Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والوں   سے مراد علمائے آخرت ہیں  ،   انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  توحید اور عقلِ سلیم کی دولت ملتی ہے،   انہیں   کتابیں   پڑھ کر علم حاصل ہوتا ہے نہ اہلِ زبان کے اقوال سے ۔ بلکہ انہیں   تو یہ علم ان کے عمل اور معاملات کو خوبی سے  سرانجام دینے کی وجہ سے  حاصل ہوتا ہے۔ یہ عام لوگوں   سے  جدا ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ رہتے ہیں  ،   ہر دم ربّ کی یاد میں   کھو ئے ہوئے بارگاہِ خداوندی میں   حاضر ہو کر اعمالِ قلوب بجا لاتے ہیں  ،   خلوت میں    (یعنی تنہا)  ہوں   تب بھی ہر لمحہ اسی کی بارگاہ میں   حاضر رہتے ہیں   اور اس کے سوا نہ تو کسی کا ذکر کرتے ہیں   اور نہ ہی کسی کی عبادت میں   مشغول ہوتے ہیں  ۔ پس جب یہ علمائے آخرت خلوت سے  جلوت میں   آئے یعنی لوگوں   کے پاس آئے تو لوگ ان سے  مسائل پوچھنے لگے،   لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   رُشد ودانائی الہام فرمائی اور سچ بات کہنے کی توفیق دی ۔ نیز انہیں   ان کے صاف و شفاف قلوب،   پاکیزہ عقول اور بلند ہمتوں   سے  پیدا ہونے والے باطنی اعمال کی وجہ سے  حکمت کی دولت بھی عطا کی اور اس کے علاوہ انہیں   اپنی حسنِ توفیق سے  نواز کر حقیقت ِ علم عطا فرمانے کے لئے بھی ترجیح دی اور جب انہیں   اپنی عبادت کے لئے ترجیح دی تو ساتھ ہی انہیں   اپنے مخفی اسرار سے  بھی آگاہ کر دیا۔ جب ان علمائے آخرتنے خدمت ِ دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور معاملات کو بحسن و خوبی ادا کرتے ہوئے ہر شے سے  الگ ہو کر بارگاہِ خداوندی کی طرف متوجہ ہوئے تو ان سے  جو بھی سوال کیا جاتا وہ اپنے ربّ کے ساتھ مخصوص تعلق کی بنا پر ہر سوال کا جواب دیتے۔ اس طرح انہوں  نے علمِ قدرت سے  کلام کیا،   حکمت کے اوصاف ظاہر کئے،   علومِ ایمان کو بیان کیا اور قرآنِ کریم کے باطن کو منکشف کیا۔

            یہی وہ نفع بخش علم ہے جو بندے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ایک خاص تعلق پر دلالت کرتا ہے اور یہی وہ علم ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے خاص بندے کو عطا فرماتا ہے اور جس کی برکت سے  وہ سوالوں   کے جواب دیتا ہے،   اسے  اسی علم کی بدولت ثواب دیا جائے گا اور یہی علم اس کے اعمال کے لئے ترازو اور میزان کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ پس بندے کو جس قدر اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کا عرفان حاصل ہو گا اسی قدر اس کے اعمال ترجیح پائیں   گے اور اس کی نیکیاں   بڑھیں   گی اور وہ اسی علم کے مطابق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   قرب کی منازل طے کرے گا کیونکہ اس کے ہاں   اس کا شمار اہلِ یقین میں   ہوتا ہے۔

شیرِ خدا کی نظر میں   علمائے آخرت: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہی اہلِ حق ہیں  ،   ان کے اوصاف اور مخلوق پر ان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا:

٭ دل یاد رکھتے ہیں   اور سب سے  بہتر دل وہ ہے جو سب سے  زیادہ  (خیر و بھلائی کی باتیں  )  یاد رکھتا ہے۔

٭لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں  :  (۱) … عالم ربّانی  (۲) … راہِ نجات پر چلنے والا طالب علم اور  (۳) … بے ڈھنگے و بے عقل لوگ جو ہر آواز کی پیروی کرتے ہیں   اور ہر آنے والی تیز ہوا کے جھونکے کے ساتھ ادھر ادھر چل پڑتے ہیں  ۔ انہیں   نورِ علم سے  کچھ روشنی ملتی ہے نہ ہی کسی پختہ و مضبوط عہد کی پناہ حاصل کرتے ہیں  ۔

٭علم مال سے  بہتر ہے کیونکہ علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی حفاظت کرتا ہے۔ ۔

٭علم  (خرچ کرنے یعنی)  عمل کرنے سے  زیادہ ہوتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے  کم ہوتا ہے۔ ۔

٭ علم یا عالم کی محبت ایک ایسا راستہ ہے جسے  اختیار کیا جاتا ہے۔ ۔

٭علم کے ذریعے ہی زندگی میں   اطاعت حاصل ہوتی ہے،   موت کے بعد تو صرف خوبصورت یادیں   ہیں  ۔ ۔

٭علم حاکم ہے جبکہ مال محکوم،   مال کی منفعت اس کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔ ۔

٭ مال جمع کرنے والے مر گئے مگر علم رکھنے والے آج بھی زندہ ہیں   اور جب تک زمانہ ہے باقی رہیں   گے۔

            اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سانس لیا اور پھر  (اپنے سینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے)  ارشاد فرمایا:

٭یہاں   کثیر علم ہے،   کاش! کوئی اسے  لینے والا ہوتا۔ البتہ! میں   ایسا طالب علم پاتا ہوں   جو قابلِ اعتماد نہیں   کیونکہ وہ دین پر عمل طلبِ دنیا کی خاطر کرتا ہے اور وہ  (ایسا بدبخت ہے جو)  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام پر اس کی نعمتوں   کے باعث زبان درازی کرتا ہے اور عام لوگوں   پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حجتوں   کے ساتھ غالب آتا ہے۔ ٭یا وہ  (طالب علم ایسا ہے جو)  اہلِ حق کے سامنے تو سرِ تسلیم خم کئے رہتا ہے مگر شک کا بیج اس کے دل میں   اسی وقت سے  بویا ہوا ہے جب پہلی بار اسے  ایسا شبہ لاحق ہوا تھاجس میں   بصیرت کا نام و نشان نہ تھا۔ یہ دونوں   طالب علم ایسے  ہیں   جن کا دین کے خیر خواہوں   سے  کوئی تعلق اور واسطہ نہیں  ،   نہ تو اِس کا اور نہ ہی اُس کا۔ ٭… یا وہ طالب علم لذتوں   کا شیدائی ہے جو طلبِ شہوت میں   دیوانہ ہو رہا ہے ٭… یا وہ اموال جمع کرنے کے دھوکے میں   مبتلا ہے حالانکہ اس کا اپنی خواہشِ نفسانی کی پیروی میں   مال جمع کرنا اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ ان دونوں   باتوں   کی وجہ سے  چرنے والے کسی جانور کے مشابہ ہے۔۔

٭جب حاملینِ علم اس جہانِ فانی سے  کوچ کر جائیں   گے تو اس طرح علم بھی ختم ہو جائے گا مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی زمین ایسے  افراد سے  خالی نہ ہو گی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حجت قائم کرنے والے ہیں،   وہ ظاہر وباہر ہوں   گے یا چھپے ہوں   گے تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حجتیں   اور اس کے دلائل باطل نہ ہو جائیں  ۔

٭ایسے  لوگ کہاں   ہیں  ؟ جو تعداد میں   بہت ہی کم مگر قدر و منزلت میں   عظیم ہیں  ٭ان کے ظاہری وجود تو غائب ہیں   لیکن ان کی تصویریں   دلوں   میں   موجود ہیں ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے سبب اپنی حجتوں   اور اپنے دلائل کی حفاظت فرماتا ہے یہاں   تک کہ وہ ان حجتوں   کو اپنے جیسے  دوسرے لوگوں   کے سپرد کر دیتے ہیں   اور اپنی مثل افراد کے قلوب میں   ان



Total Pages: 332

Go To