Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

جانب سے  پیدا ہونے والے خیالات پر لبیک کہے کہ انہی خیالات کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو آزماتا ہے اور اس کا امتحان لیتا ہے اور جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں   کہ بندہ شیطانی وسوسوں   کو دل سے  جھٹک دے،   کیونکہ یہ خیالات اس نیت کی ابتدا کا باعث بنتے ہیں   جو ہر عمل کے شروع میں   ہوتی ہے،   پھر اس نیت کے مطابق اعمال ظاہر ہوتے ہیں   اور اسی کے مطابق اعمال کا اجر بڑھتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بندہ اچھے اور برے خیالات کے درمیان فرق کرے اور شیطانی،   روحانی اور نفسانی خیالات کو پہچانے،   علمِ یقین اور عقلی دلائل میں   فرق کرے تا کہ ان سب کے احکام میں   فرق کر سکے کیونکہ ایسا کرنا بندے پر فرض ہے۔ یہ مذہب حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار،   حضرت سیِّدُنا فرقد سنجی اور حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  اور ان کے ماننے والوں   کا ہے۔ ان سب کے استاذ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی ہیں   جو اس معاملے میں   گفتگو فرمایا کرتے تھے اور ان سبنے انہی سے  علومِ قلوب حاصل کئے۔([1])

 (5) علم حلال کا حصول: 

            ملک شام کے عابدین و صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن  فرماتے ہیں   کہ اس حدیثِ پاک سے  مراد ہے کہ علمِ حلال حاصل کرنا فرض ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کا حکم دیا ہے۔  ([2]) تمام مسلمانوں   کا اس بات پر اجماع ہے کہ حرام کھانے والا فاسق ہے۔ جس کی وضاحت ایک حدیثِ پاک میں   کچھ یوں   ہے کہ سرکارِ دو جہاں   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’فرائض کی ادائیگی کے بعد حلال روزی تلاش کرنا فرض ہے۔ ‘‘   ([3]) یہ قول حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم،   حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسباط،   حضرت سیِّدُنا وُہَیب بن وَرْد اور حضرت سیِّدُنا حبیب بن حرب رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا ہے۔

 (6) علم یقین وباطن کا حصول: 

            بعض اصفیائے بصرہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے نزدیک اس حدیثِ پاک کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ علم باطن کے حصول کی اہلیت رکھتے ہیں   ان پر اس کا حاصل کرنا فرض ہے۔ مزید فرماتے ہیں   کہ یہ علم صرف اُن اہلِ قلوب کے ساتھ خاص ہے جو اس پر عمل کرنے والے ہیں   اور اہلِ قلوب کے سوا عام مسلمان اس سے  مستثنیٰ ہیں  ۔  ([4])  جیسا کہ مروی ہے کہ رسولِ اَکرم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ یقین سیکھو۔ ‘‘  یعنی علمِ یقین حاصل کرو۔   ([5])

            علمِ یقین صرف اہلِ یقین کے پاس پایا جاتا ہے اور اہلِ یقین کا یہ عمل عارفین کے دلوں   میں   ایک مخصوص مقام کا حامل ہے اور یہی وہ علمِ نافع ہے جس سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   بندے کے حال اور مقام کا تعین ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیثِ پاک میں   اس قول کی وضاحت میں   دلیل موجود ہے کہ حضور نبی ٔکریم،   رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو علم دل میں   ہوتا ہے وہی علمِ نافع ہے۔ ‘‘    ([6])

            پس یہ حدیث ِ پاک دوسری مجمل احادیثِ مبارکہ کے لئے مفسر کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ہم سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   پہلے ایمان سکھاتے پھر علومِ قرآن سمجھاتے تھے،   اس سے  ہمارے ایمان میں   زیادتی ہوتی گئی،   مگر عنقریب ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ ایمان سے  پہلے قرآن سیکھا کریں   گے۔   ([7])   مراد یہ ہے کہ ہم نے میٹھے میٹھے آقا،   مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  علمِ ایمان سیکھا۔

 (7) بقدرِ ضرورت حلال و حرام کے فرق کی پہچان: 

            بعض سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ مذکورہ حدیثِ پاک سے  مراد ہے کہ بندے پر علمِ توحید اور امر و نہی کے اصول کو بقدرِ ضرورت جاننا اور حلال و حرام کے درمیان فرق کرنا فرض ہے کیونکہ اس کے بعد کسی بھی علم کے حصول کا کوئی مقصد باقی نہیں   رہتا اس لئے کہ تمام علوم کو معلوم ہونے کے اعتبار سے  علم کہا جاتا ہے۔ نیز اس بات پر اجماع ہے کہ ضرورت سے  زائد علم حاصل کرنا فرض نہیں  ۔ البتہ! افضل یا مستحب ہے۔

 (8) خرید و فروخت اور نکاح و طلاق کا علم: 

                                                کوفہ کے فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ اس سے  خرید و فروخت اور نکاح و طلاق کا علم حاصل کرنا مراد ہے۔ کیونکہ جب کسی شخص کو ایسا کوئی معاملہ در پیش ہو تو اس پر اس کا علم حاصل کرنا فرض ہو جاتا ہے۔  ([8])

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ ہمارے اس بازار میں   صرف وہی تجارت کر سکتا ہے جو  (بیع و شرا کے)  معاملات سمجھتا ہو،   مگر سود خور کا



[1]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، بیان علم الذی ھو فرض عین، ج۱، ص۲۰۱

[2]    ۔ مرقاۃ المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب العلم، الفصل الثانی، الحدیث: ۲۱۸، ج۱، ص۴۷۷

[3]    ۔ المعجم الکبیر، الحدیث: ۹۹۹۳، ج۱۰، ص۷۴

[4]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، بیان علم الذی ھو فرض عین، ج۱، ص۲۰۱

[5]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۳۷ ثور بن یزید، الحدیث: ۷۹۵۵، ج۶، ص۹۹

[6]    ۔المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب ما ذکر عن نبینا صلی اللہ علیہ والہ وسلم، الحدیث: ۶۰، ج۸، ص۱۳۳ دون قولہ باطن

[7]    ۔ المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۶۷۸، ج۲، ص۱۶۵ بتغیرقلیل

[8]    ۔ عوارف المعارف، الباب الثالث، ص۲۴



Total Pages: 332

Go To