Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیِّدُنا رقبہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  ارشاد فرمایا کہ اگر یہ آپ کی طرح ہوتا تو میری بد خلقی کی وجہ سے  اپنا فائدہ چھوڑ دیتا۔ تو حضرت سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی: ’’رہنے دیجئے! میں   تو آپ کے اس عمل کو کڑوی دوا سمجھتا ہوں   کیونکہ مجھے اس کے نفع مند ہونے کی امید ہے۔ ‘‘  ([1])

٭… امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم یا حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق منقول ہے کہ وہ ایک شخص کے پاس سے  گزرے جو لوگوں   کے سامنے کلام کر رہا تھا تو ارشاد فرمایا:  ’’یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے جان اور پہچان لو۔ ‘‘  ([2])

٭… حضرت سیِّدُنا ابو حفص نیشاپوری کبیر عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَدِیْر   خراسان میں   حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی جیسے  مقام کے حامل تھے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ عالم وہ ہوتا ہے جس سے  کوئی دینی مسئلہ پوچھا جائے تو وہ غمزدہ ہو جائے یہاں   تک کہ اگر اسے  زخمی کیا جائے تو خوف و دہشت کے باعث اس کے جسم سے  خون نہ نکلے اور اسے  یہ ڈر لاحق ہو کہ دنیا میں   پوچھے گئے اس سوال کے متعلق آخرت میں   اس سے  پوچھا جائے گا۔ نیز وہ اس بات سے  بھی خوفزدہ ہو کہ وہ سوال کا جواب دینے سے  نہیں   بچ سکتا کیونکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے فقدان کی وجہ سے  اب اس پر جواب دینا فرض ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  دس میں   سے  صرف ایک سوال کا جواب دیتے اور فرمایا کرتے کہ تم ہمیں   جہنم کا پل بنا کر اس پر سے  یہ کہتے ہوئے گزرنا چاہتے ہو کہ ابن عمرنے ہمیں   ایسا ایسا فتویٰ دیا تھا۔  ([3])

٭… حضرت سیِّدُنا ابراہیم تمیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  جب کوئی سوال پوچھا جاتا تو آپ رونے لگتے اور فرماتے: ’’تمہیں   میرے سوا کوئی ایسا فرد نہ ملا جس سے  تم پوچھ سکتے یا پھر تم میرے محتاج ہو گئے تھے؟ ‘‘  مزید فرماتے کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کو بہت مجبور کیا کہ وہ ستون کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو کر ہمیں   وعظ کریں   مگر انہوں  نے ہر بار انکار ہی کیا اور جب بھی ان سے  کسی شے کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ  رونے لگتے اور فرماتے کہ لوگ میرے محتاج ہو گئے ہیں  ۔  ([4])

٭… حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے وقت میں   ایک منفرد علمی شان رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے متعلق یہ شعر پڑھا کرتے:

خَلَتِ الدَّیارُ فَسُدْتُّ غَیْرَ مُسَوَّدِ  وَمِنَ الشِّقَآءِ تَفَرُّدِیْ بِالسُؤْدَدِ

تر جمعہ : بستیاں   خالی ہو گئیں   اور میں   بنا کسی کے سردار بنائے خود ہی سردار بن گیا،   حالانکہ یہ بدبختی کی علامت ہے کہ میں   سرداری کے لئے اکیلا ہی ہوں  ۔ ([5])

وعظ و نصیحت میں   اسلاف کا طریقہ: 

            حضرت سیِّدُنا ابو عالیہ ریاحی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عموماً دو یا تین آدمیوں   کی موجودگی میں   کلام کیا کرتے اور جب چار آدمی ہو جاتے تو اٹھ جاتے۔ اسی طرح مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم،   حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری اور حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحِمَہُمُ اللہُ الْاَکْرَم بھی صرف چند بندوں   کے سامنے کلام کیا کرتے اور جب لوگوں   کی تعداد بڑھ جاتی تو وہ اٹھ جاتے۔ حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں   پانچ یا چھ سے  لے کر دس تک افراد ہوتے تھے۔

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   مجھے کسی شیخنے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی  عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی بھی دس سے  کچھ زائد اشخاص کے سامنے ہی کلام کیا کرتے تھے اور ان کی محفل میں   کبھی بھی 20 اشخاص مکمل نہ ہوئے ۔

حکمت و دانائی کی باتوں   کا صحیح حقدار: 

            ہمارے شیخ حضرت سیِّدُنا ابو حسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کے متعلق مروی ہے کہ ان کی مسجد میں   کافی لوگ جمع ہو گئے اور انہوں  نے ایک شخص کو آپ کی خدمت میں   یہ عرض کرنے بھیجا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بھائی مسجد میں   موجود ہیں   اور آپسے  ملنا اور آپ کی باتیں   سننا چاہتے ہیں  ،   اگر آپ مناسب خیال کریں   تو ان کے پاس چلیں  ۔ مسجد ان کے گھر کے قریب ہی تھی،   ابھی قاصد ان کی خدمت میں   حاضر بھی نہ ہوا تھا کہ آپ گھر سے  باہر تشریف لائے اور قاصد سے  پوچھا: ’’یہ کون لوگ ہیں  ؟ ‘‘  اسنے بتایا کہ فلاں   فلاں   اور فلاں   ہیں   یعنی سب کے نام بتائے،   تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ میرے اصحاب نہیں  ،   بلکہ یہ تو اصحابِ مجلس ہیں  ۔ ‘‘    (انہوں  نے یہ کہا اور واپس چل دیئے)  اور ان کے پاس تشریف نہ لائے۔ گویا کہ انہوں  نے ان تمام لوگوں   کو عام افراد شمار کیا جو ان کے خاص علم کے قابل نہ تھے،   لہٰذا ان کی خاطر اپنا وقت برباد نہ کیا۔ اسی طرح عالم اپنی خلوت کو عزیز سمجھتا ہے،   ہاں   اگر خاص ساتھی میسر ہوں   تو پھر ان کی صحبت کو خلوت پر ترجیح دیتا ہے۔ اس طرح وہ عالم ان خاص افراد کے ایمان میں   زیادتی کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اگر اسے  ایسے  خاص افراد کی ہم نشینی میسر نہ ہو تو پھر وہ باطل پرستوں   کی ہم نشینی سے  بچنے کے لئے اپنی خلوت پر کسی کو بھی ترجیح نہیں   دیتا۔ حضرت سیِّدُنا ابو حسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم اپنے بھائیوں   کے پاس تشریف لاتے اور جنہیں   اپنے علم کے موزوں   خیال کرتے ان کے پاس بیٹھ کر مذاکرہ کرتے۔ بعض اوقات ان کے پاس رات کو تشریف لاتےاور بسا اوقات دن کو۔

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   میری عمر کی قسم! مذاکرہ اہلِ نظر افراد کے درمیان ہوتا ہے جبکہ محادثہ بھائیوں   کے درمیان ہوتا ہے۔ علم کی خاطر صحبت اختیار کرنا صرف اور صرف ساتھیوں   کے لئے ہوتا ہے جبکہ سوال کا جواب عام لوگوں   کا نصیب اور حصہ ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک ان کا علم خاص ہے اور خواص کے علاوہ کوئی بھی اسے  حاصل کرنے کے قابل نہیں   جبکہ خواص کی تعداد بہت کم ہے۔ لہٰذا وہ صرف اسی کے سامنے کلام کرتے ہیں   جو اس کی اہلیت رکھتا ہے اور خیال یہ کرتے ہیں   کہ یہ اسی کا حق ہے اور ان پر اس کا حق ادا کرنا لازم ہے۔ چنانچہ،   

 



[1]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم    الخ، ج۱، ص۶۵۰

[2]    ۔ المرجع السابق

[3]    ۔ المرجع السابق، ص۶۵۳، ۶۵۱

[4]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم    الخ، ج۱، ص۶۵۱

[5]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۳۹۰سفیان بن عیینۃ، الحدیث: ۱۰۶۹۵، ج۷، ص۳۲۴



Total Pages: 332

Go To