Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کرے تو یقیناً وہ دنیا کی طرف مائل ہو چکا ہے۔ ([1])

علم معرفت و علم ایمان کی فضیلت: 

            ایمان و توحید اور معرفت و یقین کا علم ہر نیک،   صاحبِ یقین مومن کو حاصل ہوتا ہے اور یہ علم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   بندے کے لئے ایک خاص مقام و مرتبہ کی حیثیت رکھتا ہے،   بارگاہِ خداوندی میں   اس کی ایک حالت ہے،   جنت کے درجات میں   اس کا ایک مقرر حصہ ہے،   اسی کے سبب بندہ اس کے مقربین میں   شمار ہوتا ہے۔

            معرفت و ایمانبندے کے دو ایسے  ساتھی ہیں   جو کبھی اس سے  جدا نہیں   ہوتے کیونکہ معرفت ِ الٰہی کا علم،   ایمان کا ترازو ہے جس سے  کمی بیشی معلوم ہوتی ہے،   اسلئے کہ علم،   ایمان کا ظاہر ہے جو اسے  کھولتا اور ظاہر کرتا ہے جبکہ ایمان،   علم کا باطن ہے جو اسے  حرکت میں   رکھتا ہے اور اس کو خوب گرماتا ہے۔ الغرض ایمان،   علم کی طاقت اور آنکھ ہے جبکہ علم،   ایمان کی قوت اور زبان ہے،   ایمان کا قوی و کمزور اور کم یا زیادہ ہونا علمِ معرفت میں   کمی و زیادتی اور قوت و ضعف کی وجہ سے  ہے۔

            حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحِیْمنے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’اے میرے لخت ِ جگر! جس طرح کھیت پانی اور مٹی کے بغیر درست نہیں   ہو سکتا،   اسی طرح ایمان،   علم و عمل کے بغیر درست نہیں   رہ سکتا۔

            ایمان سے  یقین،   یقین سے  معرفت اور معرفت سے  مشاہدہ کے حصول کی مثال ایسے  ہی ہے جیسے  گندم سے  ستو،   ستو سے  آٹا اور آٹے سے  نشاستہ حاصل ہوتا ہے اور گندم ان سب اشیاءکی جامع ہے۔ پس ایمان اصل ہے اور مشاہدہ اس کی سب سے  بہتر فرع ہے جیسا کہ گندم اصل ہے اور نشاستہ اس کی سب سے  بہتر و اعلیٰ صورت ہے۔ پس یہ سارے مقامات انوارِ ایمان میں   موجود ہیں   جن کی معاونت علمِ یقین کرتا ہے۔

معرفت و مشاہدہ کے مقام: 

            حصولِ معرفت کے دو ذرائع ہیں  :  (۱) … سن کر اور  (۲) … دیکھ کر۔ سن کر معرفت حاصل کرنے سے  مراد یہ ہے کہ لوگوں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے متعلق سن کر اس کا عرفان حاصل کیا۔ اسے  ایمان کی تصدیق بھی کہتے ہیں   جبکہ دیکھ کر معرفت مشاہدہ میں   حاصل ہوتی ہے،   جو مقامِ عین الیقین ہے۔

            مشاہدہ بھی دو قسم کا ہوتا ہے:  (۱) … استدلال کا مشاہدہ  (۲) … بذریعہ استدلال دلیل کا مشاہدہ۔ چنانچہ استدلال کا مشاہدہ معرفت سے  قبل ہوتا ہے اور یہی معرفتِ خبر بھی ہے جس کا تعلق سن کر حاصل ہونے والی معرفت سے  ہے اور اس کی زبان قول ہے جبکہ اس مشاہدے کو پانے والا علمِ یقین رکھتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ (۲۲) اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً (پ۱٭،  النمل:  ۲۳،  ۲۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  (اور میں  )  شہرِ سبا سے  حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں   میں  نے ایک عورت دیکھی۔

            معلوم ہوا کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کو ملکہ بلقیس کے متعلق یقینی علم اسے  دیکھنے سے  قبل ہدہد سے  سنکر ہوا تھا۔

            بعض اوقات علم کا سبب تعلیم بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ رسولِ اَکرم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یقین سیکھو۔ ‘‘  ([2]) یعنی اہلِ یقین کے ساتھ بیٹھا کرو اور ان سے  یقین کی باتیں   سنا کرو کیونکہ وہ اس کے جاننے  والے ہیں  ۔  دلیل کا مشاہدہ آنکھوں   سے  معرفت حاصل کرنے کے بعد ہوتا ہے،   یعنی اس سے  مراد وہ یقین ہے جس کی زبان وِجدان ہے اور جو وِجدان رکھتا ہے مقامِ قرب و بعد سے  آشنا ہوتا ہے اور یہی وِجدان ہی علمِ عین الیقین ہے اور یہ ایک ایسی دولت ہے جس کے انوار کی برکتیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی قدرتِ کاملہ سے  بندے کو عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ،   

            حضورنبی ٔرحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’پس میں  نے اس کی ٹھنڈک پائی تو سب کچھ جان گیا۔ ‘‘  ([3])  

            اس علم کے جاننے والے علمائے آخرت اور صاحبِ ملکوت و صاحبِ قلوب ہیں   اور یہی قرب پانے والے یعنی اصحابِ یمین بھی ہیں  ۔ علمِ ظاہر کا تعلق عالم ظاہر سے  ہوتا ہے یعنی یہ زبان کے اعمال میں   سے  ہے اور اس کے جاننے والے دنیا سے  پہچانے جاتے ہیں  ۔ البتہ! ان میں   سے  نیک لوگ بھی اصحابِ یمین میں   شمار ہوتے ہیں  ۔

یقین میں   کمزوری اور اعمال کی بربادی: 

            ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہو کر عرض کی:  ’’مجھے ان دو بندوں   کے متعلق آگاہ فرمایئے جن میں   سے  ایک عبادت میں   خوب کوشش کرتا ہے،   اس کا عمل کثیر اور گناہ بہت ہی کم ہیں   مگر وہ ضعفِ یقین کا شکار ہے کہ ہر دم اسے  اپنے امور میں   شک لاحق رہتا ہے۔ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’یقیناً اس کا شک اس کے تمام اعمال برباد کر دے گا۔ ‘‘  عرض کی: ’’مجھے اس شخص کے متعلق بھی بتایئے جس کا عمل تو قلیل ہو مگر یقین قوی و مضبوط ہو حالانکہ وہ گناہوں   کی کثرت کا بھی شکار ہو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خاموش رہے،   وہ شخص کہنے لگا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر پہلے شخص کا شک اُس کے نیک اعمال برباد کر دے گا تو اِس شخص کا یقین اِس کے سارے گناہ ختم کر دے گا۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: ’’میں  نے اس سے  بڑھ کر دینی سوجھ بوجھ رکھنے والا نہیں   دیکھا۔ ‘‘   ([4])

 



[1]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم     الخ، ج۱، ص۵۹۲

[2]    ۔ موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الیقین، الحدیث: ۷، ج۱، ص۲۲

[3]    ۔ جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب و من سورۃ ص، الحدیث: ۳۲۳۴، ص۱۹۸۲ ملتقطاً

[4]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم     الخ، ج۱، ص۶۷۴



Total Pages: 332

Go To