Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

عَزَّ وَجَلَّنے زبان پر ظاہر فرمایا وہ مخلوق پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حجت ہے۔ ‘‘   ([1])

سماعت،   حصولِ علم کا ذریعہ ہے: 

            حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ارشاد فرمایا: ’’تم سنتے ہو،   پھر تم سے  سنا جائے گا اور جو تم سے  سنے گا پھر اس سے  سنا جائے گا۔ ‘‘   ([2])

            پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس علم کی خبر دی جو کتابوں   میں   مرقوم ہے اور جسے  دین کا ظاہر ہونے کی حیثیت حاصل ہے،   اس سے  آگاہ نہ ہونا اور جاہل رہنا شرک کے پیدا ہونے کا باعث بن سکتا ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مشرکین کے نہ چاہنے کے باوجود اسلام کی بقا کی ضمانت دی ہے۔

سامع کا متکلم سے  افضل ہونا: 

            رسولِ بے مثال،   محبوبِ ربِّ ذو الجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جو ہم سے  کوئی حدیث سنے اور پھر اسے  اسی طرح آگے دوسروں   تک پہنچائے جیسا کہ اسنے سنی تھی،   کیونکہ بعض اوقات بات بتانے والا اسے  سمجھنے والا نہیں   ہوتا اور  (اس طرح)  بعض اوقات بات بتانے والا اس شخص تک وہ بات پہنچا دیتا ہے جو اس سے  زیادہ سمجھنے والا ہوتا ہے۔ ‘‘   ([3])

            اس حدیث ِ پاک میں   بھی سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ خبر دی ہے کہ جب مسئلہ جاننے والا اس پر عمل نہیں   کرتا تو گویا وہ دل سے  اسے  سمجھتا نہیں   اور بعض اوقات وہ ایسے  شخص کو وہ مسئلہ بتا دیتا ہے جو اس سے  زیادہ سمجھنے والا ہوتا ہے کیونکہ وہ اسے  یاد کر کے اس پر عمل کرتا ہے۔ چنانچہ،   

            ایک روایت میں   مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بہت سے  لوگ ایسے  ہیں   جن تک کوئی بات پہنچائی جائے تو وہ سننے والوں   سے  زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں  ۔ ‘‘   ([4])

            پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کی تعریف فرمائی جو مسئلہ یاد کر کے اس پر عمل کرے۔ لہٰذا چاہئے کہ اس بات کو یاد کر لیں   اور اس میں   تفکر کریں   اگرچہ آپ نے یہ بات محبوب ربِّ داور،   شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  نہیں   سنی۔

حصولِ علم کے ذرائع کا قرآنِ کریم میں   تذکرہ: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ (۱۲)  (پ ۲٭،  الحآقۃ: ۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اسے  محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو۔

            مراد یہ ہے کہ دل کے کان ایسے  ہیں   جو سن کر یاد کر لیتے ہیں  ۔ چنانچہ ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ (۳۷)  (پ ۲۶،  ق: ۳۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک اس میں   نصیحت ہے اس کے لئے جو دل رکھتا ہو یا کان لگائے اور مُتوجِّہ ہو ۔

            مراد یہ ہے کہ جس نے سامع کو بڑی توجہ سے  سنا اور سنتے ہوئے اپنے دل سے  حاضر رہا۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان:  (وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ (پ ۲٭،  الحآ قۃ: ۱۲) )  کی تفسیر میں   مروی ہے کہ یہاں   ایسے  کان مراد ہیں   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے امرو نہی کو سمجھنے کی صلاحیت رکھیں   اور پھر انہیں   یاد کر کے ان پر عمل بھی کریں  ۔  ([5])

            یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مومنین کے اوصافِ حمیدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِؕ- (پ ۱۱،   التوبۃ: ۱۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ کی حدیں   نگاہ رکھنے والے۔

معرفت کا بنیادی ذریعہ: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ ’’علم حاصل کرو،   اس کے ذریعے تمہیں   معرفت حاصل ہو گی اور اس پر عمل کرو گے تو تمہارا شمار اہلِ علم میں   ہو گا۔ ‘‘   ([6]) اور ایک مرتبہ ارشادفرمایا:  ’’جب تم کوئی علمی بات سنو تو اس پر منہ بند کر لو اور اسے  بیہودہ بات سے  نہ ملاؤ کیونکہ دل اسے  قبول نہیں   کرتے۔ ‘‘   ([7])

 



[1]    ۔ المصنف لابنِ ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب ما ذکر عن نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی الزھد، الحدیث: ۶۰، ج۸، ص۱۳۳ مفھوماً

[2]    ۔ سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فضل نشر العلم، الحدیث: ۳۶۵۹، ص۱۴۹۴

[3]    ۔ المعجم الاوسط، الحدیث: ۱۶۰۹، ج۱، ص۴۳۸

                                                سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فضل نشر العلم، الحدیث: ۳۶۶۰، ص۱۴۹۴ بتقدم و تاخر

[4]    ۔ صحیح البخاری، کتاب الحج،

Total Pages: 332

Go To