Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ساتھ تشریف فرما ہو گئے۔ ([1])

صحبت ِ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے  محرومی: 

            ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ ایک دن میں   مسجد گیا تو وہاں   دو قسم کے حلقے پائے،   ان میں   سے  ایک میں   قصہ گوئی ہو رہی تھی اور لوگ دعاؤں   میں   مصروف تھے جبکہ دوسرے میں   لوگ علم اور اعمال کی سوجھ بوجھ کے متعلق گفتگو فرما رہے تھے،   فرماتے ہیں   میرے دل میں   دعا میں   مشغول لوگوں   کے حلقہ کی جانب جانے کا میلان پیدا ہوا تو میں   ان کے ساتھ بیٹھ گیا،   اچانک میری آنکھیں   بوجھل ہونے لگیں   اور میں   سو گیا،   تو ہاتفِ غیبی یا پھر کسی شخص نے مجھ سے  کہا: ’’تونے ان لوگوں   کے ساتھ بیٹھ کر مجلسِ علم چھوڑ دی،   اگر تو ان کے ساتھ بیٹھتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی مجلس میں   پا لیتا۔  ‘‘  

افضل ذکر: 

            حقیقی ذکر یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل ہو۔ کیا آپ نے شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی یہ قول نہیں   سنا کہ ’’افضل ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا ہے۔ ‘‘  ([2])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھی اس کی تصدیق فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 (۱) …فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ  (پ ۲۶،   محمد:  ۱۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں  ۔

 (۲) …فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے  اترا ہے

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ- (پ۱۲،   ھود: ۱۴)

اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچّامعبود نہیں  ۔

علم مشاہدہ: 

            ذکر سے  حاصل ہونے والے علم کو علمِ مشاہدہ کہتے ہیں  ،   جبکہ مشاہدہ خود عین الیقین کی صفت ہے،   لہٰذا جب آنکھ سے  پردہ ہٹتا ہے تو وہ صفات کے معانی کا ان کے انوار کی روشنی میں   مشاہدہ کرتی ہے اور یہ اُس نورِ یقین کی زیادتی کے سبب ہے جو کمالِ ایمان اور حقیقتِ ایمان ہے۔ پس  (جب آنکھ سے  پردہ ہٹتا ہے تو)  اس وقت وہ مشاہدۂ مذکور سے  متصف ہونے والے بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اوصاف کے انوار یاد دلاتی ہے۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا:

الَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ (پ۱۶،  الکھف: ۱۰۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جن کی آنکھوں   پر میری یاد سے  پردہ پڑا تھا۔

حقیقی ذکر: 

            پس جس بندے کی آنکھ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کے باعث حجاب دور ہو جائے تو بندہ مذکور کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے اور اس مشاہدے کے وقت حقیقی ذکر میں   مشغول ہو جاتا ہے،   اس کے بعد مخلوق کو بھلا کر علم کی حقیقت تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ (پ۱۵،  الکھف: ۲۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے۔

            پس ذکر کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ ہر شے کو بھول جائے جیسا کہ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے معبودانِ باطلہ کا انکار کر دیا جائے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ  (پ۳،  البقرۃ: ۲۵۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے۔

غافل دل کا علاج:

            ایک محدّث فرماتے ہیں   کہ ایک عارف میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں   اپنے دل میں   غفلت پا رہا ہوں  ،   لہٰذا چاہتا ہوں   کہ آپ مجھے کسی ذکر کی مجلس میں   لے چلیں  ۔ میں  نے عرض کی کہ ہاں   ضرور اور پھر ان کے سامنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والے ایک بندے کا نام لیا جو عام علوم کے متعلق گفتگو کرتا تھا۔ فرماتے ہیں   کہ ہم اس کے پاس گئے،   کافی لوگ جمع تھے،   وہ ذاکر قصے سنانے لگا اور جنت و دوزخ کا تذکرہ کرنے لگا تو میرے ساتھی نے میری جانب دیکھ کر فرمایا: ’’کیا یہ وہی بندہ نہیں   ہے،   جس کے متعلق آپ کا گمان تھا کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتا ہے اور ربّ اور اس کے اِنعامات یاد دلاتا ہے؟ ‘‘  میں  نے کہا کہ ہاں   یہ وہی ہے اور ہم اسے  ایسا ہی خیال کرتے ہیں  ۔ تو وہ کہنے لگے:  ’’میں   تو



[1]    ۔ سنن ابنِ ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء    الخ، الحدیث: ۲۲۹، ص۲۴۹۱

[2]    ۔ جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ، الحدیث: ۳۳۸۳، ص۱۹۹۹



Total Pages: 332

Go To