Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سامنے جب  (لوگوں   کے سوالات کے جواب دینے والے)  ایک شخص کے اوصاف بیان کئے گئے تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’اس میں   حرج نہیں   بشرطیکہ بندہ کسی شے کے متعلق کچھ پوچھنے سے  پہلے ہی گفتگو نہ کرنے لگے۔ ‘‘  اور ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ اس میں   بھی حرج نہیں   بشرطیکہ بندہ مہینے بھر کی گفتگو ایک ہی دن میں   نہ کر ڈالے۔ اسی مفہوم پر مبنی ایک قول مروی ہے کہ کلام کا تعلق خواہش سے  ہوتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں   کہ اس سے  پہلے کہ بندے سے  کچھ پوچھا جائے وہ خواہش کی بنا پر گفتگو کا آغاز کر دیتا ہے۔

 علمی گفتگو کے آداب: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  ایک بزرگنے ابدالوں   کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کا کھانا بھوک اور فاقہ کشی ہے،   گفتگو بقدرِ ضرورت ہوتی ہے،   وہ کسی شے کے متعلق بات نہیں   کرتے،   جب ان سے  کچھ پوچھا جائے تو ہی جواب دیتے ہیں  ۔   ([1])

            جو بندہ بن پوچھے کلام نہ کرے تو وہ لغو اور لایعنی باتیں   کرنے والاشمار نہیں   ہوتا۔ کیونکہ سوال کے بعد جواب دینا  اس طرح فرض ہو جاتا ہے جیسے  سلام کرنے کے بعد اس کا جواب دینا لازم ہو جاتا ہے۔  ([2])

            حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں   کہ میرے نزدیک سوال کا جواب دینا اسی طرح واجب ہے جیسے  سلام کا جواب دینا واجب ہے۔  ([3])

            حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری اور حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  منقول ہے کہ جس سے  کوئی علمی بات پوچھی جائے اسے  چاہئے کہ بتا دے اور جس سے  کچھ نہ پوچھا جائے اسے  چاہئے کہ خاموش رہے۔ ورنہ اسے  تکلف کرنے والوں   میں   لکھ لیا جائے گا اور دین سے  بھی نکل جائے گا۔  ([4]) حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  بھی اسی قسم کا قول مروی ہے،   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن ہر شے میں   تکلف کے شامل ہونے سے  ڈرا کرتے تھے اور بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بلاحاجت یا سوال سے  قبل کلام کرنے کو بھی تکلف شمار کرتے یعنی وہ محل یا اہل دیکھے بغیر کلام کرنے کو تکلف شمار کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَاحِد کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لایعنی باتوں   کا جواب مت دینا کہ یہی افضل طریقہ ہے اور مجھے تیرے خطا میں   مبتلا ہونے کا ڈر ہے اور نہ ہی فائدہ مند گفتگو کرنا یہاں   تک کہ اس کا محل دیکھ لو،   کہ بہت سے  نفع بخش گفتگو کرنے والے غیر محل میں   گفتگو کرتے ہیں   تو شرمسار ہوتے ہیں  ۔ ([5])

            مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی کی موت پر ان کی والدہ ماجدہنے انہیں   مخاطب کر کے کہا:  ’’تجھے جنت مبارک ہو! تونے سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جہاد کیا اور راہِ خدا میں   شہید ہوا۔ ‘‘  تو سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’تجھے کیا معلوم کہ وہ جنت میں   ہے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ لایعنی باتیں   کرتا ہو اور ان اشیاء میں   بخل سے  کام لیتا ہو جن کی اسے  ضرورت نہ تھی۔ ‘‘  ([6])

بن پوچھے علم ظاہر کرنے کا وبال: 

            وہ شخص جس نے بِن پوچھے علم ظاہر کیا اور نا اہل افراد میں   پھیلایا،   اگر انہوں  نے اس علم کا انکار کر دیا تو اس سے  پرسش ہو گی کیونکہ اسنے علم کے اظہار میں   تکلف سے  کام لیا لیکن اگر سوال پوچھنے پر وہ جواب دے اور جو افراد نہ مانیں   تو ان کے متعلق اس سے  پوچھ گچھ نہ ہو گی کیونکہ اسنے تو محض سوال کا جواب دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس علم میں   کلام کرنے والے سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی اس وقت تک خاموش رہا کرتے جب تک ان سے  کوئی سوال نہ پوچھا جاتا۔

جواب اور عطا وتوفیق خداوندی: 

            حضرت سیِّدُنا ابو محمد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الصَّمَد  فرمایا کرتے تھے کہ عالم خاموش بیٹھا رہتا ہے لیکن اس کا دل اپنے مولا و آقا کی جانب مائل ہوتا ہے اور اس سے  حسنِ توفیق مانگتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ وہ اسے  درست بات کی توفیق عطا فرما دے تا کہ اس سے  جس شے کے متعلق بھی پوچھا جائے وہ اپنے مالک عَزَّ وَجَلَّ کے عطا کردہ علم سے  اس کا جواب دے۔

            حضرت سیِّدُنا ابو محمد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الصَّمَد کے اس فرمان سے  معلوم ہوا کہ عالم کا کام بارگاہِ خداوندی کی جانب نظریں   جمائے منہ پر تالے لگا کر توکل مانگنا اور ہر دم رحمتِ خداوندی سے  اس بات کا منتظر رہنا ہے کہ اب کیا معاملہ جاری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بزرگنے ارشاد فرمایا: عالم وہی ہوتا ہے جس سے  کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو اس کی حالت یہ ہو جائے گویا کہ اس کی داڑھ نکالی جا رہی ہے۔   ([7])

جواب دینے کے متعلق سلف صالحین کا طریقہ: 

٭… حضرت سیِّدُنا رَقَبہ بن مَصْقَلہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور دوسرے مشائخ کا قول ہے کہ عالم وہ نہیں   جو لوگوں   کو جمع کر کے انہیں   قصے سناتا رہے بلکہ عالم تو وہ ہے جب اس سے  کوئی علم کی بات پوچھی جائے تو اس کی حالت یہ ہو جائے گویا وہ رائی کی نسوار سونگھ رہا ہے۔

٭… حضرت سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اکثر حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  علمِ حدیث کے متعلق سوال کیا کرتے مگر وہ منہ پھیر لیتے اور کوئی جواب نہ دیتے،   ایک بار



[1]    ۔ المقاصد الحسنۃ للسخاوی، حرف الہمزۃ، تحت الحدیث: ۸، ص۲۸

[2]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم   الخ،  ج۱، ص۶۵۰

[3]    ۔ الادب المفرد للبخاری، باب جواب الکتاب، الحدیث: ۱۱۵۰، ص۲۹۹ بتغیر

[4]    ۔ صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب الدخان، الحدیث: ۷۰۶۶، ص۱۱۶۵ بتغیر

[5]    ۔ موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصمت و آداب اللسان، باب النھی عن الکلام فیما لایعنیک، الحدیث: ۱۱۴، ج۷، ص۸۸ بتغیر

[6]    ۔ مسند ابی یعلی الموصلی، مسند انس بن مالک،

Total Pages: 332

Go To