Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہے۔ چنانچہ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کہا کرتے تھے کہ فلاں   عالم ہے اور فلاں   متکلم،   یعنی فلاں   باتیں   بہت زیادہ کرتا ہے جبکہ فلاں   کے پاس کثیر علم ہے۔

علم معرفت اور خاموشی : 

            حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرمایا کرتے تھے کہ معرفت کلام کی نسبت،   خاموشی کے زیادہ قریب ہے۔ ([1]) اور عارفین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ علم کے دو حصے ہیں:  (۱) … نصف علم خاموشی ہے اور  (۲) … نصف علم اس بات کا جاننا ہے کہ اسے  کہاں   رکھا جائے۔ جبکہ بعضنے اس میں   اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ نصف علم وجدان اور نصف علم نظر یعنی غور و فکر کرنا ہے۔ حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان سے  پوچھا گیا کہ عالم کون ہوتا ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’جو علم کو اس کے محل میں   رکھے اور ہر شے کو اس کا حق دے۔ ‘‘  اور کسی حکیم سے  منقول ہے کہ جب علم کثیر ہوتا ہے تو باتیں   کم ہو جاتی ہیں  ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ صوفی کا  علم جب بھی بڑھتا ہے تو اس کی نفسانی فطرت و طبیعت میں   کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ ([2])

دل و زبان کی ہم نشینی: 

            کسی شیخ سے  مروی ہے کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی سے  عرض کی: ’’اے ابو القاسم! کیا زبان،   دل کے بغیر ہو سکتی ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’ ہاں  ! ہو سکتی ہے اور وہ بھی بہت زیادہ۔ ‘‘  میں  نے عرض کی: ’’اور کیا دل بھی بغیر زبان کے ہوتا ہے؟ ‘‘  تو فرمایا: ’’ہاں  ! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ البتہ! زبان جب دل کے بغیر ہو تو یہ ایک مصیبت ہے اور اگر دل زبان کے بغیر ہو تو یہ نعمت ہے۔ ‘‘  میں  نے عرض کی:  ’’اور اگر دل اور زبان دونوں   ہوں   تو؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’یہ تو انتہائی عمدہ بات ہے۔ ‘‘ 

کیا بہتر ہے؟

            حضرت سیِّدُنا مالک بن مِغْوَل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی: 

٭… ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کون سا عمل سب سے  افضل ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’محارم سے  اجتناب کرنا اور چاہئے کہ تیرا منہ ہر لمحہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے  تر رہے۔‘‘ 

٭…پھر عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کونسا دوست سب سے  اچھا ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’وہ دوست سب سے  بہتر ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر میں   مشغول ہونے پر تیری مدد کرے اور اگر تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرنا بھول جائے تو تجھے یاد دلائے۔ ‘‘ 

٭…پھر عرض کی گئی:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیسا شخص سب سے  برا ساتھی ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’وہ بندہ سب سے  برا ساتھی ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر بھول جانے پر تجھے یاد نہ دلائے اور اگر تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں   مشغول ہو تو وہ تیری معاونت نہ کرے۔ ‘‘ 

٭…پھر عرض کی گئی: ’’کون سب سے  زیادہ علم رکھتا ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’جو سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنے والا ہو۔ ‘‘ 

… عرض کی گئی:  ’’ہمیں   ان لوگوں   کے متعلق آگاہ فرمائیے جو ہم میں   سے  اچھے ہیں   تا کہ ہم ان کی مجلس میں   بیٹھا کریں  ۔ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’تم میں   سب سے  نیک وہ لوگ ہیں   جنہیں   دیکھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّیاد آ جائے۔  ‘‘  

… لوگوں  نے پھر عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! سب سے  برے لوگ کون ہیں  ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  دعا مانگتے ہوئے عرض کی:  ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! بخش دے۔ ‘‘  جب پھر عرض کی گئی کہ لوگوں   میں   سے  سب سے  برے کون ہیں  ؟ تو ارشا دفرمایا:  ’’علما سب سے  برے ہیں   جب وہ خراب ہو جائیں  ۔ ‘‘   ([3])

کم عقل اور خود ساختہ علما کے اوصاف : 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ان علمائے دنیا کے بڑے عجیب و غریب اوصاف بیان کئے ہیں   جو اپنی رائے اور خواہشِ نفس سے  کلام کرتے ہیں  ۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا عمران بن حُصَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ہمیں   خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ میں   جس شے کا ذمہ اٹھا لوں   اس کا ضامن بھی ہوں   اور میں   اس بات کا ضامن ہوں   کہ کسی قوم  (کے عمل)  کی کھیتی تقویٰ کی موجودگی میں   خشک نہیں   ہو سکتی اور نہ ہی اس کی اصل اور جڑ راہِ ہدایت پر ثابت قدم ہونے کی بنا پر کبھی پیاسی ہو سکتی ہے۔ یقیناً وہی بندہ سب سے  بڑا جاہل شمار ہوتا ہے جو اپنی قدر و منزلت نہیں   پہچانتا اور کسی بندے کے جاہل ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنی قدر و منزلت نہیں   جانتا۔ مخلوق میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے  مبغوض او رناپسندیدہ بندہ وہ ہے جو اِدھر اُدھر سے  علم اکٹھا کر کے فتنے کی تاریکیوں   میں   غارت گری کرنے لگتا ہے اور اس طرح عالم غیب میں   پائے جانے والے سکون و آرام کو دیکھنے سے  ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاتا ہے،   پھر اس جیسے  لوگ اور کم ظرف اور رذیل افراد اسے  عالم کہنے لگتے ہیں   حالانکہ اسنے علم کی مجلس میں   بیٹھ کر ایک بھرپور دن بھی بسر نہیں   کیا ہوتا۔ اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ صبح سویرے اٹھ کر ان باتوں   کی کثرت میں   مصروف ہو جاتا ہے جن میں   خیر بہت کم پائی جاتی ہے یہاں   تک کہ جب ان بدمزہ باتوں   سے  خوب سیراب ہو جاتا ہے اور حد درجہ فضول گوئی کر لیتا ہے تو لوگوں   کے سامنے مفتی بن کر بیٹھ جاتا ہے تا کہ جو معاملات و مسائل دوسروں   پر مشتبہ رہے انہیں   وہ حل کر دے،   اب اگر کوئی مبہم مسئلہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو فوراً اس میں   ایسی فاسد اور لغو رائے بیان کرتا ہے جس کی حیثیت شبہات دور کرنے میں   مکڑی کے جالے کی طرح ہوتی ہے۔ وہ اتنا بھی نہیں   جانتا کہ وہ اپنی رائے میں   غلط ہے یا صحیح۔ ایسے  بندے جہالتوں   کے سوار اور مخبوط الحواس ہوتے ہیں   اور بے تکی باتیں   کرتے ہیں  ۔ ایسا بندہ ان باتوں   سے  عذر نہیں   



[1]    ۔ فیض القدیر للمناوی، تحت الحدیث: ۲۸۵۹، ج۳، ص۱۳۳

[2]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم     الخ، ج۱، ص۶۵۹

[3]    ۔ تاریخ الیعقوبی، خطب رسول اللہ ومواعظہ، ص۱۴۱ ،  حلیۃ الاولیاء، الرقم۳۸۷سفیان الثوری، الحدیث: ۹۳۱۵، ج۷، ص۶  بحر العلوم لابی اللیث السمرقندی، پ۲۲، فاطر، تحت الایۃ۲۸، ج۳، ص۴۵۳



Total Pages: 332

Go To