[4]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۶۱۶ ابو محمد الجریری، الحدیث: ۱۵۴۷۱، ج۱۰، ص۳۷۱ بتغیر

[5]    ۔ تاریخ بغداد، الرقم۴۹۰۷ طلحۃ بن عمر، ج۹، ص۳۵۶۔ الجوھر بدلہ الدر،  بالاختصار اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب الخامس فی آداب المتعلم و المعلم، بیان وظائف المرشد المعلم، ج۱، ص۵۶۰



Total Pages: 332

Go To