Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے پاس جایا کرتے تھے،   کیا ان کے پاس علمِ حدیث تھا؟ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’اے میرے لختِ جگر! ان کے پاس معاملے کی اصل یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا تقویٰ تھا۔ ‘‘ 

            ایک بار امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَ وّل سے  عرض کی گئی کہ کس شے کے سبب ان اماموں   کا شہرہ ہوا اور ان کے اوصاف بیان کئے گئے؟ ارشاد فرمایا: صرف اور صرف صدق کے سبب جو ان میں   پایا جاتا تھا۔ عرض کی گئی: صدق کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا: اخلاص کا نام صدق ہے۔ عرض کی گئی: اخلاص کیا ہوتا ہے؟ فرمایا:  زہد کو اخلاص کہتے ہیں  ۔ پھر عرض کی گئی: زہد کیا چیز ہے؟ تو آپ نے تھوڑی دیر کے لئے اپنے سر کو جھکا لیا،   پھر ارشاد فرمایا: زہد کے متعلق زاہدین ہی سے  دریافت کرو،   یعنی حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَارِث سے  دریافت کرو۔

قصہ گوئی اور علمِ معرفت میں   فرق: 

            حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَارِث سے  منصور بن عمار کے متعلق کئی عجیب و غریب حکایات مروی ہیں  ۔ منصور بن عمار ایک واعظ اور خطیب تھا اور اپنے زمانے میں   اس کا شمار حضرت سیِّدُنا بشربن حارث،   حضرت سیِّدُنا  امام احمد بن حنبل اور حضرت سیِّدُنا ابو ثور رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی جیسے  علمائے کرام میں   نہ ہوتا تھا بلکہ عام لوگ اسے  عالم سمجھتے اور یہ افراد اسے  قصہ گو شمار کیا کرتے تھے۔ چنانچہ نصر بن علی جَہْضَمِی کے متعلق مروی ہے کہ ایک دن اسنے مزاح کی حد کر دی تو اس سے  کہا گیا: کیا تم ایسا کر رہے ہو جبکہ تمہارا شمار علما میں   ہوتا ہے؟ تو بولا کہ میں  نے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  ہر ایک کو مزاح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سے  پوچھا گیا: ’’تم حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَارِث کو دیکھ چکے ہو کیا تمنے ان کو کبھی ایسا مزاح کرتے ہوئے سنا؟ ‘‘  بولا کہ ہاں  ! ایک مرتبہ میں   ان کے ساتھ ایک گلی میں   بیٹھا تھا کہ منصور بن عمار دوڑتا ہوا آیا اور ان سے  عرض کی: ’’اے ابو نصر! امیرنے تمام علما اور صالحین کو جمع ہونے کا حکم دیا ہے،   آپ کا میرے متعلق کیا خیال ہے کہ کیا میں   چھپ جاؤں  ؟ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَارِثنے اُسے  خود سے  دور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ہم سے  دور ہو جاؤ کہیں   امیر تمہاری مصیبت ہم پر نہ ڈال دے اور ہم بھی اس کی لپیٹ میں   آ جائیں  ۔ ‘‘ 

            علمائے سلف کے نزدیک قصہ گو لوگوں   کا یہی مقام ہے،   یہاں   تک کہ علمِ معرفت جاننے والے ختم ہو گئے اور مجالسِ ذکر اور علومِ یقین و معاملات اس علم کے تذکرہ سے  خالی ہو گئے،   مگر وہ لوگ اس علم سے  غافل نہ رہے جنہوں  نے ایسے  علمائے سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی سیرت اور طریقت کو پہچان لیا جنہوں  نے ذیل کے امور میں   فرق کیا:

            ٭…ذکر اور قصہ گوئی کی محافل کے درمیان         ٭…علما اور متکلمین کے درمیان

            ٭…زبان کے علم اور دل کی فقاہت کے درمیان   ٭…علمِ یقین اور علمِ عقل کے درمیان

            اس لئے کہ ایک عالم اور قصہ گو کے درمیان بہت فرق ہے کیونکہ عالم عموماً خاموش رہتا ہے جب تک اس سے  کچھ پوچھا نہ جائے اور جب اس سے  کوئی سوال پوچھا جائے تو وہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے عطا کردہ علم کے مطابق جواب دیتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ حقیقت پسندی کے مطابق کلام کر کے حقیقت آشکار کر دیتا ہے۔ خاموش رہنا اگر اس کے لئے زیادہ بہتر ہو تو وہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور اگر کوئی ایسا شخص نہ ملے جو اس کی علمی بات کو سمجھ سکے تو کسی ایسے  شخص کا انتظار کرتا ہے جو اس کی سمجھ رکھتا ہو۔ چنانچہ اس علم کی اہلیت رکھنے والا صرف وہی ہو سکتا ہے جو عارف ہو اور جو ایسا ہو اس کے لئے مشاہدہ اور وجدان میں   سے  حصہ مقرر ہے۔

جواب دے یا خاموش رہے: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ (۴۳)  (پ۱۴،  النحل: ۴۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اے لوگو علم والوں   سے  پوچھو اگر تمہیں   علم نہیں   ۔

            اس آیتِ مبارکہ میں   دو مفہوم بیان کئے گئے ہیں  :

٭…اہلِ ذکر ہی علمائے ربانیین ہیں   کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان :  ’’پوچھو اگر تمہیں   علم نہیں   ‘‘  سے  مراد ہے کہ جو نہیں   جانتا اس سے  کوئی سوال پوچھنا جائز نہیں  ۔ کیونکہ علم نہ رکھنے والے جاہل ہیں   اور پوچھنے سے  ان کی جہالت میں   مزید اضافہ ہی ہو گا۔

٭…علما سے  جب تک کوئی سوال نہ کیا جائے وہ خاموش ہی رہتے ہیں   اور جب ان سے  کوئی بات پوچھی جائے تو ان پر جواب دینا لازم ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بے خبر لوگوں   کو ان سے  سوال پوچھنے کا حکم دیا ہے۔

            نیز یہ آیتِ مبارکہ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ محافلِ ذکر درحقیقت علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی محافل ہی ہیں   جن کے فضائل میں   بہت سی احادیث بھی مروی ہیں  ۔ اس میں   مزید غوروفکر کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اہلِ ذکر یہی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہیں   جن سے  سوال پوچھا جاتا ہے اور یہ ایسے  لوگ ہیں   کہ جب  (کسی محفل میں   کوئی)  بات کرتے ہیں   تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتے ہیں   اور جب کسی الگ مقام پر ہوتے ہیں   تب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وعدوں   کے ذکر ہی میں   مشغول رہتے ہیں  ،   پس جب انہوں  نے ہر لمحہ اسی کا ذکر کیا تو علم کی دولت سے  مالا مال ہو گئے،   پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دوسرے لوگوں   کو حکم دیا کہ ان سے  سوال پوچھا کرو۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سرکارِ والا تَبارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جاہل کے لئے جائز نہیں   کہ وہ اپنی جہالت پر برقرار رہے اور نہ ہی عالم کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنے علم پر خاموش رہے۔ ‘‘   ([1])

            سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان پر دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مذکورہ فرمان عالیشان ہی ہے یعنی: 

 



[1]    ۔ المعجم الاوسط، الحدیث: ۵۳۶۵،ج۵ ،ص۱۰۶



Total Pages: 332

Go To