Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں   کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے۔ اور بولے وہ جنہیں   علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں   کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں  ۔

            مراد یہ ہے کہ یہ حکمت صرف انہی لوگوں   کو دی جاتی ہے جو اس دنیاوی زیب و زینت پر صبر کرتے ہیں   جس کے زعمِ باطل میں   قارون باہر نکلا تھا۔

قرآن کریم اور ایمان کا آپس میں   تعلق: 

            حضرت سیِّدُنا جندب بن عبد اللہ بجلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ جب ہم توانا و طاقتور نوعمر تھے تو دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں  حاضر رہتے،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   قرآنِ کریم سے  پہلے ایمان سکھایا کرتے،   اس کے بعد ہم نے قرآنِ کریم سیکھا اور اس طرح ہمارے ایمان میں   زیادتی ہو گئی۔  ([1])

            حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ کریم اس لئے نازل کیا گیا تھا تا کہ اس پر عمل کیا جائے مگر تمنے اس کے پڑھنے ہی کو عمل بنا لیا ہے،   عنقریب تمہارے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو بطورِ غنا اسے  تعلیم دیں   گے اور وہ تم سے  بہتر نہ ہوں   گے۔ ([2]) اور ایک روایت میں   یہ الفاظ ہیں   کہ’’وہ قرآنِ کریم کے پڑھنے کو نیزے کی طرح سیدھا پڑھیں   گے،   اسے  پڑھنے میں   جلدی کریں   گے اور ذرہ بھر نہ ٹھہریں   گے۔ ‘‘  ([3])

            حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور دوسرے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  مروی ہے کہ ہم نے ایک زمانے تک اس حالت میں   زندگی بسر کی کہ ہم میں   سے  ہر ایک کو قرآنِ کریم سے  پہلے ایمان دیا جاتا،   پھر کوئی سورت نازل ہوتی تو وہ اس کے حلال و حرام اور امر و نہی سیکھتا اور جہاں   توقف کرنا مناسب ہوتا وہ سب مقامات سیکھتا جیسا کہ آج تم قرآنِ کریم سیکھتے ہو۔ پھر میں  نے لوگوں   کو دیکھا کہ ان میں   سے  ایک کو قرآنِ کریم ایمان سے  پہلے دیا جاتا ہے،   وہ سورۂ فاتحہ سے  لے کر آخر قرآن تک پڑھ لیتا ہے مگر اس کے اوامر و نواہی جانتا ہے نہ ان مقامات سے  آگاہ ہوتا ہے جہاں   توقف کرنا چاہئے،   وہ ایسا شخص ہے جو ردّی کھجوروں   کی طرح اسے  بکھیرتا ہی چلا جاتا ہے۔ ([4])

٭… ایک روایت میں   یہ الفاظ ہیں   کہ’’ ہم مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ ہیں  ،   ہمیں   قرآن سے  پہلے ایمان دیا گیا۔ ‘‘   ([5])   (اور ایک روایت میں   ہے )  اور عنقریب تمہارے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جنہیں   قرآن ایمان سے  پہلے دیا جائے گا،   وہ اس کے حروف کو تو قائم رکھیں   گے لیکن اس کی حدود ضائع کر دیں   گے۔ ([6])    ٭…  (ایک روایت میں   ہے)   کہا کریں   گے کہ ہم نے پڑھ لیا،   کون ہے جو ہم سے  زیادہ پڑھنے والا ہے؟ ہم نے سیکھ لیا ہے،   کون ہے جو ہم سے  بڑا عالم ہے؟ پس ان کا قرآنِ کریم میں   سے  یہی حصہ ہے۔  ([7]) ٭…   اور ایک روایت میں   ہے کہ یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں  ۔  ([8])

منقول علم سے  مراد : 

            جس علم کو بعد والوں  نے پہلو ں   سے  نقل کیا اور جو کتابوں   میں   لکھا ہوا ہے اور جسے  بعد والوں  نے پہلوں   سے  سن کر صحیفوں   میں   محفوظ کر لیا ہے،   اس سے  مراد احکام و فتاویٰ اور اسلام و قضایا کا علم ہے،   اس کے حصول کا راستہ سماعت ،   اس کا واسطہ و ذریعہ استدلال اور اس کا خزانہ عقل ہے۔ یہ علم کتابوں   میں   مدوّن ہے اور اوراق و صفحات میں   تحریر ہے،   اسے  ہر چھوٹا اپنے بڑے سے  زبانوں   کے واسطہ سے  حاصل کرتا ہے۔ یہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ اسلام باقی ہے اور اس کا وجود مسلمانوں   کے وجود کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ کیونکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندوں   پر حجت اور اس کی مخلوق کا عام راستہ ہے،   پس جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس علم کو دینے کا ارادہ فرمایا تو اسے  اس کے اہل افراد کے ذریعے غالب فرما دیا۔ چنانچہ ارشادفرمایا:

لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اسے  سب دینوں   پر غالب کرے

الْمُشْرِكُوْنَ۠ (۹)  (پ ۲۸،  الصف: ٭)

پڑے بُرا مانیں   مشرک۔

علم حجت ہے: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’وہ علم جسے  اللہ

 



[1]    ۔ التاریخ الکبیر للبخاری، باب الجیم، الرقم۲۲۶۶جندب بن عبداللہ، ج۲، ص۲۰۴ السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب البیان انہ انما قبل یؤمھم اقرؤھم، الحدیث: ۵۲۹۲، ج۳، ص۱۷۱

[2]    ۔ سنن سعید بن منصور، فضائل القرآن، الحدیث: ۲۹، ج۱، ص۱۴۶ بالاختصار

[3]    ۔ المسند للامام احمد بن حنبل، مسند جابر بن عبداللہ، الحدیث: ۱۴۸۶۱، ج۵، ص۱۳۷

[4]    ۔ السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب البیان انہ انما قیل یؤمھم اقرؤھم، الحدیث: ۵۲۹۰، ج۳، ص۱۷۱

                                                المستدرک، کتاب الایمان، باب کیف یتعلم القرآن، الحدیث: ۱۰۸، ج۱،

Total Pages: 332

Go To