Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(11)  كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ (۱۷) وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (۱۸)   (پ۲۶،  الذّريٰت:  ۱۷،  ۱۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ رات میں   کم سویا کرتے اور پچھلی رات اِستغفار کرتے۔

 (12)  اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِؕ-اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا (۷۸) وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ (پ۱۵،   بنی اسرآئيل: ۷۸،   ۷۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے  رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں   فرشتے حاضر ہوتے ہیں   اور رات کے کچھ حصہ میں   تہجد کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے۔

 (13)  وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ (۱۱۴)  (پ۱۲،   هود:  ۱۱۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں   کناروں   اور کچھ رات کے حصوں   میں   بیشک نیکیاں   برائیوں   کو مٹادیتی ہیں   یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں   کو۔

 (14)   فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (۱۷) وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ (۱۸)   (پ ۲۱،   الروم:  ۱۷،  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور جب صبح ہو اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں   اور زمین میں   اور کچھ دن رہے اور جب تمہیں   دوپہر ہو۔

٭٭٭

فصل: 3

مریدِ صادق کے یومیہ معمولات فرائض اور فضائلِ مستحبات

طلوعِ فجر کا وقت:

            جب ستارے ڈوب جاتے ہیں   اور آسمان کے مشرق میں   عرضاً  (یعنی شمالاً جنوباً)  رات کی سیاہی سے  سفیدی ظاہر ہوتی ہے تو اسے  فجر کا طلوع ہونا کہتے ہیں  ۔ ستاروں   کے ڈوبنے سے  مراد ان کا منتشر ہونا اور صبح کی روشنی کے غالب آنے کی وجہ سے  ان کی روشنی کا ماند پڑ جانا ہے۔ یہ وہی وقت ہے جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنا ذکر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ (۴۹)  (پ ۲۷،   الطور:  ۴۹)

 تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کچھ رات میں   اس کی پاکی بولو اور تاروں   کے پیٹھ دیتے۔

طلوعِ فجر کے وقت مستحب عمل:

            طلوعِ فجر کے وقت فجر کی دو رکعت سنتیں   ادا کرنا مستحب ہے۔

سنت فجر میں   پہلی مسنون قراءَت: 

            سنت ِ فجر میں   (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ (۱) )  اور (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) )  پڑھیں  ۔ اکثر روایات میں   ہے کہ حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان دو رکعتوں   میں   یہی سورتیں   تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

سنت فجر میں   سِرِّی یا جَھْرِی  قراءَ ت:

            فجر کی سنتوں   میں   سری  (آہستہ آواز سے )  قراء َت کریں   اور چاہیں   تو جہری  (بلند آواز سے )  بھی کر سکتے ہیں   کہ دونوں   طرح کی احادیثِ مبارکہ مروی ہیں  ۔

            سری قراء َت پر ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا سے  مروی حدیث ِ پاک دلالت کرتی ہے۔ آپ فرماتی ہیں   کہ میرے سرتاج،   صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فجر کی سنتیں   اتنی مختصر ادا فرمایا کرتے کہ میں   خیال کرتی،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی یا نہیں  ؟ ‘‘   ([1])

            اور جہری قراء َت کے متعلق حدیث ِ پاک حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُمَا سے  مروی ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’میں  نے 20روز تک حُسنِ اَخلاق کے پیکر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معاملات کا بغور مشاہدہ کیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فجر کی سنتوں   میں    (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ (۱) )  اور (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) ) تلاوت کرتے سنا۔ ‘‘  ([2])

دوسری مسنون قراءَت:

            حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلی رکعت میں   سورۂ بقرہ کی یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: 

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ (۱۳۶) -  (پ۱،   البقرة:  ۱۳۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یوں   کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اوراس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور انکی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی وعیسٰی اور جو عطا کئے گئے باقی انبیا اپنے رب کے پاس سے  ہم ان میں   کسی پر ایمان میں  فرق نہیں   کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں  ۔

            اور دوسری رکعت میں   یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی ([3])

 



[1]     سنن النسائی، کتاب الافتتاح، باب تخفيف رکعتی الفجر، الحديث:۹۴۷، ص ۲۱۴۹ دون قوله’’ام لا‘‘

[2]     جامع الترمذی، ابواب الصلاة، باب ما جاء فی تخفيف    الخ، الحديث:۴۱۷، ص ۱۶۸۴ بتغير قليل

[3]     سنن النسائی، کتاب الافتتاح، باب القراء ة رکعتی الفجر، الحديث:۹۴۵، ص ۲۱۴۸



Total Pages: 332

Go To