Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            حضرت سیِّدُنا لقمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان سے  مروی ایک وصیت میں   ہے کہ علم کی تین علامتیں   ہیں  :

 (۱) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم ہونا  (۲) اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پسند  (۳) … اور ناپسند کا علم ہونا

            پس آپ نے ان تین باتوں   کو علم کی حقیقت اور اس کے پائے جانے کی دلیل قرار دیا ہے۔

علمائے دنیا اور علمائے آخرت میں   فرق:

            علمائے دنیا او رعلمائے آخرت کے درمیان فرق کرنے والی علامت یہ ہے کہ اگر کوئی عالم کسی عالم ربانی کی زیارت کرتا ہے تو اسے  پہچان نہیں   پاتا بلکہ اس پر عالم ربانی کی حقیقی علمی شخصیت ہی واضح نہیں   ہو پاتی اور نہ ہی وہ اس کے عالم ہونے کے متعلق کچھ جان پاتا ہے مگر جو شخص خود عالم ربانی ہو وہ دوسرے عالم ربانی کی حقیقت سے  آگاہ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی خصوصی علامات سے  پہچانے جاتے ہیں  ،   یعنی وہ خشوع وخضوع،   سکون و وقار اور عجز و انکسار کے پیکر ہوتے ہیں  ۔

علمائے ربانی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رنگ: 

        یہ ایک مخصوص رنگ ہے جو اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام پر چڑھا ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں   اسی رنگ کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘-  (پ۱،  البقرۃ:  ۱۳۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ سے  بہتر کس کی رَینی  (رنگائی) ؟

            یہ اولیائےکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ماہرِ فن کاریگر کی مثل ہوتے ہیں   جن کی حقیقت سے  ایسا کوئی شخص آگاہ نہیں   ہو سکتا جو کسی ماہرِ فن کو پہچانتا ہو نہ اس کے فن اور کام کو،   بلکہ ان کی پہچان بھی کوئی ماہرِ فن کاریگر ہی کر سکتا ہے کیونکہ وہ ان کے کام کے ذریعے انہیں   پہچان کر دوسرے لوگوں   سے  ممتاز کر دیتا ہے۔ اس لئے کہ ہر کاریگر اپنے کام میں   مشغولیت کی وجہ سے  اس کام کی مخصوص نشانیوں   اور علامتوں   کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے جس سے  وہ پہچانا جاتا ہے۔ چنانچہ، 

            منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے کسی بندے کو مقامِ سکینہ میں   خشوع وخضوع سے  بڑھ کر کوئی پوشاک نہیں   پہناتا۔ یہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور صدیقین و علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا خاصہ ہے۔ پس وہی بندے سب سے  بڑھ کر عالم ہوتے ہیں   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پسند و ناپسند کی لطافت جانتے ہیں   اور ان کے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرفان کی دولت سے  مالا مال ہوتے ہیں  ۔ انہیں   عارفین کہا جاتا ہے۔

سیِّدُنا سہل تستری کی نظر میں   علما: 

            حضرت سیِّدُنا سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام تین طرح کے ہوتے ہیں  :  (۱) … عالم بِاللّٰہ  (۲) … عالم لِلّٰہ  (۳) …اور عالم بِحُکْمِ اللہ۔   ([1])

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  عالم بِاللّٰہ سے  مراد عارف اور اہلِ یقین ہے۔ عالم لِلّٰہ سے  مراد اخلاص،   احوال اور معاملات کا علم رکھنے والا عالم ہے جبکہ عالم بِحُکْمِ اللہ سے  مراد وہ عالم ہے جو حلال و حرام کی تفاصیل سے  آگاہ ہو۔ ہم نے یہ وضاحت حضرت سیِّدُنا سہل کے بیان کردہ مفہوم اور ان کا مذہب پہچان کر کی ہے۔ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے  بھی زیادہ مفصل انداز میں   تین اقسام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 (۱) … وہ عالم بِاللّٰہ ہو نہ کہ عالم بِاَمْرِ اللہ  اور عالم بِاَیامِ اللہ،   ایسے  عالم کو مومن کہتے ہیں  ۔

 (۲) … عالم بِاَمْرِ اللہ  ہو،   عالم بِاَیامِ اللہ نہ ہو،   اس سے  مراد حلال و حرام بیان کرنے والے مفتی ہیں  ۔

 (۳) …  عالم بِاللّٰہ ہو اور عالم بِاَیامِ اللہ بھی،   اس سے  مراد صدیقین ہیں  ۔ جبکہ بِاَیامِ اللہ سے  مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّکی باطنی نعمتیں   اور مخفی عذاب ہے۔ ([2]) مزید فرماتے ہیں   کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے سوا تمام لوگ مردہ ہیں   اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  خائفین کے علاوہ باقی سب سوئے ہوئے ہیں   اور خائفین میں   سے  محبین کے سوا باقی سب منقطع ہیں   اور محبین زندہ و شہید ہیں   جو ہر حال میں   اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں   ([3])       اکثر یہ بھی فرمایا کرتے کہ علم حاصل کرنے والوں   کی بھی تین قسمیں   ہیں  :

 (۱) … ایک طالب علم وہ ہے جو علم اس لئے حاصل کرتا ہے تا کہ اس پر عمل کرے۔

 (۲) … ایک اس لئے علم حاصل کرتا ہے تاکہ مسائل میں   اختلاف جان سکے اور پھر احتیاط کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تقویٰ پر عمل کرے۔

 (۳) … ایک طالب علم ایسا ہے جو اس لئے علم حاصل کرتا ہے تا کہ تاویل کرنا جان سکے،   پھر حرام کو حلال بنا کر حاصل کر سکے۔ چنانچہ ایسے  شخص کے ہاتھوں   حق ضائع ہو جاتا ہے۔  ([4])

فاروقِ اعظم سے  مروی تین روایات: 

 (1) … کتنے ہی عالم،   فاجر اورکتنے ہی عابد،   جاہل ہیں  ۔ پس فاجر علما سے  اور جاہل عابدوں   سے  بچو۔ ([5])  

 



[1]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم     الخ، ج۱، ص۶۹۲

[2]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم     الخ، ج۱، ص۶۹۲

[3]    ۔ شعب الایمان للبیھقی، باب فی اخلاص العمل للہ وترک الریاء، الحدیث

Total Pages: 332

Go To