Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی۔ البتہ! ان کے دلوں   کے کھرے یا کھوٹے ہونے اور افعال میں   مشابہت پائی جاتی ہے،   پس اس مشابہت کی وجہ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان دونوں   کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا۔

غربا اور علمائے آخرت : 

            علمائے آخرت کی عقل ان کے دل کے انوار سے  روشن ہوتی ہے اور ان کا فہم ان کے علم اور مشاہدے کے استنباط سے  پیدا ہوتا ہے،   ان کے اخلاق ان کے یقین کے معانی او راس کی قوت پر مبنی ہوتے ہیں   اور ان کے طریقت اور سلوک کے راستے سنت ِ نبوی کے مطابق ہوتے ہیں  ۔ چنانچہ ایسے  بندے حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور دوسرے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے بھائی ہیں   جن سے  ملنے کا اشتیاق سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ظاہر فرمایا۔ یہی غربا ہیں   جن کے متعلق آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’اسلام کی ابتدا غریبوں   سے  ہوئی اور عنقریب یہ غریبوں   ہی میں   لوٹ جائے گا،   پس غریبوں   کو مبارک ہو۔ ‘‘  عرض کی گئی کہ غربا سے  کون لوگ مراد ہیں  ؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’جب لوگ فساد میں   مشغول ہوں   گے تو وہ ان کی اصلاح کریں   گے۔ ‘‘   ([1]) اور ایک روایت میں   ہے کہ میٹھے میٹھے آقا،   مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’یہ وہ لوگ ہیں   جو میری سنت کی اصلاح کریں   گے جب لوگ اسے  خراب کر دیں   گے۔ ‘‘   ([2]) اور ایک  روایت میں   یہ الفاظ ہیں  :  ’’اور یہ لوگ میری فوت شدہ سنت کو زندہ کریں   گے۔ ‘‘   ([3]) مراد یہ ہے کہ وہ شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طریقے پر عمل کریں   گے جسے  لوگوں  نے چھوڑ دیا ہو گا اور اس سے  غافل ہو چکے ہوں   گے۔

            ایک روایت میں   تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’وہ میری سنت کو اس قدر مضبوطی سے  تھامے ہوں   گے کہ جس قدر تم آج اسے  مضبوطی سے  تھامے ہوئے ہو۔ ‘‘  اور ایک روایت میں   ہے کہ ’’غربا بہت کم لوگ ہیں   جو سب صالح ہیں   اور ان سے  بغض رکھنے والوں   کی تعدا د ان سے  محبت کرنے والوں   کی تعداد سے  زیادہ ہو گی۔ ‘‘  ([4])

        پس یہی وہ غربا ہیں   جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انعام فرمایا اور انہیں   اعلیٰ علیین میں   اپنے نبیوں   کی صحبت کا شرف عطا فرمایا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں   ارشاد فرمایا:

فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ (۶۹)  (پ۵،  النسآء: ۶٭)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اُسے  ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیا اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں  ۔

بہت زیادہ دوستوں   والا عالم: 

        حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ جب تم دیکھو کسی عالم کے دوست بہت زیادہ ہیں   تو جان لو کہ وہ  (حق کو باطل کے ساتھ)  ملانے والا ہے۔ ([5]) اور ایک بار آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ اپنے بھائیوں   کے نزدیک محبوب اور اپنے پڑوسیوں   کے ہاں   قابلِ تعریف سمجھا جاتا ہے تو جان لو کہ وہ ریاکار ہے۔  ([6])

قرآنِ کریم میں   علمائے سوء او رعلمائے آخرت کا بیان: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے علمائے سوء کے اوصاف ذکر فرماتے ہوئے انہیں   علم کے ذریعے دنیا کمانے والا قرار دیا اور علمائے آخرت کو خشوع و زہد کے اوصافِ حمیدہ سے  متصف ذکر فرمایا۔ چنانچہ علمائے سوء کے بارے میں   ارشاد فرمایا:

وَ  اِذْ  اَخَذَ  اللّٰهُ  مِیْثَاقَ  الَّذِیْنَ  اُوْتُوا  الْكِتٰبَ  لَتُبَیِّنُنَّهٗ  لِلنَّاسِ   وَ  لَا  تَكْتُمُوْنَهٗ٘-فَنَبَذُوْهُ  وَرَآءَ  ظُهُوْرِ

هِمْ وَ  اشْتَرَوْا  بِهٖ  ثَمَنًا  قَلِیْلًاؕ-  (پ ۴،   اٰل عمران: ۱۸۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور یاد کرو جب اللہنے عہد لیا ان سے  جنہیں   کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے  لوگوں   سے  بیان کردینا اور نہ چھپانا تو انہوں  نے اسے  اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کئے۔

        اور علمائے آخرت کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَ  اِنَّ  مِنْ  اَهْلِ  الْكِتٰبِ  لَمَنْ  یُّؤْمِنُ  بِاللّٰهِ  وَ  مَاۤ  اُنْزِلَ  اِلَیْكُمْ  وَ  مَاۤ  اُنْزِلَ  اِلَیْهِمْ  خٰشِعِیْنَ  لِلّٰهِۙ-لَا  یَشْتَرُوْنَ  بِاٰیٰتِ  اللّٰهِ  ثَمَنًا  قَلِیْلًاؕ-اُولٰٓىٕكَ  لَهُمْ  اَجْرُهُمْ  عِنْدَ  رَبِّهِمْؕ-ؕ  (پ ۴،   اٰل عمران: ۱۹۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بے شک  کچھ کتابی ایسے  ہیں   کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں   اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا اُن کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے اللہ کی آیتوں   کے بدلے ذلیل دام نہیں   لیتے یہ وہ ہیں   جن کا ثواب ان کے ربّ کے پاس ہے۔

 



[1]    ۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان ان الاسلام بدا غریبا    الخ، الحدیث: ۳۷۲، ص۷۰۲ المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عبدالرحمن بن مسنۃ، الحدیث: ۱۶۶۹۰، ج۵، ص۶۰۰

[2]    ۔ جامع الترمذی، ابواب الایمان، باب ما جاء ان الاسلام بدا غریبا و سیعود غریبا، الحدیث:۲۶۳۰، ص۱۹۱۷

[3]    ۔ تاویل مختلف الحدیث لابن قتیبۃ، قالوا حدیثان متناقضان، ص۱۱۵

[4]    ۔ تاریخ دمشق لابن عساکر، الرقم۴۸۴۲علی بن الحسن، الحدیث: ۸۲۸۶، ج۴۱، ص۳۲۶