Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

علم اور علما کا بیان

        اس فصل میں   درج ذیل امور کا بیان ہے:

٭…علم اور اس کی فضیلت                                        ٭…علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اوصاف

٭…تمام علوم پر علمِ معرفت کی فضیلت                 ٭…علمائے سلف کے طریقے

٭…علمِ سکوت  (خاموشی)  کی فضیلت                             ٭…اہلِ ورع و تقویٰ کا طریقہ

٭…علمِ ظاہر و باطن میں   فرق                          ٭…علمائے دنیا و آخرت میں   فرق

٭…اہلِ معرفت کی علمائے ظاہر پر فضیلت      ٭…اپنے علوم کے ذریعے دنیا کمانے والے علمائے سوء

٭…علم کے اوصاف                                    ٭…طریقۂ تعلیم

٭…متاخرین کے گھڑے ہوئے قصوں   اور کلام کی مذمت

٭…لوگوں   کی قولی وفعلی بدعتیں   کہ جن پر سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نہ تھے

٭…ایمان و یقین کی تمام علوم پر فضیلت                ٭…رائے سے  اجتناب

علم اور اس کی فضیلت

طلبِ علم ہر مسلمان پر فرض ہے: 

            علم کی اہمیت بتاتے ہوئے محبوب ربِّ داور،  شفیع روزِ محشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان  (مرد و عورت)  پر فرض ہے۔ ‘‘   ([1]) ایک روایت میں   ہے: ’’علم حاصل کرو خواہ چین سے  ہو کیونکہ طلبِ علم ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ‘‘   ([2])

’’طلبِ علم فرض ہے ‘‘  کے گیارہ حروف کی نسبت سے

حدیثِ پاک کی شرح میں    (11)  مختلف اقوال

            مذکورہ روایت میں   کس قسم کا علم فرض ہے اس کی تعیین میں   اختلاف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ذیل میں   چند اقوال پیشِ خدمت ہیں  :

 (1) علم مقام وحال کا حصول: 

            حضرت سیدنا سہل تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ رحمتِ عالم،   نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان میں   طلبِ علم سے  مراد علمِ حال ہے۔ یعنی بندہ جس مقام پر فائز ہے اس کا حال معلوم کرنے کی کوشش کرے،   اس طرح کہ اپنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مابین دنیا اور بالخصوص آخرت کا حال جان کر اس کے مطابق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جو احکام اس پر لازم ہیں   انہیں   ادا کرنے میں   لگ جائے۔  ([3])

 (2) علم معرفت کا حصول: 

            عارفین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن  فرماتے ہیں   کہ اس حدیث ِ پاک سے  علمِ معرفت حاصل کرنا،   ہر لمحہ حکمِ الٰہی بجا لانا اور دن کی کسی بھی ساعت میں   جو بھی تقاضا ہو اسے  پورا کرنا مراد ہے۔  ([4])

 (3) علم اِخلاص و آفاتِ نفس کی پہچان: 

            علمائے شام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ اس حدیثِ پاک میں   یہ بتایا گیا ہے کہ علمِ اِخلاص کا حاصل کرنا،   نفس کی آفات اور وسوسوں   کو پہچاننا،   شیطان کے مکر و فریب اور دھوکے کو پہچاننا اور ان امور کو جاننا جو اعمال کی اصلاح و فساد کا باعث بنتے ہیں   فرض ہے،   اس اِعتبار سے  کہ اَعمال میں   اِخلاص کا ہونا فرض ہے اور اس اِعتبار سے  بھی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے شیطان کی دشمنی سے  آگاہ فرمایاپھر اس سے  عداوت رکھنے کا حکم دیا۔ اس قول کو حضرت سیِّدُنا عبدالرحیم بن یحییٰ ارموی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اور ان کے متبعین نے اختیار کیا ہے۔  ([5])  

 (4) علم قلوب کا حصول: 

            علمائے بصرہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں   کہ یہاں   علمِ قلوب کا حصول مراد ہے۔ اس لئے کہ دل میں   پیدا ہونے والے خیالات اور ان کی تفاصیل سے  آگاہ ہونا فرض ہے کیونکہ یہ خیالات بندے کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  آئیں   تو پیغام رساں   ہوتے ہیں   اور شیطان اور نفس کی جانب سے  ہوں   تو وسوسہ کہلاتے ہیں  ۔ پس بندے کو چاہئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی



[1]    ۔ سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء     الخ، الحدیث: ۲۲۴، ص۲۴۹۱

[2]    ۔ جامع بیان العلم و فضلہ، باب طلب العلم فریضۃ، الحدیث: ۱۷، ص۱۶

[3]    ۔ عوارف المعارف، الباب الثالث، ص۲۳   اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، بیان علم الذی ھو فرض عین، ج۱، ص۲۰۱

[4]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، بیان علم الذی ھو فرض عین، ج۱، ص۲۰۳

[5]    ۔اتحافالسادۃ المتقین، کتاب العلم، بیان علم الذی ھو فرض عین، ج۱، ص۲۰۱   عوارف المعارف، الباب الثالث، ص۲۳ مفھوماً



Total Pages: 332

Go To