Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: انہیں   ان کے نصیب کا لکھا پہونچے گا۔

            مراد یہ ہے کہ بندہ جس کام کے لئے پیدا کیا جاتا ہے اس کے لئے اس کے کام میں  آسانی پیدا کر دی جاتی ہے،   مذکورہ آیتِ مبارکہ کافی واضح ہے۔

توحید سے  متعلق مختلف آراء: 

            امت ِ مرحومہ کا اس بات میں   کوئی اختلاف نہیں   کہ علمِ توحید فرض ہے،   خصوصاً اس وقت جب شبہات واقع ہوں   اور دین میں   اشکالات پیدا ہو جائیں  ۔ البتہ! دو صورتوں   میں   ان کی آراء مختلف ہیں  :

             (۱) … توحید کیا چیز ہے؟

             (۲) … اسے  کیسے  حاصل کیا جائے؟ اور اس تک رسائی کس طرح ہو؟

            اس کے متعلق مختلف افراد کی درج ذیل چند آراء ملاحظہ فرمائیے:

٭… بعض کا قول ہے کہ علمِ توحید بحث و طلب کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔

 ٭… بعض کہتے ہیں   کہ استدلال اور غور و فکر سے  حاصل ہوتا ہے۔  ([1])   

٭… بعض کے نزدیک سماعت و روایت اس کے حصول کے ذرائع ہیں  ۔

٭… بعض سے  منقول ہے کہ اس کے حصول کے ذرائع توقیف و تسلیم ہیں  ۔

٭… کچھ کا کہنا ہے کہ علمِ توحید کا ادراک ا س وقت ہوتا ہے جب بندہ اسے  پانے سے  عاجز آ جاتا ہے اور اس کی حقیقت تک رسائی حاصل نہیں   کرسکتا۔

 (5) ناقل مفتی: 

            اس شخص کا شمار علما میں   ہوتا ہے جس کے پاس احادیث اور آثار کا علم ہوتا ہے اور وہ صرف انہی روایات کو نقل کرتا ہے۔ جب آپ اس سے  کوئی مسئلہ دریافت کریں   تو وہ محض اتنا ہی کہتا ہے کہ’’ سرِ تسلیم خم کر دینے کا عقیدہ اپنا لو اور جیسا حدیث ِ پاک میں   حکم آیا ہے ویسا ہی دل میں   اعتقاد رکھو اور مزید چھان بین مت کرو۔ ‘‘ 

            یہ ایسا مفتی ہے جو سلامتی کے زیادہ قریب ہے،   اس کا طریقہ سب سے  بہتر ہے اور اس کے اخلاق عام سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے زیادہ مشابہ ہیں  ،   اس کے پاس شہادتِ یقین ہے نہ اس شے کی حقیقی معرفت جس کو اسنے دیکھا اور نہ ہی وہ اپنی نقل کردہ روایت کے معانی و مفاہیم کے اوصاف بیان کرنے والے کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔ کیونکہ اس کا علم صرف روایت پر مبنی ہے اور وہ اس خبر و اَثر کو کسی دوسرے سے  نقل کر رہا ہے،   یعنی یہ ایک ایسی خبر ہے جسے  وہ دوسروں   کو بتا رہا ہے لیکن خود اس کے نقل کرنے میں   سوجھ بوجھ نہیں   رکھتا،   پس وہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  ایک واضح دلیل پر قائم ہے ،   لیکن اس خبر کا شاہد کوئی نہیں  ۔

علم سمجھنے اور یاد کرنے میں   فرق ہے:

            حضرت سیِّدُنا امام زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے کہ ’’حَدَّثَنِی فُلَانٌ وَ کَان مِنْ اَوْعِیَۃِ الْعِلْمِ ‘‘  یعنی فلاں  نے مجھے بیان کیا اور وہ بہترین علم یاد رکھنے والوں   میں   سے  تھے۔ مگر یہ نہ فرماتے کہ ’’وَکَان عالما ‘‘  یعنی وہ عالم تھے۔

ستر شیوخ سے  ملاقات کی مگر علم حاصل نہ کیا: 

            حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میں  نے تابعینِ عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  70 شیوخ کی زیارت کی،   ان میں   سے  کچھ عباد ت گزار تھے تو کچھ مستجاب الدعوات،   بعض ایسے  تھے جن کے وسیلہ سے  بارش طلب کی جاتی لیکن اس کے باوجود میں  نے ان سے  کبھی بھی کسی قسم کا علم حاصل نہ کیا۔پوچھا گیا:  ’’اس کی کیا وجہ ہے؟ ‘‘  تو ارشاد فرمایا:  ’’اس لئے کہ وہ اس مقام و مرتبہ کے اہل نہ تھے۔ ‘‘  اور ایک روایت میں   ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:  ’’کیونکہ وہ جو روایت بیان کرتے اس کی حقیقت سے  آگاہ نہ ہوتے تھے اور جو بات ان سے  پوچھی جاتی اس میں   اپنی سوجھ بوجھ سے  کچھ نہ بتا سکتے تھے۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا ابن شہاب زہری کی فضیلت: 

            حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْخَالِق فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابن شہاب زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ وہ نو عمر تھے،   اس کے باوجود ان کے پاس لوگوں   کی اس قدر بھیڑ ہوتی کہ ہم ان تک نہ پہنچ پاتے کیونکہ وہ جو بات کہتے اس کی حقیقت بھی جانتے تھے۔

            حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْخَالِق کے اس قول کا مفہوم حضورنبی ٔرحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی اس حدیث ِ پاک پر دلالت کرتا ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’بہت سے  مسائل جاننے والے انہیں   سمجھنے والے نہیں   ہوتے اور بسا اوقات ایسے  لوگ اس شخص تک ایک بات پہنچا دیتے ہیں   جو ان سے  بڑھ کر اس مسئلہ کو سمجھنے والا ہوتا ہے۔ ‘‘   ([2])

آدابِ فتویٰ : 

            بعض سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  منقول ہے کہ وہ اس شخص کے علم کو علم ہی شمار نہ کرتے جو اختلافِ علما سے  آگاہ نہ ہوتا اور بعض فرماتے کہ جو اختلافِ علما سے  آگاہ نہ ہو



[1]    ۔ الفصول فی الاصول للرازی الجصاص، باب القول فی وجوب النظر و ذم التقلید، ج۳، ص۳۷۹

[2]    ۔ سنن ابنِ ماجہ، کتاب السنۃ، باب من بلغ العلماء، الحدیث: ۲۳۰، ص۲۴۹۱



Total Pages: 332

Go To