Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اس کے لئے فتویٰ دینا ہی جائز نہیں   اور نہ ہی اسے  عالم کہا جا سکتا ہے اور حضرت سیِّدُنا قتادہ اور حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا   فرماتے کہ لوگوں   میں   سب سے  بڑا عالم وہ ہے جو ان میں   سب سے  زیادہ لوگوں   کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو جانتا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا امامِ احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَوّل سے  پوچھا گیا:  جب کوئی شخص ایک لاکھ احادیث ِ مبارکہ لکھ لے تو کیا اس کے لئے فتویٰ دینا جائز ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: نہیں  ۔ پوچھا گیا: اگر 2 لاکھ احادیث لکھ لے تو؟ ارشاد فرمایا: نہیں  ۔ پھر پوچھا گیا: کیا 3 لاکھ احادیث لکھ لے تو؟ فرمایا:  ’’اب امید کی جاسکتی ہے۔  ‘‘  

باطنی بیماری کا علاج طبیب حاذق ہی کر سکتا ہے: 

            تورات میں  لکھا ہوا ہے کہ’’کسی باطنی بیماری کا علاج طبیب حاذق ہی کر سکتا ہے۔ ‘‘ 

            حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے درمیان حضور نبی ٔ کریم،   رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مواخات قائم کی تھی۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مدائن سے  حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک مکتوب روانہ فرمایا جس میں   تحریر تھا: ’’اے میرے بھائی! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم  (دلوں   کے)  طبیب بنے بیٹھے ہو اور  (گناہوں   کے)  مرض میں   مبتلا اَفراد کا علاج کر رہے ہو،   اگر واقعی تم طبیب ہو تو بیان کیا کرو کہ یقیناً تمہارا کلام بھی شفا ہو گا اور اگر جان بوجھ کر طبیب بننے کی کوشش کر رہے ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  ڈرو اور مسلمانوں   کو قتل نہ کرو۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں   کہ اس کے بعد حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ باز آ گئے اور جب بھی ان سے  کوئی سوال پوچھا جاتا تو اس میں   توقف فرماتے،   ایک مرتبہ ایک شخص نے ان سے  کچھ پوچھا تو آپ نے جواب دے دیا،   اس کے بعد فرمایا کہ اس شخص کومیرے پاس واپس بلاؤ۔ پھر اسے  ارشاد فرمایا کہ مجھ سے  دوبارہ وہی سوال پوچھو۔ اسنے پوچھا تو فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   جان بوجھ کر طبیب بنا بیٹھا ہوں  ۔ ‘‘  اور پھر اپنے پہلے دیئے ہوئے جواب سے  رجوع کر لیا۔ (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   میری عمر کی قسم! مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’جو جان بوجھ کر طبیب بنا حالانکہ اس کے پاس علمِ طب نہ ہو اور کسی کو قتل کر دیا تو وہ ضامن ہو گا۔ ‘‘   ([1])

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرمایا کرتے:  ’’جابر بن زید سے  مسائل پوچھا کرو کہ اگر تمام بصرہ کے لوگ ان کے پاس فتویٰ لینے کے لئے آ جائیں   تب بھی وہ انہیں   کافی ہوں   گے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا جابر بن زید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   تابعی بزرگ تھے۔

            حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ سعید بن مسیب سے  پوچھو۔  ([2]) حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ مولانا حسن  (بصری)  سے  مسائل پوچھا کرو کہ انہوں  نے مسائل یاد رکھے ہیں   اور ہم بھول چکے ہیں  ۔  ([3])

صحابی محدث اور تابعی عالم و فقیہ: 

            بعض بصری علما فرماتے ہیں   کہ ہمارے پاس میٹھے میٹھے آقا،   مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایک صحابی تشریف لائے،   تو ہم حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: کیا ہم اس صحابی کے پاس جا کر شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیثِ مبارکہ نہ پوچھیں  ؟ آپ بھی ہمارے ساتھ چلئے؟ تو بولے: آؤ چلیں  ۔ فرماتے ہیں   کہ ہم سب صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیثِ مبارکہ پوچھنے لگے اور وہ بتانے لگے یہاں   تک کہ انہوں  نے 20 احادیث بیان کیں  ۔ مگر حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی خاموشی سے  سنتے رہے۔ پھر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے گھٹنوں   کے بل بیٹھ کر عرض کی: ’’اے شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی! جو روایات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  بیان کی ہیں  ،   ذرا ہمیں   ان کی تفسیر سے  بھی آگاہ فرما دیجئے تا کہ ہم انہیں   سمجھ سکیں  ۔ ‘‘  لیکن وہ صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خاموش ہو گئے اور فرمایا: ’’میں   صرف اتنا ہی جانتا ہوں   جو میں  نے سنا تھا۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں   کہ اس کے بعد حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی ان تمام روایات کی بالترتیب تفسیر بیان کرنے لگے جو انہوں  نے بیان کی تھیں   اور کہنے لگے کہ جو پہلی حدیث ِ پاک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بیان کی اور ہمیں   اس طرح بیان کیااس کی وضاحت ایسے  ایسے  ہے۔ دوسری حدیث کی وضاحت یہ ہے،   یہاں   تک کہ انہوں  نے تمام بیان کردہ احادیث ِ مبارکہ کی وضاحت کر دی۔ راوی کہتے ہیں   کہ ہمیں   نہیں   معلوم کہ ہم حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے بہترین حافظے اور ان کے احادیثِ مبارکہ بیان کرنے کے انداز پر زیادہ حیران ہوئے تھے یا ان کے علم اور ان کی بیان کردہ وضاحت پر۔ بہرحال سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی ہتھیلی میں   کنکر اٹھائے اور ہمیں   مارتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’تم مجھ سے  علم کے متعلق سوال پوچھتے ہو حالانکہ تمہارے درمیان ایسا عالم موجود ہے۔ ‘‘ 

صحابۂ کرام کا سوالات کے جواب دینے کا انداز: 

            صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ امورِ فتاویٰ اور علم لسان کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب خود نہ دیتے،   بلکہ اس شخص کی جانب بھیج دیتے جو ان سے  مقام و مرتبہ میں   بہتر ہوتا ۔ یعنی جو علمِ توحید و معرفت اور علمِ ایمان میں   ان سے  فوقیت رکھتا اس کی جانب بھیجتے اور جن امور میں   شبہات واقع ہوتے ان میں   ایسے  افراد کی جانب رجوع نہ کرتے اور نہ ہی ان کی جانب علمِ معرفت و یقین کا کوئی مسئلہ بھیجتے۔

علم ایک نور ہے: 

 



[1]    ۔ سنن ابی داود، کتاب الدیات، باب فیمن تطبب ولا یعلم منہ طب فاعنت، الحدیث:۴۵۸۶، ص۱۵۶۰

[2]    ۔ الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی، باب القول فیما یعرف بہ    الخ، الحدیث:۴۵۰، ج۱، ص۴۳۰

[3]    ۔ طبقات الفقھاء لابی اسحاق الشیرازی، ذکر الفقھاء التابعین البصرۃ، ص۸۷



Total Pages: 332

Go To