Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

قلوب وعمل کا آپس میں   تعلق،   اسلام اور ایمان میں   فرق،   ایمان میں   استثنا اور نفاق سے  بچاؤ اور اس میں   سلف صالحین کا طریقہ کار۔

فصل  (35) : سنت،   اس کے فضائل کی تشریح اور آدابِ شریعت کابیان،   ظاہری علم میں   دلوں   کے عقائد کا تذکرہ جو کہ 16 ہیں  : یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ  (۱)  ایمان قول و عمل کا نام ہے ([1])   (۲)  قرآنِ کریم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کلام ہے اور غیرِ مخلوق ہے  (۳)  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات کے متعلق مروی احادیث ِ مبارکہ کو تسلیم کرنا  (۴)  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو نہ صرف افضل جاننا بلکہ عقیدہ بھی رکھنا  (۵)  جس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مقدم ٹھہرایا ہو اسے  ہی مقدم سمجھنا  (۶)  یہ عقیدہ رکھنا کہ امامت قیامت تک قریش ہی میں   رہے گی  (۷)   (ارتکابِ معاصی کی وجہ سے )  کسی مسلمان کو کافر قرار نہ دینا  (۸)  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تمام تقدیروں  ،   یعنی خیر و شر کی تصدیق کرنا  (۹)  منکر نکیر کے سوال جواب کو حق جاننا  (۱۰)  عذابِ قبر کو حق ماننا  (۱۱)  میزان پر ایمان لانا  (۱۲)  پل صراط کے حق ہونے کا اعتقاد رکھنا  (۱۳)  تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حوضِ کوثر پر ایمان رکھنا   (۱۴)  رؤیتِ باری تعالیٰ پر ایمان لانا  (۱۵)  اہلِ توحید کے جہنم سے  نکالے جانے پر ایمان لانا اور  (۱۶)  حساب و کتاب پر ایمان رکھنا۔اس میں   ایک ضمنی فصل ہے جس میں   مفہومِ اجماع سے  یہ ثابت کیا گیا ہے کہ بدعتی لوگ اہلِ سنّت سے  خارج ہیں   اور پھر فضائلِ سنت اور احسان کی اتباع کرنے والے سلف صالحین کے طریقوں   کا تذکرہ ہے۔

فصل  (36) : ایمان و شریعت کا تذکرہ،   مسلمان ہونے کی شرط کا بیان،   بہترین اسلام اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندے سے  محبت کی علامت،   ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حق کا تذکرہ یعنی مسلمانوں   پر حرمتِ اسلام کا واجب ہونا،   بدن کی سنتوں   کا بیان،    (حد شرعی سے  کم)  داڑھی رکھنے کے معاملہ میں   گناہ اور بدعت کا بیان،   مذکورہ اشیاء میں   بعض کی فضیلت اور ان کے مستحسن ہونے کا تذکرہ،   رکوع کی زیادتی اور اس میں   کمی سے  کراہت کا تذکرہ۔

فصل  (37) : کبیرہ گناہوں   کی تشریح و تفصیل اور محاسبۂ کفار کا بیان۔

فصل  (38) : اخلاص کا بیان اور احوال کے تصرف میں   اس کو مستحسن قرار دیئے جانے کی تشریح اور پھر افعال میں  ان احوال پر آفات کے داخل ہونے سے  بچنے کا بیان۔

فصل  (39) : کمی بیشی کے ساتھ غذا کی ترتیب کا بیان۔ فصل  (40) : کھانوں   اور کھانے کی سنتوں   اور آداب کا تذکرہ،   نیز پسندیدہ و ناپسندیدہ کھانوں   کا بیان۔ فصل  (41) : فقر کے لوازمات وفضائل،   عام اور خاص فقرا کے اوصاف،   عطا و بخشش کے قبول کرنے اور لوٹانے کی تفصیل اور اس میں   سلف صالحین کا طریقہ کار۔ فصل  (42) : مسافر کے احکام اور سفر کے مقاصد کا بیان۔ فصل  (43) : امام کاحکم،   امامت اور مقتدی کے اوصاف کا بیان۔ فصل  (44) : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر اخوت،   دوستی اور بھائی چارے کا بیان،   مؤاخات کے احکام اور محبت کرنے والوں   کے اوصاف۔ فصل  (45) : شادی کرنے اور نہ کرنے کا بیان کہ ان دونوں   میں   سے  افضل کیا ہے؟ اور عورتوں   کے مختصر احکام کا بیان۔ فصل  (46) : حمام میں   داخل ہونے کا بیان۔ فصل  (47) : صنعت،   معیشت اور خرید و فروخت اور ان شرائطِ علم کا بیان جو ایک تاجر اور کاریگر پر احکام تصرف میں   واجب ہیں  ۔ فصل (48) : حلال و حرام اور ان کے مابین مشتبہات کی تفصیل،   حلال کی فضیلت،   مشتبہ کی مذمت اور مختلف رنگوں   کی صورتوں   کے ساتھ اس کی مثال دینے کا بیان۔

٭٭٭

فصل: 1

                                                قرآنِ کریم میں   خالق و مخلوق کا معاملہ

            درج ذیل آیاتِ مبارکہ میں   بندے کا اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ سے  جو تعلق ہے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے:

(1)  وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا (۱۹)

   (پ۱۵،   بنی اسرآئيل:  ۱۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں   کی کوشش ٹھکانے لگی۔

 (2)  مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ (۲۰)   (پ ۲۵،   الشوریٰ:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں   اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے  اس میں   سے  کچھ دیں   گے اور آخرت میں   اس کا کچھ حصّہ نہیں  ۔

 (3)  وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ (۳۹)  وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ (۴۰)  ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ (۴۱)   (پ ۲۷،   النجم:  ۳۹تا۴۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش  اوریہ کہ اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی پھر اس کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا۔

 (4)  كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ (۲۴)  (پ۲۹،   الحآقة:  ۲۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تمنے گزرے دنوں   میں   آگے بھیجا۔

 (5)  وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْاؕ- (پ۸،   الانعام:  ۱۳۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہر ایک کے لئے ان کے کاموں   سے  درجے ہیں  ۔

 (6)  وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا٘-فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا (پ ۲۲،   سبا:  ۳۷)  

 



[1]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 173 پر صدرُ الشَّریعہ، بدر الطریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں : اصلِ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے، اعمالِ بدن اصلاً جزو ایمان نہیں ۔



Total Pages: 332

Go To