Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

رکھتی ہے کہ وہ سننے کی نسبت کلام کرنا زیادہ پسند کرے،   حالانکہ کلام و بیان میں   بناوٹ و چاپلوسی اور مبالغہ و زیادتی ہوتی ہے اور ایسا کلام کرنے والا بندہ غلطی سے  محفوظ نہیں   رہ سکتا،   جبکہ خاموشی میں   سلامتی اور علم ہے۔

٭… بعض علما ایسے  ہیں   جو اپنے علم کو اپنے پاس جمع رکھتے ہیں   اور نہیں   چاہتے کہ کسی دوسرے کے پاس بھی یہ علم پایا جائے،   پس ایسا عالم جہنم کے سب سے  نچلے طبقے میں   ہو گا۔

٭… بعض علما ایسے  ہیں   جو اپنے علم میں   شاہانہ مقام و مرتبہ کے حامل ہوتے ہیں  ،   اگر ان کی کسی علمی بات کی تردید کر دی جائے یا ان کے حق میں   کوئی کمی یا کوتاہی ہو جائے تو غضب ناک ہو جاتے ہیں  ۔ ایسے  علما جہنم کے دوسرے طبقہ میں   ہوں   گے۔

٭… بعض علما ایسے  ہیں   جو اپنے علم اور عمدہ باتوں   کو معزز اور مال دار لوگوں   تک ہی محدود رکھتے ہیں   اور اس علم کے ضرورت مندوں   کو اس کا اہل نہیں   سمجھتے،   ایسے  علما جہنم کے تیسرے طبقہ میں   ہوں   گے۔

٭… بعض علما ایسے  ہیں   جو اپنے آپ کو فتویٰ دینے کے لئے مختص کر دیتے ہیں   اور پھر غلط فتوے دینے لگتے ہیں   حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تکلف کرنے والوں   کو پسند نہیں   فرماتا،   ایسے  علما جہنم کے چوتھے طبقہ میں   ہوں   گے۔

 ٭… بعض علما ایسے  ہیں   جو یہودو نصاریٰ سے  مروی کلام پیش کرتے ہیں   تا کہ اس کے سبب ان کے علم کی عزت کی جائے،   ایسے  علما جہنم کے پانچویں   طبقہ میں   ہوں   گے۔

 ٭… بعض علما اپنے علم کو مروّت،   فضیلت اور شہرت کا ذریعہ بناتے ہیں  ،   ایسے  علما جہنم کے چھٹے طبقہ میں   ہوں   گے۔

٭… بعض علما ایسے  ہیں   جو تکبر اور خود پسندی کے دھوکے میں   مبتلا ہوتے ہیں  ،   اگر خود کسی کو نصیحت کریں   تو سخت لہجہ اپناتے ہیں   لیکن اگر کوئی انہیں   نصیحت کرے تو ناک بھوں   چڑھاتے ہیں  ۔ ایسے  علما جہنم کے ساتویں   طبقہ میں   ہوں   گے۔

             (اور پھر مزید ارشاد فرمایا)  تم پر خاموشی لازم ہے کہ اس کے سبب تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے اور عجیب بات کے علاوہ ہنسنے اور بغیر مقصد کہیں   باہر جانے سے  بچو۔ ‘‘ 

کیسے  عالم کے پاس بیٹھا جائے؟

            ایک حدیث ِ پاک میں   علمائے آخرت کے نہ صرف اوصاف مروی ہیں   بلکہ اس میں   مخلوق کو مقاماتِ یقین اور دین و ایقان کے اسباب کی دعوت کے اصول بھی مذکور ہیں  ۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا شقیق بن ابراہیم بلخی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ،   سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ہر عالم کے پاس نہ بیٹھا کرو،   بلکہ صرف اسی عالم کے پاس بیٹھا کرو جو تمہیں   پانچ چیزیں   چھوڑ کر پانچ چیزوں   کی طرف بلائے:

 (۱) … شک سے  یقین کی طرف                        (۲) … ریا سے  اخلاص کی طرف

 (۳) … دنیاوی رغبت سے  زہد کی طرف              (۴) … تکبر سے  عاجزی کی طرف

 (۵) … اور عداوت و دشمنی سے  خیر خواہی کی طرف۔ ‘‘   ([1])

صحابۂ کرام اور تابعین عظام کا خدشہ: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے مذکورہ علم سے  علمِ یقین وتقویٰ اور علمِ معرفت و ہدایت مراد لیا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو ہر لمحہ اس کے فقدان کا خدشہ لاحق رہتا تھا،   نیز انہیں   اس علم کے معدوم ہو جانے کا خوف بھی دامن گیر تھا،   یہی وجہ ہے کہ وہ اس علم کے اٹھا لئے جانے اور آخر زمانے میں   اس کے کم ہو جانے کی خبریں   دیا کرتے کیونکہ وہ اس علم سے  مراد علمِ قلوب اور علمِ مشاہدہ لیا کرتے تھے جو کہ تقویٰ کا نتیجہ ہے،   نیز علمِ معرفت و یقین بھی مراد لیا کرتے تھے جو ایمان کی زیادتی اور ہدایت کا ثمرہ ہے۔ پس جب متقین نہ رہیں   گے،   خائفین کم ہو جائیں   گے اور زاہدین معدوم ہو جائیں   گے تو یہ علوم بھی ختم ہو جائیں   گے کیونکہ ان علوم کا وجود انہی کے ساتھ قائم ہے اور یہ صرف انہی کے ہاں   پائے جاتے ہیں  ۔ وہی ان علوم کے جاننے والے اور ان کے ذریعے کلام کرنے والے ہیں  ،   یہ علوم ہی ان کے احوال اور طریق ہیں  ۔ وہ ان راستوں   پر چلنے والے ہیں   اور انہیں   قائم رکھنے والے ہیں  ۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام چونکہ اس حقیقت سے  خوب آگاہ تھے ،   لہٰذا وہ اس علم کے ختم ہو جانے کی وجہ سے  رویا کرتے تھے۔

قرآنِ کریم میں   علمائے کرام کے اوصاف: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں   علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اوصاف بیان کئے ہیں   کہ وہ دنیا میں   زہد کے پیکر،   دنیا کو حقیر جاننے والے،   نیک اعمال کرنے والے اور پختہ ایمان رکھنے والے ہیں   اور دنیا دار علما کے اوصاف اس طرح بیان فرمائے کہ وہ دنیا میں   رغبت رکھنے والے اور اسے  عظیم جاننے والے ہیں  ۔ چنانچہ ارشادفرمایا:

فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖؕ-قَالَ الَّذِیْنَ

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں   بولے

فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖؕ-قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُۙ-اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (۷۹) وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًاۚ-وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ (۸۰)  (پ ۲۰،   القصص:  ۷۹،  ۸۰)

 



[1]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۳۹۵شقیق البلخی، الحدیث: ۴۴۱۷، ج۸، ص۷۵، بتقدم و تاخر



Total Pages: 332

Go To