Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کرتا جن کا اسے  علم نہیں   ہوتا تا کہ محفوظ رہے اور نہ ہی علم کو مضبوطی سے  تھامتا ہے تا کہ نفع اٹھائے،   اس  (کے غلط فیصلوں  )  سے  انسانی خون بھی سر زد ہوتے ہیں  ،   وارثین  (حق سے  محروم ہونے پر)  اس کے خلاف واویلا کرتے ہیں  ،   اس کے فیصلوں   سے  زنا حلال ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! جو معاملہ بھی اس کے سامنے پیش ہوتا ہے وہ نہ تو اسے  نافذ کرنے کے قابل ہے اور نہ ہی اُس بلند شان کا اہل ہے جو اسے  معمولی حیثیت کے بعد ملی۔ یہی وہ لوگ ہیں   جن کی زندگی میں   ہی ان پر نوحہ اور آہ و بکا کرنا جائز ہے۔ ‘‘   ([1])

شیرِ خداکے ایک قول کی وضاحت: 

            حضرت سیِّدُنا کُھَیل  (یا کُمَیل)  بن زیاد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  مروی ہے کہ ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے علمائے آخرت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں  :  (۱) … عالم ربانی  (۲) … راہِ نجات پر چلنے والا طالب علم اور  (۳) … بے ڈھنگے و بے عقل لوگ جو ہر آواز کی پیروی کرتے ہیں  ۔  ‘‘  ([2])

 (۱) … عالم ربانی سے  مراد:

            عالم ربانی سے  مراد ایسا عالم ہے جس کا تعلق پروردگار عَزَّ وَجَلَّ سے  قائم ہوتا ہے اور ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف اس کی

 

 نسبت کرتے ہوئے اسے  کہتے ہیں  : وہ عالم ربانی ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

ُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ (۷۹)  (پ۳،   اٰل عمران: ۷۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہاں   یہ کہے گا کہ اللہ والے ہوجاؤ اس سبب سے  کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے  کہ تم درس کرتے ہو۔

            اس آیتِ مبارکہ میں   کتاب اللہ کے عالم اور درس دینے والے بندے کو عالم ربانی کہا گیا ہے۔ پس یہ ایسا بندہ ہے جس کی ذات میں   علم اور عمل دونوں   جمع ہیں  ۔ منقول ہے کہ عالم ربانی وہ ہوتا ہے جو علم سیکھ کر عمل کرے اور لوگوں   کو خیر و بھلائی کی باتیں   سکھائے اور ایک قول ہے کہ یہی وہ بندہ ہے جسے  ملکوت میں   ’’عَظِیْم   ‘‘  کے لقب سے  پکارا جاتا ہے۔

عالم ربانی کی فضیلت و فوقیت: 

            اللہ عَزَّوَجَلَّکےفرمانِ عالیشان (لَوْلَایَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ (پ۶،  المآئدۃ:  ۶۳) )   ([3]) میںرَبَّانِیِّیْن کو اَحْبَار سے  پہلے ذکر کیا حالانکہ وہ علمائے کتاب ہیں  ۔ حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَاحِد سے  مروی ہے کہ علمائے ربانیین،   احبار سے  ایک درجہ بلند ہوتے ہیں  ۔ ([4]) اور یہ بھی منقول ہے کہ اَحبار،   رُہبان سے  افضل ہیں ،   یعنی علمائے باطن،   علمائے ظاہر سے  بلند ہیں   اور علمائے کتاب،   عام بندوں   سے  ایک درجہ افضل ہیں  ۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان  (وَ  كَاَیِّنْ  مِّنْ  نَّبِیٍّ  قٰتَلَۙ-مَعَهٗ  رِبِّیُّوْنَ  كَثِیْرٌۚ- (پ۴،   اٰل عمران: ۱۴۶) )   ([5]) میں   علمائے ربانیین کو نصرت و مدد اور صبر میں   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے اور آیتِ مبارکہ کے ما بعد حصے میں   ان علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں   کہ وہ اس کے امر پر ثابت قدم رہتے ہیں  ،   اس کے دین میں   قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں   اور اس کے حکم پر صبر کرتے ہیں  ۔ یاد رکھیں   کہ رِبِّیُّوْن،   ربی کی جمع ہے اور رَبَّانِیُّوْن         ،   ربانی کی۔

علما کی شہدا پر فضیلت: 

            سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’قیامت کے دن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سب سے  پہلے شفاعت کریں   گے،   پھر علما اور اس کے بعد شہدا۔ ‘‘   ([6])

            آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   علما کا تذکرہ شہدا سے  پہلے کیا،   اس لئے کہ عالم امت کا امام ہوتا ہے اور اس کے لئے اس قدر اجر ہوتا ہے جو پوری امت کو دیا جاتا ہے جبکہ شہید کا عمل صرف اس کی اپنی ذات کے لئے ہوتا ہے۔ چنانچہ،   

            ایک روایت میں   ہے کہ حضورنبی ٔرحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’علما  (کی تحریر)  کی سیاہی کا موازنہ شہدا کے خون سے  کیا جائے گا۔ ‘‘  ([7])

            شہید کی سب سے  اعلیٰ حالت اس کا خون ہے اور ایک عالم کا سب سے  ادنیٰ وصف اس کی تحریر کی سیاہی ہے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   شہید کے خون اور عالم کی تحریر کی سیاہی کو مساوی قرار دیا اور اس طرح عالم کے شہید پر بلند مرتبہ ہونے کا تذکرہ فرمایا ۔

عالم کی موت کا نقصان: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرمایا کرتے تھے کہ عالم،  اس بندے سے  افضل ہے جو دن بھر روزے سے  ہو اور پوری رات قیام کی حالت میں   



[1]    ۔ عیون الاخبار للدینوری، کتاب السلطان، القضاء، الجزء الاول، ج۱، ص۱۲۶ بتغیر تاریخ دمشق لابن عساکر، الرقم۴۹۳۳علی بن ابی طالب، ج۴۲، ص۵۰۵ بتغیر

[2]    ۔ العقد الفرید، کتاب الیاقوتٰ فی العلم والادب، فضیلۃ العلم، ج۲، ص۸۱ کھیل بدلہ کمیل

[3]    ۔ ترجمۂ کنز الایمان: انہیں کیوں نہیں منع کرتے اُن کے پادری اور درویش ۔

[4]    ۔ تفسیر الطبری، اٰل عمران، تحت الایۃ ۷۹، ج۳، ص۳۲۴



Total Pages: 332

Go To