Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            منقول ہے کہ علم ایک نور ہے جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے دلوں   میں   ڈالتا ہے۔ ([1])

علم کی کرشمہ سازیاں  : 

            علم …بعض اوقات دیکھنے والوں   کے لئے بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا باعث بنتا ہے …بعض اوقات نوجوانوں   کے لئے بوڑھوں   کے مقابلے میں   خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے …بسا اوقات بعد میں   آنے والوں   کو پہلوں   سے  ممتاز کر دیتا ہے اور …کبھی کبھار عجز و انکسار کے پیکر گمنام افراد کے لئے عزت افزائی کا باعث بنتا ہے تا کہ ان کی عظمت جانی جائے اور لوگ ان کی شان جان کر ان کی تعظیم کیا کریں  ۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَىٕمَّةً (پ ۲۰،  القصص: ۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوروں   پر احسان فرمائیں   اور ان کو پیشوا بنائیں  ۔

علم اور حکمت: 

            جب سینے میں   نور ڈالا جاتا ہے تو علم کے ذریعے قلب اور یقین کے ذریعے نظر سے  حجاب دور ہو جاتا ہے اور زبان حقیقت بیان کرنے لگتی ہے۔ یہی وہ حکمت ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے قلوب میں   ودیعت کی ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں   ارشاد فرمایا:

وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ (۲۰)  (پ ۲۳،  ص: ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اسے  حکمت اور قولِ فیصل دیا۔

            مذکورہ آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں   منقول ہے کہ درست بات کرنا گویا کہ ایسے  ہی ہے جیسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی کو حقیقت کی توفیق مرحمت فرما دی ہو۔ ایک مقام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حکمت کے متعلق ارشاد فرمایا:

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ- (پ ۳،  البقرۃ: ۲۶٭)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ حکمت دیتا ہے جسے  چاہے اور جسے  حکمت مِلی اُسے  بہت بھلائی ملی۔

            ایک قول کے مطابق یہاں   حکمت سے  مراد فہم و فطانت ہے۔

شَرْحِ صَدْر سے  مراد: 

            جب حضور نبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہدایت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے یہ آیتِ مبارکہ:   (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ- (پ۸،   الانعام:  ۱۲۵) )   ([2]) تلاوت فرمائی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! شَرْحِ صَدْر کیا ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’جب دل میں   نور ڈالا جاتا ہے تو سینہ کشادہ و فراخ ہو جاتا ہے۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’کیا اس کی کوئی علامت و نشانی بھی ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ہاں  ! دارِ غرور یعنی دنیا سے  پہلو تہی کرنا اور دارِ خلود یعنی آخرت کی جانب رجوع کرنا اور موت کے نزول سے  پہلے اس کی تیاری کرنا۔ ‘‘   ([3])

            پس سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان سے  معلوم ہوا کہ دنیا میں   زہد اپنانا،   پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کی طرف متوجہ ہونا اور حسنِ توفیق کا پایا جانا شَرْحِ صَدْر کا سبب ہے اور علم میں   حق بات تک رسائی پانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بخشش و عطا ہے اور یہ اس کا فضل و کرم ہے اور وہ جس کے لئے چاہتا ہے اپنے کرم کو خاص کر دیتا ہے۔

عالم کی موجودگی میں   غیر عالم سے  سوال پوچھنا: 

            کوفہ کے امیر حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  پوچھا گیا کہ اس بندے کا ٹھکانا کہاں   ہو گا جو راہِ خدا میں   لڑتے ہوئے مارا گیا کہ اس کا منہ دشمن کی جانب تھا نہ کہ پشت؟ تو آپ نے فرمایا وہ جنتی ہے۔ تو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سائل سے  ارشاد فرمایا:  ’’امیر سے  دوبارہ یہی سوال پوچھو ہو سکتا ہے کہ وہ اسے  سمجھ نہ پائے ہوں  ۔ ‘‘  سائل نے دوبارہ عرض کی:  ’’اے امیر! آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں   جو راہِ خدا میں   لڑتا ہوا اس حال میں   مارا جائے اور دشمن کو پشت نہ دکھائے تو اس کا ٹھکانا کہاں   ہو گا؟ ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پھر ارشاد فرمایا کہ وہ جنتی ہے۔ تو حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پھر اس سائل سے  فرمایا کہ امیر کے پاس واپس جا کر پوچھو،   ہو سکتا ہے انہوں  نے تمہارا سوال نہ سمجھا ہو۔ جب اسنے تیسری بار سوال کیا تو آپ نے اس بار بھی یہی جواب دیکر کہ ’’وہ شخص جنتی ہے ‘‘  فرمایا کہ مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں   معلوم۔ آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں  ؟ تو حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’میں   ایسا نہ کہوں   گا۔ ‘‘  تو انہوں  نے پوچھا کہ پھر آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں  ؟ فرمایا:  ’’میں   اس کے متعلق یہ کہوں   گا کہ اگر وہ شخص راہِ خدا میں   مارا گیا اور اس نے حق پا لیا تو جنتی ہے۔ ‘‘  یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’آپ نے سچ فرمایا،   اے لوگو! آیندہ مجھ سے  کوئی سوال نہ پوچھنا،   جب تک کہ یہ عالم تم میں   موجود ہیں  ۔ ‘‘   ([4])

مقامِ اہلِ یقین و مقربین: 

 



[1]    ۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، مقدمۃ المصنف، الباب السابع عشر، ج۱، ص۱۰۰ مفھوماً

[2]    ۔ ترجمۂ کنز الایمان: اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔

[3]    ۔ المصنف لابنِ ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب ما ذکر عن نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی الزھد، الحدیث: ۱۳۱۴، ج۸، ص۱۲۶ بتغیر

[4]    ۔ البدع لابن وضاح، باب احداث البدع، الحدیث: ۸۱، ص۸۷عبد اللہ بن مسعود بدلہ حذیفۃ بن الیمان



Total Pages: 332

Go To