Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ایک حدیث ِ پاک میں   بھی اسی قسم کا مفہوم مروی ہے۔ چنانچہ عرض کی گئی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ایک شخص کا یقین بڑا اچھا ہے مگر وہ گناہوں   کی کثرت میں   مبتلا ہے جبکہ دوسرا عبادت میں   تو خوب کوشش کرنے والا ہے لیکن یقین کا کمزور ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’کوئی بھی شخص گناہوں   سے  پاک نہیں  ،   سوائے اس شخص کے جو عقل مند اور صاحبِ یقین ہو،   ایسے  شخص کو گناہ نقصان نہیں   پہنچا سکتے۔ کیونکہ جب بھی اس سے  کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ توبہ و استغفار کر لیتا ہے اور نادم ہوتا ہے جس کے سبب اس کے گناہ مٹا کر فضل باقی رکھا جاتا ہے اور آخر کار وہ جنت میں   داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘   ([1])

            حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’سب سے  کم جس شے سے  تمہیں   نوازا گیا ہے وہ یقین اور صبر ہے اور جسے  ان دونوں   میں   سے  کچھ حصہ مل گیا تو اسے  یہ پروا نہیں   کرنی چاہئے کہ رات کے وقت عبادت کر سکا نہ دن کے وقت روزے رکھ سکا۔ ‘‘   ([2])

یقین کے بغیر علم کا حصول: 

            حضرت سیِّدُنا لقمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّاننے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’اے میرے بیٹے! یقین کے بغیر علم حاصل نہیں   ہوتا۔ بندہ اپنے یقین کے مطابق عمل کرتا ہے کیونکہ کوئی عمل کرنے والا کوتاہی نہیں   کرتا جب تک کہ اس کے یقین میں   کوتاہی نہ ہو۔ بعض اوقات یقین والے شخص کا کمزور عمل اس بندے سے  افضل ہوتا ہے جس کا عمل تو قوی ہو لیکن یقین کمزور ہو کیونکہ جس کا یقین کمزور ہو جائے اس پر گناہ غالب آ جاتے ہیں   ([3])

نورِ توحید اور نارِ شرک: 

            حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ بیشک توحید کا ایک نور ہے اور شرک کی بھی ایک آگ ہے،   توحید کا نور مشرکین کی نیکیوں   کو جلانے والی شرک کی آگ سے  زیادہ موحدین کے گناہوں   کو جلانے والا ہے۔ ‘‘   ([4])

 مقاماتِ یقین: 

            یقین کے تین مقام ہیں  :

 (1) یقین معائنہ: یہ اپنی خبر سے  مختلف نہیں   ہوتا،   اسے  جاننے والے کو خبیر کہتے ہیں   اور یہ صدیقین اور شہدا کا مقام ہے۔

 (2) مقامِ تصدیق و تسلیم: یہ بھی خبر میں   ہوتا ہے اور اس کے جاننے والے کو مخبر اور مسلم کہتے ہیں  ،   یہ عام مومنین کا یقین ہے،   یہ نیک لوگ ہوتے ہیں  ،   جن میں   سے  کچھ نیک اور کچھ اس سے  کم درجہ کے ہیں  ۔ جیسا کہ اللہ

عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: 

وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ (۲۲)  (پ۲۱،  الاحزاب:  ۲۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس سے  انہیں   نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا۔

            بعض اوقات ان لوگوں   کا یقین اسباب اور معتاد اشیاءکی کمی کے باعث کمزور اور ان اشیاءکے پائے جانے اور عادت کے جاری ہونے کی وجہ سے  قوی ہو جاتا ہے۔ واسطوں   کی جانب دیکھنے کے سبب ان پر حجاب ڈالا جاتا ہے اور انہی کے سبب دور بھی کیا جاتا ہے،   اپنے درجات کی زیادتی اور اُنس کا تعلق مخلوق سے  جوڑ لیتے ہیں   اور مخلوق کے نہ پائے جانے کے سبب درجات کی کمی اور وحشت کا شکار ہو جاتے ہیں  ،   انہی لوگوں   سے  اختلاف کا بیج اپنا سر نکالتا ہے اور یہ لوگ متلون مزاج بن جاتے ہیں   یعنی اشیاءکے تغیر اور رنگ بدلنے سے  ان کے مزاج میں   بھی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔

 (3) مقامِ ظن: یہ مقام علمی دلائل،   خبر اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اقوال سے  قوی ہوتا ہے،   جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  ایمان کی زیادتی پاتے ہیں   وہ وہی حصہ پاتے ہیں   جو ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ظن دلائل کے فقدان اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اقوال نہ ہونے کی وجہ سے  کمزور ہو جاتا ہے اور اسے  یقینِ استدلال بھی کہتے ہیں  ،   اس کے علوم عقلی ہیں  ۔ یہ یقین اہلِ نظرو قیاس،   عقلی علوم رکھنے والے اور اہلِ رائے اشخاص میں   سے  عام مسلمانوں   کا اور پھر ان میں   سے  متکلمین کا ہے۔

            ہر وہ بندہ جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر یقین ہے وہ علمِ توحید اور علمِ معرفت رکھتا ہے۔ البتہ! اس کا علم اور اس کی معرفت اس کے یقین کے اعتبار سے  اسے  حاصل ہوتی ہے اور ا س کا یقین اس کے ایمان و قوت کی صفائی پر منحصر ہوتا ہے اور اس کا ایمان اس کے معاملے اور رعایت کا تقاضا کرتا ہے۔ پس سب سے  اعلیٰ علم،   علمِ مشاہدہ ہے جو عینِ یقین سے  پیدا ہوتا ہے،   یہ مقربین کے ساتھ خاص ہے،   انہیں   مقاماتِ قرب پر فائز کرتا ہے،   ان کی مجلسوں   میں   ان سے  ہم کلام ہوتا ہے،   ان کے اُنس کی جائے پناہ ہے اور ان کی میٹھی میٹھی باتوں   کی لطافت کا مظہر ہے۔ سب سے  کم تر علم عدمِ انکار اور شک نہ ہونے کے سبب علمِ تسلیم و رضا ہے۔ یہ عام مومنین کے ساتھ خاص ہے،   نیز یہ علمِ ایمان اور تصدیق کی زیادتی کے ساتھ ساتھ اصحابِ یمین کے لئے بھی ہے۔ ان دونوں   کے درمیان لطیف مقامات ہیں   جو مقربین کے اعلیٰ درجات سے  لے کر اوسط مقامات تک اور اصحابِ یمین کے ادنیٰ درجات سے  لے کر اصحابِ علیین کے اوسط افراد کے اعلیٰ درجات تک ہیں  ۔

 



[1]    ۔ نوادر الاصول للحکیم الترمذی، الاصل الثامن والمائتان ،الحدیث: ۱۰۵۰،ص۷۷۰ مفھوماً

[2]    ۔ التفسیر الکبیر، پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ ۱۵۵، ج۲، ص۱۳۱ اقل بدلہ افضل

[3]    ۔ موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الیقین، الحدیث: ۳۰، ج۱، ص۲۴ مختصراً

[4]    ۔ تفسیر روح البیان، پ۱۸، المومنون، تحت الایۃ ۹۲، ج۶، ص۱۰۳



Total Pages: 332

Go To