Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اور حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی شریک ہوتے۔

            آپ فرمایا کرتے تھے: ’’آؤ! نور پھیلائیں  ۔ ‘‘  پھر وہ ان کے سامنے علمِ یقین اور قلبی خواطر،   فسادِ اعمال اور نفسانی وسوسوں   میں   قدرت کے متعلق گفتگو فرماتے،   بسا اوقات کوئی صاحبِ حدیث سر جھکائے ہوئے دوسرے لوگوں   کے پیچھے ان کی باتیں   سننے کی خاطر چھپ کر بیٹھ جاتا اور جب حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اسے  دیکھتے تو فرماتے: ’’اے چھوٹے بچے! تو یہاں   کیا کر رہا ہے؟ہم تو یہاں   اپنے بھائیوں   کے ہمراہ خلوت میں   بیٹھ کر ذکر کر رہے ہیں  ۔ ‘‘ 

علمِ معرفت کے امام: 

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی علمِ معرفت میں   ہمارے امام ہیں  ،   ہم انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں   اور انہی کے راستے پر رواں   دواں   ہیں   اور ان کے چراغ ہی سے  روشنی حاصل کر رہے ہیں  ۔ ہم نے انہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذن سے  اپنا امام بنایا ہے،   اس طرح کہ دورِ حاضر سے  لے کر ان کے زمانے تک اس فن کی اِمامت اُن پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ ان کا شمار بلند پایہ تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں  نے 40 سال تک اپنے سینے میں   حکمت کے موتی اکٹھے کئے اور پھر زبان سے  ان کا اظہار کیا۔

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی زیارت : 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے 70 بدری صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے علاوہ کل 300 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی زیارت کی۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پیدائش  20  ؁ ھ میں   امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کے ختم ہونے سے  دو دن پہلے ہوئی۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی آزاد کردہ لونڈی تھیں  ،   منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شدید رو رہے تھے تو ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے شفقت فرماتے ہوئے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنی چھاتی سے  لگا لیا اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان کی چھاتی سے  دودھ پیا۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی باتیں   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باتوں   کے مشابہ تھیں  ۔  ([1])

            آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی زیارت کی اور ان کی خلافت کے زمانے میں   عشرۂ مبشرہ میں   سے  جو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حیات تھے ان کی زیارت سے  بھی مشرف ہوئے،   اس کے علاوہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کے زمانے سے  لے کر یعنی سنِ ہجری کی دوسری دہائی سے  لے کر نویں   دہائی تک دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی زیارت سے  مستفیض ہوتے رہے۔

سب سے  آخر میں   جہانِ فانی سے  کوچ کرنے والے صحابہ: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جن صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے سب سے  آخر میں   دارِ بقا کی جانب کوچ فرمایا ان میں   سے  چند کے اسمائے گرامی یہ ہیں  :

٭…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال بصرہ میں   ہوا۔

٭…حضرت سیِّدُنا سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مدینہ منورہ میں  ۔

٭…اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن ابی اوفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا کوفہ میں  وصال ہوا۔   ([2])

٭…حضرت سیِّدُنا ابو طفیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مکہ مکرمہ میں  ۔   ([3])

٭…حضرت سیِّدُنا ابو قرصافۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شام میں  ۔   ([4])

٭…حضرت سیِّدُنا ابیض بن حمال مازنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یمن میں  ۔   ([5])

٭…اور حضرت سیِّدُنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خراسان میں   سب سے  آخر میں   وصال ہوا۔   ([6])

            جب دسویں   دہائی یعنی ایک صدی پوری ہوئی تو سطحِ زمین پر کوئی ایسی آنکھ باقی نہ رہی جس نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی ہو اور حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے موت کا ابدی جام  110؁ ھ میں   نوش کیا۔

صحابہ سے  مشابہت: 

 



[1]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۱۶۹الحسن البصری، الحدیث: ۱۸۰۹، ج۲،ص۱۶۹بتغیر

                                                الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم۳۰۵۵ الحسن بن ابی الحسن، ج۷، ص۱۱۴

[2]    ۔ تاریخ ابی زرعۃ الدمشقی، الثانی من التاریخ، اخبار عبداللہ بن بسر، ص۱۶

[3]    ۔ المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب ذکر ابی الطفیل عامر بن واثلۃ الکنانی، الحدیث: ۶۶۵۱،ج۴، ص۸۱۳

[4]    ۔ کتاب<



Total Pages: 332

Go To