Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہے،   کا حصول بھی بندے پر لازم ہے اور ان کا شمار دینی سوجھ بوجھ اور اوصافِ مومنین میں   ہوتا ہے کیونکہ یہ انذار و تحذیر کا تقاضا کرتا ہے۔ جس کی دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا  یہ فرمانِ عالیشان ہے:

لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ (پ ۱۱،  التوبۃ: ۱۲۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: دین کی سمجھ حاصل کریں   اور اپنی قوم کو ڈر سنائیں  ۔

            اس پر رسولِ اَکرم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان بھی دلیل ہے کہ ’’علمِ یقین حاصل کرو،   کیونکہ میں   بھی تمہارے ساتھ مُتَعَلِّم ہوں  ۔ ‘‘   ([1]) اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  مروی یہ قول بھی اس کی دلیل ہے کہ’’ہم نے پہلے ایمان سیکھا پھر قرآنِ کریم،   اس طرح ہمارا ایمان زیادہ ہو گیا۔ ‘‘    ([2])

            پس ہدایت کی یہ زیادتی یقین کے باعث ہوئی اور جو مومنین کے ایمان میں   بھی زیادتی کا سبب ہے۔ جیسا کہ فرامینِ باری تعالیٰ ہیں  :

 (۱) …فَزَادَهُمْ  اِیْمَانًا  ﳓ  (پ ۴،  اٰل عمران: ۱۷۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو ان کا ایمان اور زائد ہوا۔

 (۲) …وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًىؕ-  (پ ۱۶،  مریم: ۷۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: او رجنہوں  نے ہدایت پائی اللہ انہیں   اور ہدایت بڑھائے گا۔

            نیز وہ  (خود ساختہ مفتی)  اتنا بھی شعور نہیں   رکھتا کہ معرفت و یقین کے ساتھ معاملہ میں   ادب و حسن پیدا ہوتا ہے جو اہلِ یقین کی صفت ہے اور یہی وہ حال ہے ٭ جو بندے کو اس مقام پر حاصل ہوتا ہے جو اس کے اور اس کے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہے ٭ یہی اس کے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  اس کا حصہ ہے اور ٭ یہی آخرت میں   اس پر اِنعامات کی زیادتی کا بھی سبب ہو گا۔ 

            اس حال کا حصول توحید کی اُس گواہی سے  بھی ہوتا ہے جس کا تعلق خالص ایمان سے  ہو اور وہ نفاق کے مختلف شعبوں   اور مخفی شرک کی صورتوں   سے  پاک ہو جبکہ یہ حال فرائض کے ساتھ متصل ہو اور ان فرائض میں   بھی امور میں   اخلاص کا ہونا فرض ہے۔ اگر اسنے ان امور کے علاوہ دیگر ایسے  امور کا علم سیکھا جن کی طرف اس کا دل مائل ہو اور انہیں   پسند کرے یعنی فضول علوم اور عجیب و غریب معانی و مفاہیم کا علم حاصل کرے جو انسانی ضروریات سے  متعلق ہوں   تو ان امور کا حاصل کرنا اس کے لئے ایک حجاب بن جائے گا اور اسے   (معرفتِ خداوندی سے )  غافل کر دے گا۔ پس اس طرح اس غافل بندےنے اپنی معرفت کے قلیل ہونے کی بنا پر حقیقی علمِ نافع کے بجائے اُن امور کے علم کو ترجیح دی جن کے حصول میں   اسے  زیب و زینت محسوس ہوئی اور اس کے دل میں   محبت پیدا ہوئی اور اس طرح اسنے اپنی حاجت و حالت پر لوگوں   کی حاجتوں   اور ان کے احوال کو ترجیح دی،   لوگوں   کو دنیا میں   پیش آنے والے مصائب کی اصلاح کی کوشش کی اور ان کی شرعی راہنمائی بھی کی مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   آخرت میں   جو اس کا اپنا حصہ ہے اس کی خاطر کوئی عمل نہ کیا حالانکہ وہی اُخروی حصہ ہی اس کے لئے سب سے  بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اس لئے کہ اسے  اسی کی جانب لوٹنا ہے اور وہی اس کا ابدی ٹھکانا ہے۔ مگر  (افسوس!)  اسنے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی قربت پر بندوں   کے قرب کو ترجیح دی اور ان کے امور میں   مشغول ہو کر پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   پائے جانے والے اجر و ثواب کے اپنے حصے کو چھوڑ دیا اور جب تقویٰ کی بنا پر اپنی آخرت کی خاطر پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اور اس کی رضا جوئی میں   مشغول ہوا تو اپنے دل کو خواہشات سے  خالی کرنے کے بجائے لوگوں   کے دلوں   کو خواہشات سے  خالی کرنے کو مقدم جانا اور اپنے دل کی اصلاح سے  غافل ہو کر دوسروں   کی زبانوں   کی اصلاح کرنے میں   مشغول ہو گیا،   اپنے باطنی حال کو بھول گیا اور لوگوں   کے ظاہری حال کی فکر میں   مبتلا ہو گیا۔

دنیا کو ترجیح دینے والے اسباب: 

            مذکورہ امور میں   مبتلا ہونے کے اسباب یہ ہیں  :

                        ٭…حکومت و ریاست کو محبوب جاننا ۔

                        ٭…لوگوں   کے ہاں   جاہ و مرتبہ کی خواہش رکھنا ۔

                        ٭…سیاسی داؤ پیچ اور حربوں   کے ذریعے مقام و مرتبہ کی خواہش رکھنا ۔

                        ٭…دنیا کو مرغوب جاننا ۔

                        ٭… اخروی اجر میں   ضعف ِ نیت اور ہمت و ارادے کی کمی کی وجہ سے  دنیا کا معزز ہونا۔

            اس  (خود فراموش و خود ساختہ مفتی) نے لوگوں   کے ایام کی بہتری کے لئے اپنے ایام برباد کر دیئے او راپنی عمر کو لوگوں   کی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں   ضائع کر دیا محض اس لئے کہ علم سے  ناواقف لوگ اسے  عالم کہیں   اور باطل پرستوں   کے ہاں   اس کا شمار فضلا میں   ہو۔ پس قیامت کے دن اس کی حالت مفلسوں   جیسی ہو گی اور وہ دیکھے گا کہ مقربین اپنے اجر و ثواب کا لبادہ اوڑھے ہوں   گے کیونکہ عاملین قرب کی وجہ سے  کامیاب و کامران ٹھہریں   گے اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام رضا و خوشنودی کی بہاروں   میں   ہوں   گے،   مگر  (ہائے افسوس!)  اسے  کہاں   سے  یہ مقام حاصل ہو؟ اور کیونکر اسے  دوسروں   کا حصہ عطا ہو؟ جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہر عمل کے لئے ایک عامل اور ہر علم کے لئے ایک عالم مقرر کیا تھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

اُولٰٓىٕكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِؕ- (پ ۸،  الاعراف: ۳۷)

 



[1]    ۔ موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الیقین، الحدیث: ۷، ج۱، ص۲۲

[2]    ۔ سنن ابنِ ماجہ، کتاب السنۃ، باب فی الایمان، الحدیث: ۶۱، ص۲۴۸۰



Total Pages: 332

Go To