Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

جسے  علمِ الٰہی کہتے ہیں   جو نہ صرف ذاتِ خداوندی کی جانب راہنمائی کرتا ہے بلکہ بندے کو اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   بھی پہنچا دیتا ہے،   پھر بندہ علمِ ایمان و یقین میں   توحید کی گواہی دینے والا ہو جاتا ہے یہ علمِ معرفت ہے نہ کہ فتویٰ اور قضا کا علم۔ 

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن ہمیشہ علم وعمل کو اکٹھا ذکر کرتے ہیں   اور علم کی جملہ صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ علم تو سراپا خشیت اور خضوع وخشوع کا نام ہے اور  (اس علم کی فضیلت کا حقیقی حقدار وہ ہے)  جو اپنے علم پر عمل کرے کیونکہ درحقیقت یہ دلوں   کا علم ہے٭…نہ کہ اُس زبان کا جو علم کا ذریعہ ہے٭…نہ ہی یہ اعمالِ ایمان میں   سے  معاملات کی ادائیگی کا سبب بنتا ہے٭…نہ ہی یہ مقاماتِ یقین اور صفاتِ متقین کے حامل اعمالِ قلوب کی مثل ہے اور٭… نہ ہی ایمان کی زیادتی کا سبب بننے والے نیک اعمال کے مثل ہے۔ اس علم کے جاننے والوں   کو اہلِ فقر وزہد،   صاحبِ توکل و خوف اور اصحابِ شوق و محبت کہا جاتا ہے۔

            علمِ الٰہی سے  سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی مراد یہ نہیں   کہ بندہ علمِ احکام و قضا حاصل کرنے کے بعد اس پر عمل کرنا بھی شروع کر دے اور لوگوں   کے معاملات میں   دخل اندازی کو لازم جاننے لگے۔ مثلاً جب وہ ان علوم کا جاننے والا ہو گا اور اس سے  فیصلہ طلب کیا جائے گا تو یقیناً وہ لوگوں   کے درمیان فیصلہ بھی کرے گا یا اگر وہ زکوٰۃ کے شرعی مسائل جاننے والا ہو گا تو مالِ زکوٰۃ جمع کرنے میں   مشغول ہو جائے گا اور اگر خرید و فروخت کے معاملات کا جاننے والا ہو گا تو خرید و فروخت کے معاملات میں   مصروف ہو جائے گا۔ اگر نکاح و طلاق کے مسائل جاننے والا ہو گا تو عورتوں   سے  شادی کرے گا،   پھر انہیں   طلاق دے گا تا کہ وہ ان اشیاءپر عمل کر سکے جن کا علم رکھتا ہے۔ لہٰذا ایسا قول کسی کا نہیں  ،   بلکہ اس بات کی تو کراہت اور بہت زیادہ مذمت بیان کی گئی ہے جس کا تذکرہ طوالت کا باعث ہو گا۔

            ان علوم کے جاننے والوں   کے اوصاف میں   سے  ہے کہ وہ دنیا میں   رغبت رکھتے ہیں  ،   دنیا جمع کرنے کے حریص ہوتے ہیں  ،   حکمرانوں   سے  میل جول رکھتے ہیں   اور ان کے ساتھ معاملات کرتے ہیں  ۔ پس معلوم ہوا کہ علمِ الٰہی سے  سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی مراد یہ لوگ نہیں   بلکہ ان کی مراد تو وہ لوگ ہیں   جو خشوع وخضوع اور زہد سے  متصف ہیں  ۔

علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی فضیلت: 

            جمہور سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن علم کو عمل سے  افضل جانتے اور فرماتے کہ علم کا ایک ذرہ عمل کی اتنی ہی مقدار سے  افضل ہے۔ مزید فرماتے کہ ایک عالم کا دو رکعتیں   پڑھنا عابد کے ایک ہزار رکعت پڑھنے سے  افضل ہے۔  ([1])

 

عالم کی عابد پر فضیلت کے متعلق چار فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ  وَسَلَّم

 (1) … عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہی ہے جیسی فضیلت مجھے اپنی امت پر حاصل ہے۔  ([2])

 (2) … عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہی ہے جو چاند کی سب ستاروں   پر ہے۔  ([3])

 (3) … ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابدوں   سے  بھاری ہوتا ہے۔ ([4])

 (4) … شیطان کو ایک عالم کی موت ایک ہزار عابدوں   کی موت سے  زیادہ محبوب ہے۔  ([5])

            معلوم ہوا کہ علمِ الٰہی سے  سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی مراد یہ ہے کہ وہ علم،   عمل سے  افضل ہے۔ اس لئے کہ علمِ الٰہی ایمان کی ایک صفت کا نام ہے اور اس یقین کا مفہوم ہے جس سے  قیمتی کوئی شے آسمان سے  نازل نہیں   ہوئی اور نہ ہی کوئی شے اس کے ہم پلہ ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی عمل صحیح نہیں   …… یہ تمام اعمال کا معیار ہے …… اس کے وزن کے مطابق اعمال قبول کئے جاتے ہیں  ۔ ان میں   سے  بعض،   بعض سے  اچھے اور میزانِ عمل میں   بھاری ہوں   گے،   جن کے سبب ان پر عمل کرنے والوں   کے درجات مقامِ علیین میں   ایک دوسرے سے  بلند ہوں   گے۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

 (۱) وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ (پ۸،  الاعراف:  ۵۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بے شک  ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے  ہم نے ایک بڑے علم سے  مفصل کیا ۔

 (۲) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ (پ۸،  الاعراف:  ۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو ضرور ہم ان کو بتادیں   گے اپنے علم سے ۔

 (۳) وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ (پ۸،  الاعراف:  ۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلّے بھاری ہوئے۔

 



[1]    ۔ الجامع الصغیر للسیوطی، حرف الراء، الحدیث: ۴۴۶۴، ص۲۷۳ مفھوما

[2]    ۔ جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، الحدیث: ۲۶۸۵، ص۱۹۲۲ علی امتی بدلہ ادناکم۔ عن ابی امامۃ الباھلی جامع بیان العلم و فضلہ، باب تفضیل العلم علی العبادۃ، الحدیث: ۸۱، ص۳

[3]    ۔ جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ،الحدیث:۲۶۸۲، ص۱۹۲

[4]    ۔ سنن ابنِ ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، الحدیث: ۲۲۲، ص۲۴۹۰ عالم ب



Total Pages: 332

Go To