Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(۴) بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍۚ-فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُؕ- (پ۲۱،  الروم:  ۲۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بلکہ ظالم اپنی خواہشوں   کے پیچھے ہو لئے بے جانے تو اسے  کون ہدایت کرے جسے  خدانے گمراہ کیا۔

 (۵) وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ (۱۸) اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ- (پ۲۵،  الجاثیۃ:  ۱۸،   ۱۹)   

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور نادانوں   کی خواہشوں   کا ساتھ نہ دو۔ بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں   کچھ کام نہ دیں   گے۔

 (۶) فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ- (پ۱۲،   ھود:  ۱۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے  اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچّامعبود نہیں  ۔

 (۷) فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (۷)  (پ۱۷،  الانبیآء:  ۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اے لوگو علم والوں   سے  پوچھو اگر تمہیں   علم نہ ہو۔

 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان آیاتِ مبارکہ میں   علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے اور جس حدیثِ پاک میں   اسلام کے پانچ بنیادی ارکان مروی ہیں  ،   اس میں   سرکارِ والا تَبارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ان اعمال کی ادائیگی میں   حصولِ علم کو فرض قرار دیا،   پھر ارشادفرمایا: ’’علم حاصل کرنا فرض ہے ‘‘  اور یہ ارشاد فرما کر کہ ’’ہر مسلمان پر فرض ہے ‘‘  مزید پختہ کر دیا گویا یہ کلام وضاحت کر رہا ہے کہ ان پانچ ارکانِ اسلام کا علم حاصل کرنا ان کے فرض ہونے کی وجہ سے  فرض ہے۔

علم کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : 

 (1) شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک شخص کے پاس سے  گزرے،   اس کے پاس کئی لوگوں   کو جمع دیکھ کر دریافت فرمایا: ’’کیا معاملہ ہے؟ ‘‘  لوگوں  نے عرض کی: ’’یہ شخص بہت بڑا عالم ہے۔ ‘‘  دریافت فرمایا: ’’کس شے کا؟ ‘‘  عرض کی کہ وہ شعر،   انساب اور ایامِ عرب کا عالم ہے تو ارشاد فرمایا: ’’یہ ایسا علم ہے جس کا نہ جاننا نقصان دہ نہیں  ۔ ‘‘  جبکہ ایک روایت میں   ہے کہ’’یہ ایسا علم ہے کہ جس کا جاننا نفع نہیں   دیتا اور جس کا نہ جاننا نقصان نہیں   دیتا۔ ‘‘   ([1])

 (2) …بے شک  بعض علوم جہالت پر مبنی ہیں   اور بعض اقوال سمجھ سے  بالاتر ہوتے ہیں  ۔ ([2])          

 (3) … کم توفیق،   زیادہ علم سے  بہتر ہے۔  ([3])       

 ( 4) … ہر شے،   علم کی محتاج ہے اور علم،   توفیق کا محتاج ہے۔

 (5) …میں   تیری پناہ مانگتا ہوں   ایسے  علم سے  جو نفع دینے والا نہ ہو۔  ([4])          

            پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیر نافع کو بھی علم کا نام دیا کیونکہ یہ بھی ایک معلوم ہے اور اس علم کے جاننے والے لوگ اپنے ساتھیوں   میں   علما کے طور پر جانے جاتے ہیں  ،   پھر علم کی منفعت لوگوں   سے  اٹھا لی گئی اور یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسے  علم سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگی۔

شیطان کا علم میں   سبقت لے جانا: 

            حضورنبی ٔرحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’شیطان بسا اوقات تم سے  علم میں   سبقت لے جاتا ہے۔ ‘‘  ہم نے عرض کی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! وہ علم میں   ہم سے  کیسے  بڑھ سکتا ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’وہ کہتا ہے علم حاصل کرو لیکن اس پر اس وقت تک عمل مت کروجب تک کہ عالم نہ بن جاؤ،   علم کے حصول میں   یہی کہتا رہتا ہے اور عمل کے سلسلے میں   ٹال مٹول سے  کام لیتا رہتا ہے،   یہاں   تک کہ بندہ اس حال میں   مر جاتا ہے کہ اسنے کوئی عمل نہیں   کیا ہوتا۔ ‘‘  ([5])

            مذکورہ حدیثِ پاک میں   دو دلیلیں   پائی جاتی ہیں  ۔ پہلی یہ کہ یہاں   مراد ایسے  علم کا حصول ہے جو آخرت میں   نفع بخش ہو نہ اس کے حصول میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قربت نصیب ہو۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ فضیلت والا اور مستحب علم وہ ہے جو عمل کا تقاضا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بغیر علم کے عمل کرنے کا حکم نہیں   دیتے تھے اور نہ ہی عمل کرنے کے لئے علم حاصل کرنے کو برا جانتا تھے۔ کیا آپ نے دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا کہ ’’جس نے علم حاصل کیا اس کی فضیلت مجھے اس شخص کی فضیلت سے  زیادہ محبوب ہے جس نے عمل کیا اور تمہارا بہترین دین ورع و تقویٰ ہے۔ ‘‘  ([6])

علمِ معرفت و یقین کی تمام علوم پر فضیلت اور سلف صالحین کے طریقوں   کا بیان فتویٰ دینے میں   احتیاط:

 



[1]    ۔ جامع بیان العلم و فضلہ، باب معرفۃ اصول العلم، الحدیث: ۷۷۷، ص۲۷۶

                                                اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، بیان علۃ ذم العلم المذموم، ج۱، ص۳۵۶

[2]    ۔ سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما جاء فی الشعر، الحدیث: ۵۰۱۲، ص۱۵۹۰

[3]    ۔ تاریخ مدینۃ دمشق ، الرقم ۷۶۷۲منصور بن محمد، الحدیث: ۱۲۴۷۶، ج۶۰، ص۳۴۹ العلم بدلہ العقل

[4]    ۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء، باب فی الادعیۃ، الحدیث: ۶۹۰۶، ص۱۱۵۰

[5]    ۔ الجامع لاخلاق الراوی للخطیب بغدادی، باب النیۃ فی طلب الحدیث، الحدیث: ۳۵، ج۱، ص۸۹

[6]    ۔المستدرک، کتاب العلم، باب فضل العلم احب من فضل العبادۃ     الخ، الحدیث: ۳۲۰، ج۱، ص ۲۸۳



Total Pages: 332

Go To